Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

کالم

ٹوٹا ہوا تارا ( 2)

Published

on

قائداعظم کی رحلت کے بعد لیاقت علی خان کا قتل سکیورٹی سٹیٹ کی تخلیق کی طرف پہلا قدم تھا، منصوبہ کے عین مطابق برطانیہ نے پہلے چند برسوں میں ہی ملک بنانے والی قومی لیڈر شپ کو بدنام کرکے ٹھکانے لگانے کے بعد سرزمین بے آئین کو اُن فوجی جرنیلوں کے سپرد کر دیا جو مغربی استعمار کے عالمی مقاصد کی تکمیل کے لئے تیار تھے۔

ایوب خان نے دس سالہ دور حکمرانی میں مقبول سیاسی قیادت کو کچلنے کے علاوہ دو ایسے کام کئے جو سقوط بنگال کی بنیاد بنے، ایک تو اس نے چھوٹے قد کو جواز بنا کر بنگالیوں کی فوج میں بھرتی روک دی اور انہیں طاقت کے بنیادی ڈھانچے سے دور رکھا، دوسرے تربیلا اور منگلا ڈیموں کی تعمیر کے دوران دانستہ مغربی پاکستان کے مزدوروں کی تین روپے اور بنگالی مزدور کی ڈھائی روپے یومیہ اجرت مقرر کرکے دس سال تک ذہنی تفریق کی زہریلی فصل کاشت کی۔

بنگال کے سابق گورنر، جنرل اعظم خان نے اپنی سوانح میں لکھا، جب میں نے ایوب خان کو بنگالیوں کی کسمپرسی کے بارے میں بتایا تو ان کا جواب تھا ”یہ بنگالی۔۔۔ ہیں، انہیں بھوکا رکھو۔ہماری مقتدرہ کا یہ رویہ دراصل بنگالیوں کو علیحدگی کی طرف دھکیلنے کی اسی سکیم کا حصہ تھا، جسے برطانیہ نے ہندوستان چھوڑنے کے بعد پہلی تین دہائی میں عملی جامہ پہنانا تھا، چنانچہ استعمار کی ایما پر اس منصوبہ کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ ہٹائی گئی۔

حسین شہید سہروردی آخری بنگالی لیڈر تھے جو مشرقی پاکستان کو متحد رکھ سکتے تھے،انہیں بیروت میں قتل کر دیا گیا، پنجاب میں بائیں بازو کے سیاسی کارکنوں کو چن چن کے مارا گیا۔سندھی لیڈر شپ اور بلوچ سرداروں سے سختی سے نمٹنے کے علاوہ بھابڑہ میں سرخ پوشوں کے قتل عام جیسے سانحات کے ذریعے سیاسی تشددکی آبیاری کی گئی،مملکت کی آزادی کی ماہیت اور قومی پالیسی پر سوال اٹھانے والے شعراء،ادیبوں اور صحافیوں کو اذیتیں دینے کے علاوہ سرخ انقلاب کا ہوّا کھڑا کرکے ایسی مذہبی تحریکیں برپا کی گئیں جو کیمونزم کی مخالفت کے جنون میں مغربی استعمار کی ہر پالیسی کی حمایت پر کمربستہ ہو گئیں۔

اسی الٹ پھیر میں ہمارے معاشرے میں ایسی مصنوعی نظریاتی کشمکش کو وجود ملا جس نے عالمی طاقتوں کی سازشوں کو نقاب ابہام فراہم کیا، مذہبی قوتیں اسلامی انقلاب کے نعروں کی گونج میں اسٹبلشمنٹ کی حمایت میں آگے بڑھتی چلی گئیں۔تقسیم بنگال کے وقت سی آئی اے نے جرائم پیشہ گروہوں کی مدد سے بنگال میں کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کی طرز پر ایسا ہولناک تشدد پروآن چڑھایا،جس نے ہزاروں بیگناہوں کا خون بہاکر معاشرتی ڈھانچہ کو اجاڑنے کے علاوہ مقبول لیڈر شپ کو نگل لیا،یعنی عام آبادی کے ساتھ سیاسی اشرافیہ میں بھی جہالت اور بے حسی کی مطلوبہ سطح کو یقینی بنایا گیا،سوائے ان لوگوں کے جو نہ صرف امریکا کے کنٹرول میں تھے بلکہ واشنگٹن کی پالیسی پر عملدرآمد کرانے میں بھی شامل تھے۔

قصہ کوتاہ عالمی طاقتوں کی معاونت سے ایک طرف بائیں بازو کی پروگریسو جماعتوں،سیاسی کارکنوں،دانشوروں، صحافیوں اور سماجی ماہرین کو ریاستی قوت سے دبایاگیا، دوسری طرف استعماری سرمایہ سے یہاں دائیں بازو کے دانشوروں پہ مشتمل ایسی مراعات یافتہ کلاس پیدا کر لی گئی، جو عالمی ایجنڈے کی تکمیل اور خارجی مقصد کی خاطر زندہ انسانوں کو استعمال کرنے میں مفاد ڈھونڈنے لگی۔چنانچہ پچھلے 70 برسوں میں لڑی جانے 6 جنگوں خاص طور پر افغانستان میں روس کے خلاف طویل گوریلا جنگ اور 20 برسوں پر محیط امریکہ کی جنگ دہشتگردی میں لاکھوں انسانوں کو استعمال کرکے پورے خطے کو عالمی کشمکش کا میدان بنانا بھی مشرق بعید پر امریکی تسلط قائم کرنے کے ایجنڈے کا حصہ تھا ۔تاہم افغانستان سے امریکی افواج کے ذلت آمیز انخلاءکے بعد بلآخر آزادی کی وہ صبح نور طلوع ہوگئی،جس کی امید پر اسلامیانِ ہند نے آزاد مملکت کا خواب دیکھا تھا۔

علی ہذالقیاس ”مشرقی پاکستان، ٹوٹا ہوا تارا “میں ہمارے اجتماعی فکری و سیاسی سفر کے دوران پیش آنے والے تراشیدہ آلام اور اُن سے نمٹنے کے دوران قومی لیڈر شپ کی ذہنی کم مائیگی اور قائدانہ استعداد کو تاریخی اور عالمی تناظر میں جانچنے کی بجائے گھریلو سیاسی عداوتوں اور سماجی محرومیوں کے حوالوں سے دیکھا گیا، چودہ سو سے زیادہ صفحات میں سیاست،معاشرت، صحافت اور اجتماعی زندگی سے جڑے خیر و شر کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے منفی و مثبت کردار کی جُزئیات تک کی تفہیم کی گئی لیکن اس بساط کے عالمی کھلاڑیوں کی شاطرانہ چالوں کی طرف دیکھے بغیر اس وقت کی ہمہ گیر تنازع کے مرکزی کردار، اسٹبلشمنٹ، کا غیرمشروط دفاع اور اس کی کوتاہیوں کی پورے خشوع و خضوع کے ساتھ پردہ پوشی،زیر نظرکتاب کا مرکزی خیال ہے۔

مضامین میں مصنف نے بنگال کے ایشو کو عالمی طاقتوں کی گریٹ گیم کے تناظر میں سمجھنے کی بجائے مسائل کا حل اُن مقامی کردار کی بے ربط سرگرمیوں میں ڈھونڈنے کی کوشش کی جو بجائے خود عالمی پاور پالیٹیکس کی حرکیات کا شکار تھے،بلاشبہ وہ سیاستدانوں ،ججز اور مذہبی علماءسے بھی ملے لیکن مصنف نے زیادہ توجہ طلبہ، صحافیوں، مزدروں حتی کہ سائیکل رکشہ پُلر کی نہایت محدود سوچ اور اندھے احساسات سے اثر لیکر جذباتی افسانے اور شخصی المیوں کے نوحے لکھنے پہ مرکوز رکھی۔

حیرت انگیز طور پر اس وقت کی حکمراں اشرافیہ نے سب کچھ جاننے کے باوجود امریکہ کے خوف سے سقوط بنگال کی سکیم کا بھانڈا پھوڑ کر دونوں حصوں کے عوام کو حقائق بتانے سے گریز کیا،دنیا بھر میں فوجی آمریتوں اور فاشٹ حکومتوں کی بقا کی خاطر عوامی امنگوں کا خون کرنے والے امریکہ نے جس طرح 1965 کی جنگ کے دوران امداد روک کر ہمارا دفاعی نظام مفلوج کیا بالکل ویسے ہی1971 میں بھی فوجی تعاون معطل کرکے ہماری مقتدرہ کی آنکھ ،کان اور زبانیں بند کر دیں تاہم عالمی سیاست کی جدلیات اور بنگال کی علیحدگی کے منصوبہ کو عملی جامہ بہنانے کے لئے رچائے گئے سوانگ کے تینوں مرکزی اداکار یعنی جنرل یحی خان، ذوالفقار علی بھٹو اور مجیب الرحمن نے قومی مفاد کے برعکس ماسٹرز کی طرف سے سونپے گئے کردار کو پوری مہارت سے نبھانے کی خاطر عوام کو بے خبر رکھنے میں مفاد تلاش کیا،حالانکہ سوویت یونین سمیت مغرب کی عالمی طاقتوں کے علاوہ علاقائی ممالک چین، ایران اور بھارت اس حقیقت سے واقف تھے کہ عالمی کھلاڑی بنگال کو الگ مملکت بنانے کے منصوبہ کو فطری سانحہ اور حقیقی واقعہ دکھانے کے لئے جنگ کوریا کی طرح ہزاروں انسانوں کی بھینٹ چڑھانے پہ کمربستہ ہو چکے ہیں۔

چنانچہ اس وقت کی اجتماعی دانش، پرنٹ میڈیا اور لکھاریوں کو انگیج کرکے بنگال کو علیحدہ کرنے کی عالمی سازش کو دونوں حصوں کی قیادت اور عوام کے مابین داخلی جارحیت کا رنگ دینے کی کامیاب کوشش کی گئی، اس عہد کے اخبارات، جرائد اور رسالے ملکی سیاست کے روایتی کرداروں کی تلخ نوائی سے گونجتے رہے،باہمی الزام تراشی پہ مبنی بھٹو، مجیب اور بھاشانی کی شعلہ نوائی نے عوامی سطح پہ ایسی اشتعال انگیزی اور گروہی کشمکش پیدا کر دی کہ پوری قوم اصل دشمن(امریکہ/ برطانیہ)کی بجائے باہم ایک دوسرے کو مارنے لگے، قومی سطح پہ ایسا ماحول پیدا کرنے والے یحیی خان،ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب اس عظیم سانحہ کے ممکنہ بینفشری تھے، جنہوں نے مسلمانوں کی اجتماعی تذلیل اور ہزاروں انسانی جانوں کی قیمت پہ ایسا مہمل اقتدار حاصل کیا جو بلآخر تینوں کی تباہی کا وسیلہ بنا۔

مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر ،کتاب کے مصنف نے 2000 میں انڈین اخبار کی طرف سے اُس حمود الرحمن کمشن رپوٹ کے کچھ حصے شائع کرنے کو بھی مقتدرہ پر حملہ قرار دیا جس کی اشاعت کا مطالبہ پوری قوم 50 برسوں سے کرتی آ رہی ہے۔لکھتے ہیں”انڈیا ٹو ڈے نے حمودالرحمن کمشن کی رپوٹ شائع کرکے پاکستان پہ نہایت کاری ضرب لگائی بھارت کا بنیادی مقصد ہماری فوج کا امیج خراب کرنا اور اسے عالمی تنقید کا نشانہ بنوانا تھا تاکہ وہ اصلاحات کا قومی ایجنڈا مکمل نہ کر سکے اور کشمیر کا تنازع پس منظر میں چلا جائے،اس کا خیال تھا کہ اس رپوٹ کے شائع ہوتے ہی پاکستان میں فوج کے خلاف طوفان اٹھ کھڑا ہو گا تمام سیاسی جماعتیں اور مذہبی شخصیتیں یکجان ہو کر فوجی حکومت پہ ٹوٹ پڑیں گی اور یوں خانہ جنگی کا سماں پیدا ہو جائے گا،ایسے میں جنرل مشرف اپنی قوم کے سامنے ٹھہر سکیں گے نہ اقوام متحدہ میں کسی کو منہ دیکھا سکیں گے۔خدا شکر کہ ایسی کوئی ہیجانی کفیت پیدا نہیں ہوئی“۔

ملک محمد اسلم اعوان سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں، افغانستان میں امریکا کی طویل جنگ کی گراؤنڈ رپورٹنگ کی، قومی سیاسی امور، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر لکھتے ہیں، افغانستان میں امریکی کی جنگ کے حوالے سے کتاب جنگ دہشتگردی، تہذیب و ثقافت اور سیاست، کے مصنف ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین