Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

خواتین

کیا آپ مستقل نفسیاتی دباؤ کا شکار تو نہیں رہتے؟اگر ہاں، تو دباؤ کم کیسے کریں

Published

on

مہنگائی، معاشرے میں آئے روز پھیلتی عدم برداشت اور سوشل میڈیا پر لوگوں کا جینا حرام کر دینے والے عناصر، چوبیس گھنٹے خبروں کا سیلاب، ذاتی اور پیشہ ورانہ مشکلات، یہ سب اسباب ایسے ہیں  جو نفسیاتی   دباؤ پیدا کرتے ہیں ۔

ماہرین کہتے ہیں کہ  دباؤازخود برا نہیں، جیسے ورزش کرتے ہوئے آپ اپنے پٹھوں پر  دباؤ ڈالتے ہیں یہ فائدہ مند ہے، صحت مند لوگوں میں کچھ وقت کے لیے کوئی ذہنی   دباؤبھی خطرناک نہیں لیکن اگر کوئی مسلسل  تناؤکی کیفیت کا شکار رہے ، خاص طور پر بزرگ یا بیمار افراد  تو اس   دباؤ  کے طویل مدتی اثرات سے بڑے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

کیا دباؤ آپ کو بیمار کر سکتا ہے؟

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ  دباؤ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ کو کسی نئی، غیر متوقع یا دھمکی آمیز صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آپ نہیں جانتے کہ آپ اسے کامیابی سے سنبھال سکتے ہیں یا نہیں ۔

جب آپ جسمانی یا جذباتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو آپ کا جسم لڑائی یا فرار کے موڈ میں آجاتا ہے۔ جسم میں کورٹیسول تیزی سے دوڑتا ہے جو جسم کو گلوکوز جاری کرنے کا اشارہ دیتا ہے۔ گلوکوز پٹھوں کو توانائی فراہم کرتا ہے تاکہ آپ لڑنے یا بھاگنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں۔ جسم میں  کورٹیسول کی اس تیز رفتار حرکت سے دل کی دھڑکن بڑھ سکتی ہے، سانسیں تیز ہو سکتی ہیں ، چکر آ سکتے ہیں یا متلی محسوس ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کو واقعی کسی سے  لڑنے یا بھاگنے کی ضرورت ہے، تو تنازع ختم ہونے کے بعد آپ کی کورٹیسول کی سطح واپس آ جائے گی۔ جب آپ دائمی طور پر دباؤ میں رہتے ہیں تو کورٹیسول کی سطح بھی مسلسل بلند رہتی ہے۔

اس مسلسل تناؤ اور کورٹیسول کی  بلند سطح صحت کے لیے کئی خطرے بڑھا دیتی ہے جیسے کہ امراض قلب، ذیابیطس اور معدے کے دائمی مسائل۔ تناؤ اضطراب، چڑچڑا پن، ناقص نیند اور ٹینشن کا بھی سبب بن سکتا ہے۔

دباؤ کیسے کم کریں

دباؤ کم کرنے کے بہت سے طریقے ہیں، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا مشورہ ہے کہ روزمرہ کے معمولات برقرار رکھیں، کافی نیند لیں، صحت بخش غذا کھائیں، خبروں اور سوشل میڈیا پر وقت کم کر کے دوسروں کے ساتھ براہ  راست میل جول کریں، مراقبہ اور گہری سانس لینے جیسے طریقے بھی معاون ہیں  اور سب سے کامیاب  طریقہ جسمانی سرگر می ہے۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ نفسیاتی دباؤ پر قابو پانے کے لیے ورزش سب سے مؤثر ہے، ورزش اس وجہ کو تو دور نہیں کر سکتی جو تناؤ کا سبب بن رہی ہے لیکن موڈ کو بہتر بناتی ہے، تناؤ کم کر سکتی ہے اور نیند کو بڑھا سکتی ہے۔

عائشہ عمران لاہور سکول آف اکنامکس میں بی بی اے کی سٹوڈنٹ ہیں، کنیئرڈ کالج میں بھی زیرتعلیم رہیں، سائیکالوجی، میڈیا مارکیٹنگ، ڈیٹا الیسز ان کی خصوصی دلچسپی کے مضامین ہیں ۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین