Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

جی20 وزارتی اجلاس،چین، ترکی، سعودیہ کا بائیکاٹ، سرینگر جیل میں تبدیل، سیکڑوں گرفتار،اس کو معمول کے حالات نہیں کہتے، دکن ہیرالڈ

Published

on

دنیا کے بیس امیر ملکوں کے گروپ جی 20 کا سیاحت سے متعلق اجلاس مقبوضہ کشمیر کے داراحکومت سرینگر میں سخت سکیورٹی میں شروع ہوگیا۔ فرانسیسی میڈیا نے اس اجلاس کی خبر دیتے ہوئے لکھا کہ  اس اجلاس کے ذریعے بھارت دنیا کو یہ جتانا چاہتا ہے کہ کشمیر میں علیحدگی کی کوئی تحریک نہیں اور حالات معمول پر ہیں۔

چین اور پاکستان نے سرینگر میں کثیرالقومی اجلاس بلانے کی مذمت کی ہے اور چین نے گروپ کا رکن ہونے کے باوجود اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے۔

کشمیر میں کئی دہائیوں سے بھارت سے علیحدگی اور آزادی کی تحریک چل رہی ہے اور لاکھوں کشمیری اب تک اس مقصد کے لیے شہید ہو چکے ہیں۔ بھارت کے بھی سیکڑوں فوجی اس تحریک کو کچلنے کی کوششوں میں مارے جا چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی اور فرانسیسی ٹی وی فرانس 24 نے لکھا کہ بھارت غیرملکی حکام کو دکھانا چاہتا ہے جسے ’ بھارتی حکام معمول کے حالات اور امن‘ قرار دیتے ہیں، وہ معمول کے حالات اور امن جو 2019 میں کشمیر کا جداگانہ تشخص چھیننے کے بعد لاک ڈاؤن کے ذریعے بحال کرنے کی کوشش کی گئی۔

فرانسیسی میڈیا کا کہنا ہے کہ 2019 کے بعد سے اب تک علیحدگی پسندوں کو کافی حد تک کچل دیا گیا ہے تاہم نوجوان اب بھی ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں اور سالانہ ہلاکتیں جو ہزاروں میں ہوتی تھیں، اب کم ہوئی ہیں اور پچھلے سال ہلاکتوں کی تعداد 253 رہی۔

اب بھارت اس خطے کے شاندار پہاڑی مناظر اور ایئرپورٹ پر’ جنت ارضی‘ کے بورڈ لگا کرسیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پچھلے سال دس لاکھ بھارتی شہری یہاں سیاحت کے لیے آئے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق اختلاف رائے کو جرم قرار دیا گیا ہے، میڈیا کی آزادیوں پر قدغن لگا دی گئی ہے اور عوامی احتجاج کو محدود کر دیا گیا ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے شہری آزادیوں پر کڑی پابندیاں عائد ہیں۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق پولیس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ “جی 20 میٹنگ کے دوران دہشت گردانہ حملے کے کسی بھی امکان سے بچنے کے لیے” سیکورٹی کو بڑھا دیا گیا ہے، اور پیر کو سری نگر میں متعدد مقامات پر فوجیوں اور بکتر بند گاڑیوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ لیکن بہت سی چوکیاں جو اس سے پہلے دھاتی جالیوں اور خاردار تاروں میں لپٹی ہوئی تھیں کو راتوں رات ختم کر دیا گیا تھا، اور  اشتہاری پینلز کے پیچھے چوکیاں بنائی گئیں۔

تین روزہ اجلاس سری نگر میں ڈل جھیل کے کنارے ایک وسیع و عریض، اور کڑے حفاظتی انتظامات سے گھرےمقام پر ہوگا۔ اجلاس میں ہندوستانی حکومت کے دو وزراء شرکت کر رہے ہیں، لیکن کئی مغربی ممالک صرف مقامی طور پر سفارتی عملہ بھیج رہے ہیں۔

جی 20 کے رکن چین، جس کے بھارت کے ساتھ اپنے علاقائی تنازعات ہیں، نے شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے، اور ترکی یا سعودی عرب سے کسی وفد کی توقع نہیں ہے۔

بھارت کا اپنا میڈیا ان سخت حفاظتی انتظامات میں جی 20 وزارتی اجلاس پر تنقید کر رہا ہے، دکن ہیرالڈ نے لکھا کہ کیا مودی سرکار یہ سوچتی ہے کہ سیاحت کو بند کانفرنس ہالز میں ایک خوبصورت جھیل کے ساتھ مل کر فروغ دیا جا سکتا ہے جس پر نگرانی کرنے والے ڈرونز کے ساتھ میرین کمانڈوز گشت کر رہے ہیں۔ اس طرح کے اسٹیج ہونے والے واقعات یہ واضح کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر (جموں و کشمیر) میں حالات معمول سے بہت دور ہیں۔

کشمیر کا دورہ کرنے کے لیے، غیر ملکی صحافیوں کو خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے، جو کہ عام طور پر نہیں متی، اس اجلاس کے لیے اجازت نامے صرف سرینگر تک محدود ہیں اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی ہے کہ ہندوستان مخالف بیانئے کا پرچار نہ کیا جائے۔

ہندوستان جی 20 کا صدر ہے اس لیے وہ ملک میں 100 سے زیادہ اجلاسوں کا پروگرام بنائے ہوئے ہے۔

بیجنگ ریاست اروناچل پردیش کو تبت کا حصہ قرار دیتا ہے اور کشمیر کو بھی متنازع علاقہ سمجھتا ہے۔بیجنگ نے لداخ اور اروناچل پردیش میں ہونے والے پروگراموں سے دور رہنے کا اعلان کیا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ چین متنازع علاقے میں جی 20 اجلاس کی کسی بھی شکل کے انعقاد کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور ایسے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرے گا۔

پچھلے ہفتے اقلیتی امور پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے، فرنینڈ ڈی ورینس نے کہا کہ نئی دہلی جی 20 اجلاس کو ایسی صورت حال پر “منظوری کی بین الاقوامی مہر کی تصویر کشی” کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس کی “مذمت اور مذمت کی جانی چاہیے”۔

فرانسیسی خبر ایجنسی کے مطابق ایک سینئر بھارتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سیکڑوں کشمیریوں کو اس اجلاس سے پہلے تھانوں میں حراست میں رکھا گیا ہے اور دکانداروں سمیت ہزاروں کشمیریوں کوحکام کی جانب سے کالز موصول ہوئی ہیں جن میں کسی بھی “احتجاج یا پریشانی کے آثار” کے خلاف انتباہ کیا گیا ہے۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین