Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

دنیا

سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، بورس جانسن نے پارلیمنٹ رکنیت چھوڑ دی

Published

on

برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن نے وزارت عظمیٰ کے دوران اپنے روئیے کے متعلق ہونے والی تحقیقات پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کیا ہے، بورس جانسن کا یہ اعلان اگلے سال پارلیمانی الیکشن سے پہلے کنزرویٹو پارٹی کے اندر پیدا دراڑ کو مزید گہرا کرے گا۔

بورس جانسن کے وزارت عظمیٰ کے دوران رویئے کی پارلیمانی کمیٹی تحقیقات کر رہی تھی ان تحقیقات کا بنیادی نکتہ لاک پارٹیز تھیں جو کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں ہوئیں، پارلیمانی کمیٹی نے اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کیا بورس جانسن نے ہاؤس آف کامنز کو ان  پارٹیز سے متعلق گمراہ کیا؟

بورس جانسن نے پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے تفتیش کا خفیہ خط ملنے پر تحقیقاتی کمیٹی کے رکن پارلیمینٹیرینز پر ‘ کنگرو کورٹٌ’ کی پھبتی کسی اور کہا کہ یہ کمیٹی ان کے سیاسی کیرئیر کو ختم کرنا چاہتی ہے۔

بورس جانسن نے کمیٹی پر ‘ سیاسی ہٹ جاب’ کا الزام عرائد کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ مجھے چند مٹھی بھر، جن کے دعووں کا ان کا پاس کوئی ثبوت نہیں، لوگ زبردستی نکال رہے ہیں۔

پارلیمان کی استحقاق کمیٹی، جو پارلیمنٹ کی بنیادی ڈسپلنری کمیٹی ہے، کے پاس اختیار ہے کہ وہ بورس جانسن کی پارلیمان کی رکنیت معطل کر دے۔

بورس جانسن نے اشارہ دیا کہ وہ سیاست میں واپس آئیں گے، انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وقتی طور پر پارلیمنٹ چھوڑ رہے ہیں۔

بورس جانسن کا پارلیمان سے استعفیٰ ان کے 22 سالہ سیاسی کیریئر کا خاتمہ ثابت ہو سکتا ہے، بورس جانسن لندن کے میئر سے برطانیہ کی وزارت عظمیٰ تک پہنچے اور برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی مہم کے بانی تھے۔

بورس جانسن کی وزارت عظمیٰ کی مدت ان کی اپنی جماعت کے ارکان نے پوری نہ ہونے دی اور انہیں کووڈ لاک ڈاؤن کے قوانین توڑنے پر گھر جانا پڑا۔

بورس جانسن نے پارلیمان چھوڑنے کے اعلان میں کہا کہ بریگزٹ کا بدلہ لینے کے لیے انتقامی کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور میں اس سوچ میں اکیلا نہیں۔ یہ انتقامی کارروائی 2016 کے ریفرنڈم نتائج کو واپس تبدیل کر نے کے لیے ہے۔

بورس جانسن کے حوالے سے تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ لیبر پارٹی کے سینئر رکن ہیں تاہم اس کمیٹی کے ارکان کی اکثریت کنزرویٹو پارٹی سے ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ سوموار کو اجلاس میں انکوائری کا نتیجہ تیار کر کے عام کردیا جائے گا۔کمیٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ جانسن نے اپنے استعفیٰ کے اعلان میں پارلیمنٹ کی سالمیت کو مجروح کیا۔

بورس جانسن کے استعفیٰ کے بعد ان کے حلقہ انتخاب ویسٹ لندن میں ضمنی الیکشن ہوگا۔

محمد علی عمران لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز ( لمز) میں معیشت کے طالب علم اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں۔ ملک کی سیاسی صورتحال اور عالمی منظرنامے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ مختلف سماجی و معاشی مسائل پرلکھتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین