Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

دنیا

بڑھتا درجہ حرارت، غیرمعمولی گرم سمندر، انٹارکٹک پر برف کم، کاربن کا اخراج، سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی

Published

on

بڑھتا ہوا درجہ حرارت، غیر معمولی طور پر گرم سمندر، فضا میں کاربن آلودگی کی بلند ترین سطح اور انٹارکٹک برف کی کم سطح، ابھی 2023 کے نصف میں ہیں اور بہت سے موسمیاتی ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔کچھ سائنس دانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اور خدشہ ظٓاہر کیا ہے کہ یہ سب سیارے کے توقع سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ گرم ہونے کی علامات ہیں۔

یونیورسٹی آف میامی کے روزنسٹیل سکول آف میرین سے وابستہ سینئر ریسرچ ایسوسی ایٹ برائن میک نولڈی کی ایک ٹویٹ بڑے پیمانے پر سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہی ہے جس میں انہوں نے ہوا اور سمندر کے  تیزی سے بڑھتے درجہ حرارت کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔

برائن میک نولڈی نے درجہ حرارت سے متعلق چارٹس شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جو لوگ ان چارٹس کو مستقل بنیادوں پر دیکھتے ہیں انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا، کچھ بہت ہی عجیب ہو رہا ہے۔

چند اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ریکارڈز تشویشناک ہیں کیونکہ سیارے کی حرارتی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے رجحان ال نینو کی وجہ سے بھی درجہ حرارت بڑھتا ہے اس لیے یہ سب غیرمتوقع نہیں۔

ییل سکول آف انوارنمنٹ سے وابستہ ریسرچ سائنسدان جینیفر میرین نے کہا کہ یہ تبدیلیاں واقعی پریشان کن ہیں، جب تک ہم کاربن کے اخراج کو کم نہیں کرتے، اس موسم گرما اور آنے والے ہر موسم گرما میں یہ لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث رہے گا۔

دنیا صنعتی دور میں داخل ہونے سے پہلے کے دور کی نسبت 1.2 ڈگری زیادہ گرم ہے اور اگلے پانچ سال میں اس کے مزید گرم ترین ہونے کی پیشگوئی ہے۔

یونیورسٹی آف کولوراڈو سے وابستہ ماہر ارضیات ٹیڈ سکیمبوس کہتے ہیں کہ ماحولیات اور موسمیاتی سائنس سے منسلک سائنس دان ایک عرصے سے خبردار کر رہے تھے کہ اگلے چند عشروں میں دنیا مزید گرم ہوجائے گی۔

دنیا کا درجہ حرارت بہت بڑھ چکا لیکن ابھی آنے والے مہینوں میں یہ درجہ حرارت مزید بڑھے گا۔ اس سال جون میں پہلی بار ہوا کا درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے زمانے کی نسبت 1.5 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

سمندروں کی سطح جس تیزی سے گرم ہو رہی ہے اس نے سائنسدانوں کو حیران کردیا ہے، مارچ میں سمندروں کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوا اور اپریل میں حیران کن ریکارڈز قائم کرگیا۔ مئی سمندروں کے درجہ حرارت کے حوالے سے گرم ترین مہینہ تھا۔

انٹارکٹک سمندر  میں برف کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، فروی کے آخر میں سمندری برف 1970 کے بعد کی کم ترین سطح پر تھی جو 6 لاکھ 91 ہزار مربع میل تھی۔انٹارکٹک میں اب موسم سرما شروع ہو چکا ہے لیکن برف رریکارڈ کم ترین سطح پر ہے۔

ٹیڈ سکیمبوس کہتے ہیں انٹارکٹک میں طرف کی کم ترین سطح ایک حیرمعمولی اور خطرناک رجحانم ہے، اس وقت انٹارکٹک کی برف 3 لاکھ 86 ہزار مربع میل ہے جو اس موسم میں اس سے زیادہ ہونا چاہئے تھی۔

پچیس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، اردو کرانیکل کے ایڈیٹر ہیں، اس سے پہلے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے مختلف حیثیتوں سے منسلک رہے، خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر رہے، ملکی اور بین الاقوامی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں، ادب اور تاریخ سے بھی شغف ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین