Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

انصاف کے حصول میں سات سال کیوں لگے؟ دلچسپ کہانی

Published

on

قانون کیسے کام کرتا ہے، کیسے اپنا راستہ لیتا ہے؟

اس کی زندہ مثالیں ملک کے کونے کونے میں بکھری ہوئی ہیں۔ یہ بات کس قدر حیرت انگیز ہے کہ قانون اپنا راستہ لینے میں درجن بھر سال تو لگا ہی دیتا ہے، وہ بھی بھٹکی ہوئی راہ پر! صحیح مقصد، حقیقت تک خال خال ہی پہنچ پاتا ہے۔ ایسا ہی ایک “قانونی نقطہ” گوادر سے کراچی، کراچی سے اسلام آباد تک “بھٹکتا” رہا۔ صراطِ مستقیم پھر نہ ملی۔

یہ تو آپ سب نے سن رکھا ہے کہ کبھی کبھار بجلی کا بل، میٹر لگنے سے پہلے پہنچ جاتا ہے۔ لیکن ایسا شاید نہ سنا ہو کہ کروڑوں روپے کے ٹیکسوں کا نوٹس کاروبار کرنے سے پہلے پہنچ گیا ہو۔ وہ بھی سرکاری زمین پر کاروبار کے ٹیکس کا نوٹس۔

حیرت انگیز بات، بیوروکریسی کی اس اہم کوتاہی کو دور کرنے میں سات سال لگے، یعنی قانون کو صحیح راستہ لینے میں سات برس لگے۔

قصہ یوں ہے، ایک نجی کمپنی نے ایک بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے 74 ایکڑ اراضی لیز پر لی، کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد زمین 30 سالہ لیز پر دے دی گئی، بعد میں پتہ چلا کہ بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی تواس رقبے کی مالک ہے ہی نہیں۔ اصل مالک تو پاکستان ٹور ازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ہے۔ بولی جیتنے والا شخص قبضہ لینے ٹور ازم کارپوریشن کے پاس گیا۔ کارپوریشن کےحکام بولے: “آدھی زمین کا کیا کرو گے، ٹینڈر بھرو، جیت گئے تو پوری زمین مل جائے گی۔” امیدوار نے ٹینڈر بھرا، قسمت نے ساتھ دیا اور ٹینڈر جیت لیا۔ مگر ٹور ازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے سات برس تک قبضہ نہ دیا۔

ادھر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی آنکھ کھل گئی۔ پتہ نہیں کہاں سے اسے پتہ چلا کہ اس بندے نے زمین پر بزنس کے ذریعے اربوں روپے کما لئے ہیں۔ چنانچہ اسے 65 کروڑ روپے کے ٹیکس کا نوٹس بھجوا دیا۔ وہ شخص سر پٹختا ہوا وفاقی ٹیکس محتسب، ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے پاس حاضر ہوا، کارروائی شروع ہوئی تو ایف بی آر ڈٹا رہا کہ ٹیکس تو دینا پڑے گا۔ کیونکہ اس نے ٹیکس ختم کرنے کی درخواست تاخیر سے دی ہے۔ اس لئے ٹیکس تو ختم نہیں ہو گا۔

ہوا یوں کہ، میسرز ایم کے پاکستان نامی کمپنی برس ہا برس سے حکومتِ پاکستان اور اس کے بعض اداروں کے ساتھ کاروبار کر رہی تھی۔ ایف بی آر کے کسی اہل کار نے انکم ٹیکس آرڈیننس، 2001 کی شق 122(5A) کے تحت اس کے کھاتے کھولے، جم کر آڈٹ کیا۔ فائلیں دیکھ کر اہلکار کا دل باغ باغ ہوا۔ سوچتا ہو گاکہ، “بلے بھئی بلے، اتنے نوٹ کمائے اور ٹیکس صفر۔ یہ کیا مذاق ہے۔” یہ سوچتے ہوئے اہلکار نے سال 2015 کیلئے 64 کروڑ 98 لاکھ روپے کے ٹیکس کا نوٹس بھجوا دیا۔ بزنس مین نے محکمے کو جواب دیا مگر عملے کو پسند نہ آیا۔ اہلکار نے اس کے بینک اکائونٹ کو اٹیچ

فائز الٰہی میمن

کر کے 2021ء میں ساڑھے 9 لاکھ روپے ضبط کر لئے۔

کمپنی کا مالک ایف بی آر کے افسران کو ملا۔ اور کہاکہ، “سر، آپ نے جس زمین کے استعمال کا ٹیکس مانگا ہے، وہ رقبہ سرکار کے  پاس ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس 1990ء کی شق 140 کے تحت مجھ سے مانگا گیا 65 کروڑ روپے کا ٹیکس ناجائز، بے بنیاد ہے، غیر قانونی ہے۔ واپس لیا جائے۔” اہلکار و افسران نہ مانے۔ کہنے لگے، “ٹیکس تو دینا پڑے گا۔”

یہ داستانِ الف لیلہ ہے کیا؟

بزنس مین برس ہابرس سے حب (بلوچستان) اور پورٹ قاسم (کراچی) میں سرکار کی مدد سے پراجیکٹس چلا رہا ہے۔ ایک روز ان کی نگاہ بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (BCDA) کی ویران زمین پر پڑی۔ سوچا، کیوں نہ یہ 74 ایکڑ رقبہ گڈانی فش ہاربر کیلئے 30 سالہ لیز پر لے لیا جائے۔ انہوں نے گڈانی فش ہاربر کے 74 ایکڑ رقبے پر سمندری خوراک کی افزائش کا ایک منصوبہ حکومت کو پیش کیا۔ لیز مل جاتی تو ترقی میں حکومت بھی شریک ہوتی۔ ناکامی کی صورت میں نتائج انہوں نے اکیلے ہی بھگتنا تھے۔

یہاں کہانی ایک نیا موڑ لیتی ہے؛

حکومت بلوچستان کو اچانک پتہ چلتا ہے کہ جو قطعہ اراضی اس نے لیز پر دے دیا ہے وہ اس کی ملکیت نہیں ہے۔ اس رقبے کی مالک پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PTDC) ہے۔ جو سہواً نجی کمپنی کو 30 سالہ لیز پر الاٹ کر دیا گیا۔ نجی کمپنی کا مالک 74 ایکڑ رقبے کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پی ٹی ڈی سی سے رجوع کرتا ہے۔ پی ٹی ڈی سی کے حکام اسے نئی بولی کی راہ پر ڈال دیتے ہیں۔ اس مرتبہ گڈانی فش ہاربر کی تمام، یعنی 172 ایکڑ زمین کی بولی لگی جو انہوں نے جیت لی۔ مگر کہانی وہیں رکی رہی۔ کامیاب بولی کے باوجود پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PTDC) نے رقبہ منتقل کرنے سے گریز کیا۔ نجی کمپنی کا مالک در بدر بھکٹکتا رہا۔ کبھی ایک در تو کبھی دوسرا۔ قسمت کی دیوی کئی سال بعد مہربان ہوئی، جب 2021ء میں ان کے حق میں فیصلہ ہوا۔

قانون کو راستہ پھر بھی نہ مل سکا؛

پی ٹی ڈی سی نے قانونی جنگ ہارنے کے باوجود، زمین کا قبضہ نہیں دیا۔ تھوڑا مزید خون پسینہ بہانے کی ضرورت تھی۔ مسئلہ حل نہ ہونے پر انہوں نے 22 مارچ 2023ء کو وفاقی ٹیکس محتسب، ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو ایک عرضی بھیجی۔ لکھا تھا، “65 کروڑ روپے کا ٹیکس آ گیا ہے، لیکن زمین نہیں ملی، محکمے نے حقائق کو جانے بغیر، اس معاشی سرگرمی کا ٹیکس طلب کیا ہے جو میں نے سرانجام نہیں دیں۔ جس سے میرا سکون غارت ہو گیا ہے۔ کمشنر آئی آر (اپیلز-1) کراچی نے

وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف جاہ

ٹیکس معافی کی عرضی یہ کہہ کر مسترد کردی کہ میں نے محکمے سے پہلے رجوع کیوں نہیں کیا۔”

اس شکایت پر وفاقی ٹیکس محتسب نے ایف بی آر سے جواب طلب کیا۔ جواباً، کمشنر اِن لینڈ ریونیو انفورسمنٹ 11ٹو، ایم ٹی او، کراچی نے لکھا کہ، ٹیکس ختم کرنے کی درخواست مسترد ہونے کے بعد 10جون 2021ء کو ریکوری کی کارروائی شروع ہو چکی ہے اسے ریورس گیئر نہیں لگایا جا سکتا۔ 65 کروڑ روپے تو دینا پڑیں گے۔

ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے محکمے کا موقف تسلیم نہیں کیا۔ آپ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ، اہل کاروں نے زمینی حقائق اور میرٹ کو مد نظر رکھے بغیر، اپیل مسترد کر دی۔ اس ضمن میں متعلقہ قانونی حوالہ ہمیں سپریم کورٹ کے کیس نمبر پی ٹی سی ایل 354 (1998)، میسرز فائزر لیبارٹریز لمیٹڈ بمقابلہ فیڈریشن آف پاکستان و دیگر میں ملتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے حکم دیا ہے کہ، “اپیل کنندہ کا دعویٰ تاخیر سے داخل کرنے کی بنیاد پر رد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ آئین کا آرٹیکل 24(1) کہتا ہے کہ، کسی شخص کو اس کی ملکیتی جائیداد/ حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔” وفاقی ٹیکس محتسب، ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے حکم دیا کہ، “اکائونٹ کو اٹیچ کر کے ٹیکس کٹوتی عدالتِ عظمیٰ کے مذکورہ فیصلے کے منافی ہے۔ بینک اکائونٹ سے زبردستی نکالے گئے لاکھوں روپے فی الفور واپس کئے جائیں، اور عدالت عظمیٰ کے طے کردہ قانونی ضابطے کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔

یہ معافی کی درخواست کیا ہوتی ہے؟

ایف بی آر نے ایک قانون بنا رکھا ہے کہ انکم ٹیکس یا سیلز ٹیکس تاخیر سے جمع کرانے کی صورت میں ہر دن کی تاخیر کا سبب بیان کرنا لازم ہے۔ لیکن ا س کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی کو اس کے جائز حق سے محروم کر دیا جائے۔ اس لئے یہاں ایک اور واقعہ بیان کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ ایک صاحب نے اتوار کے روز ریٹرن جمع کرانے کی کوشش کی۔ جو کہ ٹیکس جمع کرانے کا آخری دن تھا۔ قانونی طور پر چھٹی یا اتوار ہونے کی صورت میں اگلے ورکنگ ڈے کو بل جمع کرانا بھی درست تصور ہوتا ہے لیکن ایف بی آر کے انٹرنیٹ سسٹم نے اتوار کے روز ریٹرن اپلوڈ نہیں ہونے دی۔ اگلے دن، سوموار کو ایک دن زیادہ ہو گیا۔ اس ایک دن کی تاخیر کی معافی متعلقہ افسر سے لینا ضروری ہوتا ہے۔ متعلقہ افسران نے درخواست پر بروقت فیصلہ نہیں کیا اور طویل عرصہ گزر گیا۔ ایک دن کی تاخیر کا کیس کئی برس کی تاخیر میں بدل گیا۔ محکمے نے متعقلہ شخص کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ وفاقی ٹیکس محتسب کی مداخلت پر انہیں یہ کارروائی روکنا پڑی۔ یوں سائل کو اس کا حق مل گیا۔

صہیب مرغوب قومی صحافت کا اہم نام ہیں، 36 برس روزنامہ جنگ کے انچارج میگزین اور ایڈیٹر میگزین رہے۔ساڑھے چار برس روزنامہ دنیا کے میگزین ایڈیٹر رہے۔ ہفتہ وار میگزین میں متنوع موضوعات پر ہزاروں مضامین لکھے ۔بین الاقوامی امور اور بھارت کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین