Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

شاندار گاڑیاں،دیدہ زیب لباس، ملتانی کھسے، ہاتھ کی چھڑی، قائد اعظم کے زیراستعمال اشیا کی شان و شوکت آج بھی برقرار

Published

on

مزارقائد سے متصل ایوان نوادرات میں بانی پاکستان کے زیراستعمال نادرونایاب اشیا آج برسوں گذرنے کے بعد بھی دیکھنے والے کو سحرمیں جکڑلیتی ہیں۔

محمد علی جناح کے زیراستعمال قیمتی وائٹ اوربلیک کیڈلاک اورپیکارڈ گاڑیاں روایتی شان وشوکت کے ساتھ موجود ہیں،گھریلو،دفتری فرنیچر،لباس اورجوتے بھی اعلیٰ ذوق کے آئینہ دارہیں۔

مزارقائد کی زیریں منزل، قبر کے عین نیچے واقع، ایوان نوادارات میں داخل ہوتے وقت جو پہلا احساس جو دل میں اجاگرہوتا ہے وہ یہ کہ اس مقام پرجواشیا رکھی ہوئی ہیں،وہ قطعا کسی عام فرد کی نہیں ہوسکتیں، بلکہ یقینی طورپریہ دیدہ زیب سامان کسی منفرد شخص کی ملکیت ہی ہوسکتی ہیں۔

ان اشیا سے اعلیٰ ذوق اور نفاست چھلک رہی ہے،ایوان نوادرات میں موجود یہ سارا سامان قائد اعظم کی ہمشیرہ شیریں جناح نے سن 1985 میں آثار قدیمہ کو دیاتھا۔

جسے بعدازاں مزارقائد انتظامیہ کے حوالے کردیاگیا،قائد کے زیراستعمال سن 1938ماڈل کی ذاتی گاڑی سفید رنگ کی پیکارڈ اورسن 1947ماڈل کی سرکاری بلیک کیڈلک گاڑی برسہابرس گذرنے کے بعد بھی چمچماتی ہوئی حالت میں موجود ہے۔

گھر اوردفتری ملبوسات کے علاوہ سرکاری اورنجی محافل میں استعمال ہونے والے دیدہ زیب رنگوں کے جوتے اورملتان میں تیار ہونے والے کھسے بھی شیشے کے شوکیس میں موجود ہیں۔(واضح رہے کہ بانی پاکستان ملتان کے بنے کھسے کو انتہائی شوق سے پہنا کرتے تھے)۔

قائد اعظم زیراستعمال اشیا میں راجہ صاحب محمود آباد کا صوفہ سیٹ اورکلکتہ کے کسی تاجرکی جانب سے تحفے میں دیا گیا،بنگال ٹائیگرکی کھال بھی موجود ہے۔

شیشے کے ان شوکیسوں میں نادرونایاب تاریخی حیثیت کی ڈبل،سنگل بیرل بندوقیں،کارتوس،مختلف سائز کے چاقو وخنجر اورڈھالیں بھی نمایاں دکھائی دے رہی ہیں۔

شیشے کے عقب میں ایک دیوارپروہ چھڑی بھی موجود ہے،جودوران چہل قدمی قائد کے ہاتھ میں موجود رہتی تھی،اس چھڑی کی خوبی یہ ہے کہ اس کا دستہ پستول سے مشابہ اورہاتھی دانت سے بنا ہے۔

 

برماٹیک سے بنے دفتری فرنیچرمیں رائٹنگ ٹیبل پروہ ہاتھی دانت سے بنا قلم اورگرمی وسردی کی پیمائش کو ناپنے والا پیتل اورلکڑی سے بنا آلہ بھی موجود ہے۔

ڈائنگ ٹیبل پران کا پسندیدہ کجھورکے درخت والا ڈنرسیٹ اورہاتھی دانت کے شوپیس/ تانبے،چاندی اور لکڑی سے بنے ظروف بھی موجود ہیں۔

ایوان نوادرات میں ایک تصویرایسی بھی موجود ہے،جب قائد اعظم کی بیٹی دینا واڈیا نے سن 2004میں پاکستان آمد کے بعد مزارقائد کا دورہ کیاتھا۔

اس تصویر میں وہ اپنے والد کے زیراستعمال اشیا کو بہت ہی دلچپسی سے دیکھ رہی ہیں،دیوارپرسجی ایک نایاب بلیک اینڈ وائٹ تصویر جولائی سن 1947کی ہے جب بابائے قوم نےافتتاحی تقریب کے دوران اسٹیٹ بینک کے دروازے کا تالاکھولاتھا۔یہ سرکاری موقع قائد اعظم کی زندگی کی آخری تقریب ثابت ہوئی۔

ساجد خان کراچی کے ابھرتے ہوئے نوجوان صحافی ہیں،جو اردو کرانیکل کے لیے ایوی ایشن،اینٹی نارکوٹکس،کوسٹ گارڈز،میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی،محکمہ موسمیات،شہری اداروں، ایف آئی اے،پاسپورٹ اینڈ امگریشن،سندھ وائلڈ لائف،ماہی گیر تنظیموں،شوبز اور فنون لطیفہ کی سرگرمیاں کور کرتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین