Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

کالم

نواز شریف کا زرداری کو چیلنج اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے شاخ زیتون

Published

on

21 اکتوبر کو وطن واپسی کے بعد نواز شریف کی سیاسی پیش قدمی مسلسل جاری ہے۔ عدالتوں سے ریلیف لینے کے بعد ان کا اعتماد بحال ہوا ہے۔اور اب انہوں نے آئندہ عام انتخابات کے لئے باضابطہ سرگرمیاں شروع کردی ہیں۔

انتخابی مہم کا آغاز انہوں نے ملک کے آبادی کے لحاظ سے سب چھوٹے لیکن سٹرٹیجک طور پر سب سے اہم صوبے بلوچستان سے کیا ہے۔ نوازشریف کے اس اقدام کی کئی حوالوں سے بہت اہمیت ہے اور انہوں نے اپنے اس اقدام سے کئی فریقوں کو بالواسطہ موثر پیغام بھی دیا ہے۔

بلوچستان وہی صوبہ ہے جہاں سے  2013 کی حکومت کے قلعے سے پہلی اینٹ نکالی گئی تھی۔ اسٹبلشمنٹ کے اشارے پر مارچ 2018 میں مسلم لیگ نون اور مسلم لیگ قاف کے متعدد ارکان اسمبلی نے اپنی پارٹیوں سے بغاوت کرکے  صوبے سے نون لیگی حکومت کا خاتمہ کیا اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) بنا کر اس کی حکومت تشکیل دی۔ نون لیگ کی اس صوبائی حکومت کے خاتمے میں سابق صدر آصف علی زرداری نے اسٹبلشمنٹ کی بھرپور معاونت کی۔ میاں نوازشریف کی حکومت نے آصف زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو کئی مقدمات میں الجھا رکھا تھا۔ آصف زرداری نے بلوچستان حکومت کے خاتمے میں کردار ادا کرکے اپنے طور پر اسکور سیٹل کیا۔

جب آصف زرداری کی توقعات کے برعکس بغاوت کرنے والوں نے پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کی بجائے باپ پارٹی بنالی تو پیپلزپارٹی کی قیادت کو تب سمجھ آئی کہ اسٹبلشمنٹ نے انہیں محض استعمال ہی کیا تھا۔ اسٹبلشمنٹ نے ایک بار پھر پیپلزپارٹی سے ہاتھ کیا ہے۔

اس بار آصف زرداری کا خیال تھا کہ مقتدرہ ان سے بہت راضی ہے اور آئندہ عام انتخابات سے قبل اس کے تمام تحفے اس بار پیپلزپارٹی کی جھولی میں ڈالے جائِیں گے۔ یہ خوش فہمی بھی اس وقت دور ہوگئی جب بلوچستان کی باپ پارٹی کراچی جاتے جاتے رک گئی اور اس کے کئی لیڈر نوازشریف کے حالیہ  دورے میں نون لیگ میں شامل ہوگئے اور باپ پارٹی نے نون لیگ کے ساتھ آئندہ انتخابات مل کر لڑنے کا اعلان کردیا۔

اس سے قبل شہری سندھ کی نمائندگی کی دعویدار ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے لاہور پہنچ کر نوازشریف کے گلے میں ہار ڈال دئیے اور اگلے انتخابات کے لئے پہلے انتخابی الائنس کی بنیاد رکھ دی۔ نون لیگ اس الائنس کو مزید آگے بڑھا رہی ہے اور اس کے فالواپ میں اندرون سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف الیکشن لڑنے والی جماعتوں کے الائنس جی ڈی اے کو بھی اپنے فولڈ میں لینے جارہی ہے۔ گویا وہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف میدان تیار کررہی ہے۔ جس پر پیپلزپارٹی میں شدید ردعمل پایا جارہا ہے۔

نوازشریف کی اب تک کی دونوں سیاسی چالوں نے جہاں آئندہ انتخابات میں ہونے والی سیاسی صف بندی کو بڑی حد تک واضح کردیا ہے وہیں مسلم لیگ نون کی ترجیحات بھی سامنے آگئی ہیں۔

مسلم لیگ نون نے اپنی نئی سیاسی اننگ کا آغاز کسی بڑی سیاسی پارٹی سے مذاکرات یا الائنس سے نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کے دو گھوڑوں کو اپنے ساتھ ملا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نوازشریف نے اپنے بیانئے میں بڑی تبدیلی کا اشارہ دیدیا ہے۔ ووٹ کو عزت دو اور اینٹی اسٹبلشمنٹ بیانئے کو ایک طرف رکھتے ہوئے نون لیگ اب ایک بھرپور پاور پالیٹیکس کرنے کے لئے تیار نظر آرہی ہے جس میں عوام، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی سربلندی اور ووٹ کو عزت دو جیسی شاعری کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔

قائد نون لیگ نوازشریف نے بلوچستان باپ پارٹی  اور سندھ میں ایم کیو ایم کو ساتھ ملا کر جہاں اسٹبلشمنٹ کی طرف زیتون کی شاخ پھینکی ہے وہیں آصف زرداری کو ایک چنوتی دے  کر انتخابات میں اپنے تئیں اپنے حریف کا تعین بھی کرلیا ہے۔

لاہور سے سینئر صحافی ہیں۔ جنگ،پاکستان، کیپیٹل ٹی وی، جی این این اور سما ٹی وی سمیت ملک کے نامور اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے سیاسی رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مختلف اخبارات میں ان کے آرٹیکلز باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں جبکہ ٹی وی چینلز پر کرنٹ افئیر کے پروگرامز میں بھی بطور تجزیہ کار ان کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین