Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

کے 2 پر پاکستانی پورٹر حسن کی بے بسی کے عالم میں موت، 50 کوہ پیما پاس سے گذرتے رہے

Published

on

کم ترین عرصے میں 8 ہزار میٹرز سے بلند 14 چوٹیاں سرکرنے والی ناروے کجی کوہ پیما پاکستان کی بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کے دوران چٹانوں سے لٹکتے پاکستانی پورٹر حسن کو مرنے کے لیے تنہا چھوڑنے کے الزامات کو مس انفارمیشن اور نفرت پر مبنی قرار دیا ہے۔

پچھلے مہینے، کرسٹن ہریلا اور نیپالی کے تینجن شیرپا – جسے لاما کے نام سے جانا جاتا ہے – نے دنیا کے 8,000 میٹر (26,000 فٹ) پہاڑوں میں سے تمام 14 کو  سر کرنے کا ریکارڈ توڑا۔

لیکن اب ان کی کامیابی پر چونکا دینے والے دعووں سے دھندلا گئی ہے کہ درجنوں کوہ پیما ایک پاکستانی پورٹر کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان سے گرا، رسیوں میں الٹا لٹکا ہوا تھا اور بعد میں اس کی موت ہوگئی۔

سی این این سے بات کرتے ہوئے ہریلا نے اصرار کیا کہ اس نے اور اس کی ٹیم نے پاکستانی پہاڑی پورٹر محمد حسن کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، اور اس بات کی تردید کی کہ وہ اس واقعے کی فوٹیج میں موجود تھیں۔

Harila, center and her Nepali Sherpa guide Tenjen Sherpa, right, who last month set a new record by scaling the world's 14 highest peaks in 92 days.

ناروے کی کوہ پیما ہریلا ( درمیان میں) اپنے نیپالی گائیڈ تینجن عرف لاما( دائیں جانب) کے ساتھ

آسٹریا کے کوہ پیما ولہیم سٹینڈل بھی  اس دن پہاڑ پر تھے۔ انہوں نے منگل کو آسٹریا کے اخبار دی اسٹینڈرڈ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اس دن واپسی کا فیصلہ کیا جب حالات بہت خطرناک ہو گئے۔ بیس کیمپ میں واپسی پر انہوں نے کیمرہ مین فلپ فلیمنگ کی ڈرون سے بنائی ویڈیو دیکھی ، یہ ان لوگوں کی ویڈیو تھی جو اس خرناک راستے پر آگے بڑھ رہے تھے، اس ویڈیو میں انہوں نے ایک شخص کو رسوں سے لٹکا ہوا دیکھا، اور کوہ پیما اسے نظرانداز کر کے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔

سٹینڈل اور فلیمنگ کہتے ہیں کہ بعد میں انہوں نے عینی شاہدین سے پوچھا کہ کیا ہوا تھا؟ انہیں واقعہ کی تصدیق ہوئی اور مرنے والے کی شناخت کا بھی علم ہوا۔

 سٹینڈل کا کہنا ہے کہ تین مختلف عینی شاہدین کے اکاؤنٹس کے بیانات کے بعد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ شخص اس وقت تک تک زندہ تھا جب کہ تقریباً 50 لوگ اس کے پاس سے گزر رہے تھے۔ فوٹیج سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک شخص نے اس کی مدد کی کوشش کی جبکہ باقی سب چوٹی کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسے بچانے کی کوئی منظم کوشش نہیں کی گئی حالانکہ وہاں کوہ پیماؤں کے مددگار اور گائیڈ بھی موجود تھے لیکن کسی نے کچھ نہ کیا، یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت تک اس کی مدد کرنا بے کار تھا۔

فلیمگ نے دی اسٹینڈرڈ کو بتایا کہ ہریلا کے علاوہ، دو دیگر کوہ پیماؤں کا مقصد ایک ریکارڈ بنانا تھا۔

سٹینڈل نے مزید کہا: “وہاں جو کچھ ہوا وہ ایک شرمناک ہے۔ ایک زندہ انسان کو وہیں پڑا چھوڑ دیا جاتا ہے تاکہ ریکارڈ بنایا جا سکے۔

دی اسٹینڈرڈ نے اپنی رپورٹ میں ناروے کی کوہ پیما ہریلا کے جرمنی کے میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا جس میں اس نے کہا تھا کہ ایئک پاکستانی پورٹر اس کے گروپ کے سامنے طٹان سے گرا اور بعد میں معلوم ہوا کہ اس کی موت ہو گئی۔

ہریلا نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ گرا تو ہم وہاں موجود تھے لیکن ہم نے اسے گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہم نے اسے رسی سے لٹکتے ہوئے دیکھا اور اسے بچانے کی کوشش کی۔ ہم نے اسے کئی گھنٹوں تک بچانے کی کوشش کی۔ یہ ایک “انتہائی تنگ” راستہ تھا اور اس سال حالات غیر معمولی طور پر خراب تھے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ یہ واقعہ ویڈیو کے فلمائے جانے سے کئی گھنٹے پہلے اور آدھی رات میں پیش آیا تھا۔

ہریلا نے کہا کہ اسے اور لاما کو برفانی تودے گرنے کی اطلاعات کے بعد اپنی باقی ٹیم کا جائزہ لینے کے لیے بالآخر جائے وقوعہ سے نکلنا پڑا۔ اس کا کیمرہ مین گیبریل پیچھے رکا رہا اور پورٹر حسن کو آکسیجن اور گرم پانی فراہم کرتا رہا، اسے کافی گرم کرنے کی کوشش کرتا رہا تاکہ وہ چل سکے۔ ہریلا نے کہا کہ گبرئیل کو بالآخر وہاں سے نکلنے پر مجبور ہو گیا تھا کیونکہ اس کی آکسیجن کی سپلائی کم ہونے لگی تھی۔

ہم سے جو ہو سکا ہم نے کیا

ہریلا نے اپنی ویب سائٹ پر جمعرات کو اس واقعے کے بارے میں بات کی اور طویل خاموشی کو ختم کیا۔

ہریلا نے بغیر رضامندی کے ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے پر شدید غصے کا اظہار کیا اور اس دن پیش آنے والے واقعات کے بارے میں بیان جاری کیا۔

ہریلا نے تفصیلی بیان میں بتایا کہ کس طرح اس نے اور اس کی ٹیم نے راستے میں حسن، اس کے ایک دوست، کی مدد کرنے میں 90 منٹ گزارے۔

ہریلا نے کہا کہ یہ کسی کی غلطی نہیں تھی، جب آپ صورتحال کو نہیں سمجھتے تو آپ تبصرہ نہیں کر سکتے، اور جان سے مارنے کی دھمکیاں بھیجنا کبھی بھی ٹھیک نہیں ہے،

ہریلا نے اس بات کی کی وضاحت نہیں کی کہ کس نے اور کیوں انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ ہریلا نے لکھا کہ لاما، میں نے اور خاص طور پر گبریل [پہاڑی پر اس کا کیمرہ مین]، اس وقت اس کے لیے ہم سے ہر ممکن کوشش کی۔

ہریلا نے لکھا کہ اس نے اور اس کی ٹیم نے حسن کو تقریباً 5 میٹر (16.4 فٹ) گرنے کے بعد اوپر کھینچ لیا۔جب وہ حسن کے پاس پہنچے تو، “اس نے نیچے کا سوٹ نہیں پہنا ہوا تھا، اور اس کا پیٹ برف، ہوا اور کم درجہ حرارت کی زد میں آ گیا تھا، جو صورتحال کو انتہائی خطرناک بنا رہا تھا۔”

انہوں نے اسے راستے کے قریب لے جانے کی کوشش کی۔ تاہم، “ایک کونے پاس ایک برفانی تودہ گر گیا” اور ٹیم میں سے کچھ کو دوسرے کوہ پیماؤں کی مدد کے لیے الگ ہونا پڑا۔

ہریلا نے لکھا کہ “جب ہم فکسنگ ٹیم سے رابطے میں آئے تو ہمیں احساس ہوا کہ وہ ( حسن)  ٹھیک ہیں۔ لاما آگے کی طرف بڑھتا رہا اور میں پیچھے رہ گئی اور پورٹرز سے پوچھا کہ کیا وہ مڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہاں، اور جیسا کہ ہم نے سمجھا اس کا مطلب ہے کہ حسن کے پاس مدد موجود تھی۔ ہم نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ تنگ راستے  میں بہت زیادہ لوگ اس ریسکیو کے لیے مزید خطرناک بنا سکتے تھے۔ ان لوگوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے جو پیچھے رہ گئے اور جو پلٹ گئے، مجھے یقین تھا کہ حسن کو ہر ممکن مدد مل رہی ہو گی۔

ہریلا نے لکھا کہ بیس کیمپ میں واپس آنے پر ہم نے سنا کہ لوگوں کا خیال تھا کہ کسی نے اس کی مدد نہیں کی لیکن ہم نے کی ہے۔ ہم نے اپنی پوری کوشش کی تھی، خاص طور پر گبریل۔ نے۔ یہ واقعی افسوسناک ہے جو ہوا، مجھے امید ہے کہ ہم اس سانحے سے کچھ سیکھ سکیں گے۔ ہر ایک جو چوٹی پر جاتا ہے اسے مناسب تربیت، مناسب آلات اور مناسب رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

حادثے کے بعد، سٹینڈل نے مرنے والے پورٹر حسن کے خاندان کے لیے آن لائن فنڈ ریزنگ کی اور ایک لاکھ یورو سے زیادہ رقم اکٹھی کی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین