Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

پیپلز پارٹی فوجی عدالتوں کے قیام پر تقسیم، پی ٹی آئی ارکان کے استعفوں پر سپیکر رولنگ واپس نہ لینے کا فیصلہ

Published

on

پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے دواہم رہنما اور قانونی دماغ اعتزاز احسن اور سردار لطیف کھوسہ غیر حاضر رہے، کمیٹی میں فوجی عدالتوں کے قیام کی بھی کھل کر مخالفت کی گئی۔ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے اتعفوں کا نوٹیفکیشن کالعدم ہونے اور آئندہ کی حکمت عملی بھی زیربحث آئی۔

پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی میں پارٹی کے دو سرکردہ رہنماؤں اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کو عملا پارٹی کے اس اعلی ترین فورم کے اجلاس میں مدعو ہی نہیں کیا گیا۔ جبکہ فوجی عدالتوں کے معاملہ پر پارٹی تقسیم ہوگئی۔

جمعہ کی سہ پہربلاول ہاؤس کراچی میں ہونے والے اجلاس میں تقریبا دودرجن ارکان شریک ہوئے۔ جس میں  کئی ارکان ویڈیو لنک پر شریک تھے۔ تاہم اہم ترین بات یہ تھی کہ پارٹی کے دوبڑے یعنی چوہدری اعتزازاحسن اورسابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ اجلاس سے غائب تھے۔ وہ خود اجلاس میں شریک نہیں ہوئے یا انہیں بلایا ہی نہیں گیا ؟  اس پر ارکان نے لب کشائی سے احتراز کیا۔

پارٹی کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل انہیں اجلاس میں بلایا ہی نہیں گیا۔ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد دونوں رہنما گذشتہ ایک سال سے حکومت پر شدید تنقید کررہے ہیں، دونوں پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کے مقابلے میں عمران خان کی سیاست اور موقف کی کھل کر حمایت کررہے ہیں۔

پارٹی قیادت نے متعدد بار انہیں یاد دلایا کہ اختلاف رائے پارٹی فورم پر کریں لیکن انہوں نے اسے درخوراعتنا نہ جانا۔ اس پرپارٹی قیادت ان سے ناراض ہے اور اسی لئے اعتزاز احسن اور لطیف کھوسہ کو اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ ہی نہ دیا گیا۔

پارٹی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ آیا ان دونوں انتہائی سینئررہنماؤں کو پارٹی سے فارغ کردیا گیا ہے؟ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب چند دنوں میں سامنے آجائے گا۔

پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی ملٹری کورٹس کے معاملہ پر تقسیم رہی۔ اہم پارٹی رہنماؤں نے فوجی عدالتوں کی کھل کر مخالفت کی جبکہ پارٹی چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ بوجھل دل سے یہ کام کرنا پڑرہا ہے۔ اس کی ذمہ دار اعلٰی عدلیہ ہے۔

اجلاس میں رضا ربانی، فرحت اللہ بابر اور چوہدری منظور نے ملٹری کورٹس کی مخالفت کی۔ ان رہنماؤں نے کہا کہ یہ پارٹی کے سویلین حقوق کے نظرئیے سے متصادم ہے۔چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی اسے ناپسندیدہ عمل قرار دیا۔

سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اعلٰی عدالتوں کی جانب سے مؤثر کردار ادا نہ کرنے کے باعث ملٹری کورٹس کے آپشن پر جانا پڑ رہا ہے۔سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ آرمی ایکٹ کا استعمال صرف فوجی تنصیبات پر حملوں تک محدود رہنا چاہئیے۔

پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں بارے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی زیرغور آیا۔ اس حوالے سے ارکان کی اکثریت نے استعفوں پر سپیکر کی رولنگ واپس لینے کی مخالفت کی۔

لاہور سے سینئر صحافی ہیں۔ جنگ،پاکستان، کیپیٹل ٹی وی، جی این این اور سما ٹی وی سمیت ملک کے نامور اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے سیاسی رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مختلف اخبارات میں ان کے آرٹیکلز باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں جبکہ ٹی وی چینلز پر کرنٹ افئیر کے پروگرامز میں بھی بطور تجزیہ کار ان کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ ترین11 گھنٹے ago

ٹیکس اہداف کی صورتحال تسلی بخش نہیں، شرائط پوری نہ ہوئیں تو منی بجٹ لانا پڑے گا، آئی ایم ایف

Uncategorized11 گھنٹے ago

قریبی دفاعی تعاون کے لیے جرمنی اور برطانیہ کے مشترکہ دفاعی اعلامیہ پر دستخط

تازہ ترین12 گھنٹے ago

یورپ کے دفاع کے کئی کمزور پہلو نیٹو کے لیے باعث تشویش

تازہ ترین12 گھنٹے ago

نیتن یاہو کے کانگریس کے خطاب سے پہلے مظاہرے، کئی ارکان کانگریس کا شرکت نہ کرنے کا اعلان

پاکستان14 گھنٹے ago

پنجاب اسمبلی کے سامنے پی ٹی آئی کا احتجاجی کیمپ، نیلی پری نے اداکار طاہر انجم کو روک کر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، ہمارا کوئی تعلق نہیں، اپوزیشن لیڈر

Uncategorized15 گھنٹے ago

تمام سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے پر متفق

تازہ ترین15 گھنٹے ago

ایجنڈے کے تحت بیانیہ بنایا گیا کہ میں نے جی ایچ کیو پر احتجاج کے لیے اکسایا، عمران خان

تازہ ترین16 گھنٹے ago

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

مقبول ترین