Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

تازہ ترین

اقتدار کی کرسی  ’کانٹوں کا تاج‘

Published

on

سنا تھا اور پڑھا بھی تھا کہ اقتدار کی کرسی پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا تاج ہوتی ہے۔ گزشتہ روز کسی صاحب کی جانب سے واٹس ایپ پر ایک تصویر موصول ہوئی تو اندازہ ہوا کہ اقتدار کا سنگھاسن کیسا ہوتا ہے۔ یہ تصویر ایک ایسی کرسی کی تھی جس پر بڑے بڑے کیل اُگے ہوئے تھے یا لگائے گئے تھے۔ اس کرسی پر بیٹھنے کا مطلب خود کو گھائل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ جب سے میں نے یہ کرسی دیکھی ہے’ ایک ہی سوچ میں ہوں کہ جب حکومت پھولوں کی سیج نہیں کانٹوں کا تاج ہے تو پھر کیوں ہر کوئی اس پر بیٹھنا اور اقتدار کے مزے لینا چاہتا ہے۔ پاکستان کے سنگھاسن کی بات جائے تو مسائل معمول سے کہیں بڑھ کر اور کہیں زیادہ گمبھیر محسوس ہوتے ہیں۔ پھر بھی یہاں بہت سے لوگ اقتدار کے متمنی نظر آتے ہیں۔ Talismanist Giebra نے کہا تھا: No throne in the world can substitute a beach chair. یعنی دنیا کوئی تخت و تاج ساحلِ سمندر پر بچھی کرسی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا’ لیکن ہمارے سیاست دان’ قائدین اور رہنما غالباً اس کے الٹ سوچتے ہیں۔ وہ روح کو سکون دینے والی ہر چیز پر اقتدار کو فوقیت دیتے ہیں۔ پتا نہیں کیوں؟

اقتدار کی کرسی آرام دہ ہوتی ہے یا تکلیف دہ اس کا چونکہ ہمارے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں’ اس لیے اس کو چھوڑتے ہیں اور ان معاملات پر بات کرتے ہیں جن کا حوالہ کسی نہ کسی طور ہمارے ساتھ ملتا ہے۔ بات کرتے ہیں انتخابات اور حکومت سازی کی۔ وطنِ عزیز میں پتا نہیں کیا اسرار ہے کہ یہاں کوئی کام وقت نہیں ہوتا’ ہمیشہ تاخیر ہو جاتی ہے۔ منیر نیازی نے نظم لکھی تھی ‘ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں’ تو مجھے لگتا ہے کہ وہ ہمارے سیاسی اور حکومتی نظام کے بارے میں ہی لکھی تھی۔ پہلے انتخابات نہیں ہو پا رہے تھے اور لوگ ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں کر رہے تھے کہ الیکشن ہو جائیں۔ انتخابات ہو گئے تو جھولیاں اٹھا اٹھا کر یہ دعائیں کرنے لگے کہ کوئی اچھی حکومت بن جائے۔ ان کی یہ دعا بھی قبول ہوئی ہے اور انتخابات کے دو ہفتے بعد اب حکومت سازی کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ آغاز پنجاب سے ہوا ہے جہاں گزشتہ روز منتخب صوبائی نمائندوں نے حلف اٹھایا اور آج سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے جبکہ سندھ اسمبلی میں نو منتخب اراکین نے حلف اٹھایا ہے اور یہ خبر سامنے آئی ہے کہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 28 فروری کو بلایا گیا ہے’ یعنی فروری ختم ہوتے ہوتے بلوچستان میں بھی حکومت قائم ہو جائے گی۔

اقتدار کی کرسی پنجاب کی ہو’ سندھ کی’ بلوچستان کی یا مرکز کی’ در پیش مسائل پر نظر ڈالیں تو واقعی پھولوں کی سیج تو نہیں لگتی۔ وجہ ہے چار سُو پھیلے دیرینہ’ گنجلک اور گمبھیر مسائل’ کورونا وبا کے دوران اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے گزشتہ برسوں میں جن کی شدت میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے۔ ان میں پہلے نمبر پر مہنگائی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج سے چند سال پہلے تک آٹا 40 تا 50 روپے کلوگرام مل جاتا تھا’ اور تب روٹی تین چار روپے کی ہوتی تھی۔ ان دونوں اشیائے خوردنی کی قیمتیں اب بالترتیب 170اور 20 تا 30 روپے ہو چکی ہیں۔ اب ایک بندہ جو ہزار ڈیڑھ ہزار روپے کی دیہاڑی لگاتا ہے وہ 170 روپے کلو کے حساب سے کتنا آٹا روزانہ خریدے کہ اس کے چھ سات افراد پر مشتمل کنبے کو تین وقت نہ سہی دو وقت کی روٹی ہی نصیب ہو سکے۔ دالیں اور گوشت پروٹین کا بہترین ذریعہ گردانے جاتے ہیں’ لیکن صورت حال یہ ہے کہ دالیں اور گوشت ہی نہیں سبزیاں تک عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں’ کوئی اچھی سبزی نہیں جو سو روپے فی کلوگرام سے کم میں ملتی ہو۔ چنانچہ مہنگائی پر قابو پانا نئی وزیر اعلیٰ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔

دوسرا مسئلہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری ہے’ جس نے لوگوں کی پہلے سے محدود قوت خرید کو مزید محدود کر دیا ہے اور وہ مالی معاملات میں اس حد تک مجبور ہو چکے ہیں کہ انہیں اپنی ایک ضرورت پوری کرنے کے لیے کسی دوسری ضرورت کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔ اس طرح روزگار کے وسائل پیدا کرنا نئی حکومت کا ایک بڑا امتحان ہو گا۔

تیسرا سب سے اہم مسئلہ توانائی کے ذرائع کی بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ اور لوڈ مینجمنٹ ہے۔ گیس سردیوں میں نہیں ملتی اور گرمیوں میں بھی اس کا کوٹا سسٹم چلتا ہے۔ بجلی گرمیوں میں نہیں ملتی اور سردیوں میں بھی اس کی لوڈ شیڈنگ جاری رہتی ہے جس کی وجہ سے گھریلو زندگی ہی متاثر نہیں ہوتی صنعت اور زراعت پر بھی اس کے منفی اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ کئی صنعتیں بند ہو چکی ہیں اور زرعی شعبے کی پیداوار کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمیں اپنی ضرورت کی بہت سی کھانے پینے کی چیزیں بیرون ملک سے درآمد کرنا پڑتی ہیں۔ توانائی کی ضروریات کیسے پوری کرنا ہیں’ یہ شہباز شریف حکومت کے لیے ایک بڑا سوال ہو گا۔ سرکاری محکموں میں چلنے والی رشوت اور کرپشن بھی لوگوں کو پریشان کیے ہوئے ہے۔

حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ عوام کو اپنے جائز کاموں کے لیے بھی نچلے حکام کی مٹھی گرم کرنا پڑتی ہے’ جن کا کہنا ہے کہ اس گرم مٹھی میں سے خاصا بڑا حصہ اعلیٰ افسران کی مٹھیوں تک بھی پہنچتا ہے۔ اس رشوت خوری پر کیسے قابو پانا ہے’ یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ پولیس کو ٹھیک کرنے کی کوششیں کئی حکمرانوں نے کیں۔ اس کے لیے کئی اچھے اقدامات کیے گئے’ عمدہ اور وافر مراعات والے پیکجز بھی دئیے گئے’ لیکن پتا نہیں کیا وجہ ہے کہ اس محکمے اور اس شعبے کو اب تک عوام دوست نہیں بنایا جا سکا ہے۔ کیا نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ پولیس کا قبلہ درست کرنے میں کامیاب ہو سکیں گی؟ بیوروکریسی کے معاملات بھی سب کے سامنے ہیں اور سٹریٹ کرائم کا تیزی سے بلند ہوتا ہوا گراف بھی پنجاب کی نئی وزیر اعلیٰ کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو گا۔ دعا تو یہ ہے کہ وہ ان سب مشکلات پر قابو پانے’ مسائل حل کرنے اور چیلنجوں پر پورا اترنے میں کامیاب ہوں لیکن میرے خیال میں اس کے لیے انہیں ایک خاص حکمت عملی اپنانا پڑے گی۔ اپنی ایک قابل کابینہ مرتب کرنا پڑے گی اور بیوروکریسی میں سے اچھی شہرت والے افسروں کو آگے لانا پڑے گا کیونکہ اچھی بیوروکریسی کا مطلب اچھی گورننس ہوتا ہے۔

بات یہی ختم نہیں ہوتی۔ مریم نواز کے سامنے مختلف سپیڈز کی شکل میں بھی ایک چیلنج موجود ہے۔ ایک سپیڈ تو ان کے چچا شہباز شریف ہیں’ جنہیں ان کی تیز رفتار حکمرانی کی وجہ سے چینی حکام نے ‘شہباز سپیڈ’ کا نام دیا تھا۔ ایک چیلنج پرویز الٰہی کی طرزِ حکمرانی کا بھی ہے’ جہیں اگرچہ کسی قسم کا سپیڈ کا خطاب تو نہیں ملا لیکن ان کی گورننس کی بھی مثالیں دی جاتی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنے دور میں عوامی بہبود کے بہت سے منصوبوں پر تیزی سے کام کر کے انہیں پایہ تکمیل تک پہنچایا تھا۔ حالیہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے بھی پندرہ سولہ ماہ میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے اور ریکارڈ تیزی کے ساتھ ۔ یہاں تک کہ خود میاں شہباز شریف نے ‘‘محسن سپیڈ’’ کی تعریف کی۔ سوال یہ ہے کہ آیا مریم نواز صاحبہ مذکورہ مثالی حکمرانیوں سے بڑھ کر کارکردگی دکھا سکیں گی۔ شنید ہے کہ پنجاب کی اعلیٰ بیوروکریسی نے نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ جو ابتدائی ملاقاتیں کیں’ ان میں بیوروکریسی کی جانب سے انہیں بتایا گیا کہ ان کے لیے ملٹی بلین روپے کی متعدد ترقیاتی سکیمیں پہلے سے ان کے پاس تیار اور موجود ہیں’ چنانچہ توقع ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے کے فوراً بعد وہ کچھ میگا ڈویلپمنٹ پروجیکٹس کا اعلان کریں گی۔ یہ سب باتیں اور یہ سارے معاملات اپنی جگہ’ نئی وزیر اعلیٰ کی کارکردگی کا سب سے بڑا پیمانہ عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہی ہو گا۔ ایسے ہی تو اقتدار کی کرسی کو کانٹوں کا تاج نہیں کہا جاتا۔ یہاں ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا ہے۔

عمران یعقوب خان پاکستان کے سینئر صحافی، تجزیہ کاراور براڈکاسٹر ہیں، تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز میں کلیدی عہدوں پر کام کرچکے ہیں، جیو نیوز کی بانی ٹیم کے رکن تھے ،اس سے پہلے وہ روزنامہ جنگ میں بطوررپورٹراور فیچر رائٹر بھی کام کرتے رہے، وہ 92 نیوز ،دنیا نیوز اور نیوز ویک پاکستان کے ڈائریکٹر نیوز کی حیثیت سے بھی کام کرچکے ہیں، ان دنوں جی این این ٹی وی سے منسلک ہیں۔

Continue Reading
3 Comments

3 Comments

  1. مبین حیسن

    فروری 25, 2024 at 10:27 صبح

    جو لکھا 100 فیصد درست لکھا، اگر ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور بھی پیدا کرنے کی کوئی مہم ہو تو بھی ضرور شروع کی جائے ۔ تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ اپنے ملک اور اپنے اداروں کی تضحیک نہیں بلکہ اصلاح کیلیے پریشر گروپ بننے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ اپنے ملک، اداروں اور ان کی قیادت کے خلاف تضحیک آمیز اقدامات کر کے کیوں کہ یہ ملک ہے یہ ادارے ہیں تو ہم ہیں ورنہ کوئی بھی ہمیں باآسانی غلام بنا سکتا ہے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین