Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

کالم

آزاد پاکستان کے غلام افسران

Published

on

ہمارے پاکستانیوں کے ساتھ تو آسمان سے گرا کھجورمیں اٹکا والی بات ہوئی۔ بانی پاکستان، حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ اوران کے رفقائے کار نے ہمیں انگریزوں کی غلامی اور ہندوئوں کے تسلط سے آزاد تو کرا لیا لیکن شومئی قسمت، ان کی وفات کے بعد کھجورمیں اٹکنے والی بات سچ ثابت ہوئی۔

حکمرانی کا قصہ کچھ یوں انجام پذیر ہوا کہ پاکستانیوں کی قمست کبھی کھرے پاکستانیوں کے ہاتھوں میں نہیں رہی۔ پاکستان میں ریٹائر ہوتے ہیں تو ادھر ڈوبے ادھر نکلے، کے مصداق، افسرانِ بالا کی بالا دستی کا سورج کبھی اقوام متحدہ کے کسی ذیلی ادارے میں طلوع ہوتا ہے تو کبھی یہ لوگ کسی بڑی این جی او کی منڈیر پر جا بیٹھتے ہیں۔ پاکستان میں ہوتے ہوئے بھی کبھی پورے پاکستانی نہیں بنے۔ کسی نہ کسی ملک کی شہریت کا طوق ان کے گلے کی زینت ضرور رہتا ہے۔ ہمیں دکھائی نہیں دیتا، لیکن ہوتا ضرور ہے۔

بس، اتنی سی کہانی ہے ہماری بیوروکریسی کی۔ اسی لئے بیوروکریسی کو کبھی معلوم ہی نہیں ہوتا کہ عوام کیا چاہتے ہیں۔ بیوروکریسی کے بنائے ہوئے کس کس قانون نے انہیں شکنجے میں جکڑ رکھا ہے، ان کے مستقبل پر سیاہ مہر لگا رکھی ہے، وسائل پر تالا بندی ہے۔ ان ضابطوں نے عام عوام کی زندگیوں کو مفلوج کر رکھا ہے۔ آج ہم ایسے ہی چھپے ہوئے، حکمرانوں کی باتیں کریں گے، وہ رہتے تو پاکستان میں ہیں لیکن کسی تگڑے ملک کی شہریت بھی لے رکھی ہے۔ ایک ٹکٹ میں دو مزے۔

دوہری شہریت کے حامل افسران کی تعداد پر غور فرماتے ہوئے مجھے کافی وقت لگا۔ ہو سکتا ہےکہ کوئی چپکے سے ریٹائر ہو گیا ہو، یا گریڈوں کی صورتحال بدل گئی ہو۔ تاہم، مجموعی صورتحال ایسی ہی ہو گی۔ معمولی تبدیلی کیلئے میں پہلے سے معذرت خوا ہوں۔

ہماری معزز سپریم کورٹ نے بھی گریڈوں پر کارروائی کی تھی۔ نتیجہ؟ ڈھاک کے تین پات۔ تو آئیے، گریڈوں کی سیاست جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل، غیر ملکی شہریت کےحامل افسران کی کل تعداد 22 ہزار کے قریب تھی۔ ایم پی ون سکیل کے 11 عہدے دار ان کے علاوہ ہیں۔ 110 افسران کچھ زیادہ ہی اعلیٰ عہدوں پر براجمان تھے۔ دوہری شہریت کے حامل افسران محکمہ تعلیم پر غالب تھے، یہی کوئی 140۔ قومی ایئر لائن سے 80 اور مقامی حکومت سے منسلک غیر مقامی افسران 55 تھے۔ سابق پنجاب حکومت کے مشیر سلمان صوفی امریکہ، نیشنل بینک کے سابق صدر سعید احمد برطانیہ، سابق سفیر نادر چودھری برطانیہ، فوزیہ وقار کینیڈا اور سابق سفیر شہزاد احمد برطانیہ سے تعلق رکھتے تھے۔

اعلیٰ افسران میں سے 540 کینیڈین، 240 برطانوی اور 190 امریکی شہری تھے۔ ہزاروں سرکاری ملازمین آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، ملائیشیا اور آئرلینڈ کے بھی شہری تھے۔ ان میں گریڈ 22 کے 6، گریڈ 21 کے 40، گریڈ 20 کے 90، گریڈ 19 کے 160، گریڈ 18کے 220،گریڈ 17 کے 160 انتہائی عہدوں پر براجمان رہے۔ داخلہ ڈویژن میں 20، پاور ڈویژن میں 44، ایوی ایشن ڈویژن میں 92، خزانہ ڈویژن میں 64، پٹرولیم ڈویژن میں  96، کامرس ڈویژن میں 10، وزارتِ اطلاعات و نشریات میں 25، اسٹیبلشمنٹ میں 22، محکمہ نیشنل فوڈ سکیورٹی میں 7، کیپیٹل ایڈمنسٹریشن میں 11، وزارتِ مواصلات میں 16، ریلوے ڈویژن میں 8، محکمہ ہیلتھ کیئر میں 55، نیشنل بینک میں 30، سائنس و ٹیکنالوجی میں 60، محکمہ زراعت میں 40، سکیورٹی ایکسچینج کمیشن میں 20، محکمہ آبپاشی میں 20، سوئی سادرن میں 30، سوئی ناردرن میں 20 اور نادرا میں 15 اعلیٰ افسران دوہری شہریت کےحامل تھے۔ جن میں گریڈ 22 کے کامران بلوچ کینیڈا، رابعہ آغا برطانیہ، احمد نواز سکھیرا امریکہ، سمیرا نذیر صدیقی نیوزی لینڈ، اقبال محمود (ر) بھی دوہری شہریت رکھتے تھے۔

گریڈ21کے ڈاکٹر شمیم ہاشمی (امریکہ)، ڈاکٹر اعجاز احمد میاں (کینیڈا)، ڈاکٹر محمد نشاط (نیوزی لینڈ)، ڈاکٹر شیبا سعید (برطانیہ)، محمداسد الیاس (کینیڈا)، ڈاکٹر محمد شعیب جمالی (امریکہ)، لبنیٰ انصر بیگ (کینیڈا)، مریم ثمیمہ (امریکہ)، ریاض احمد مفتی (برطانیہ)، ارشد حسین (کینیڈا)، حافظ محمد علی (امریکہ)، ڈاکٹر اشفاق احمد (کینیڈا) اور عبد الرشید (کینیڈا) کے بھی شہری تھے۔ نیشنل بینک کے سابق سینئر نائب صدر خواجہ احسن الٰہی امریکہ، سید محمود حیدر برطانیہ، علی معظم سید کینیڈا، سعید احمد خان کینیڈا، فرحت عباس کینیڈا، شمس ندیم عالم امریکہ، محمد منیر احمد برطانیہ، ڈاکٹر مشرف احمد کینیڈا، بریگیڈیئر (ر) عامر حفیظ امریکہ، وقار عزیز کینیڈا، رملہ طاہر آسٹریلیا، ڈاکٹر جمشید اقبال جرمنی، ڈاکٹرکاشف رشید آسٹریلیا، ڈاکٹر اسد ﷲ خان برطانیہ، ڈاکٹر محمد مشتاق خان ہالینڈ، نعمان احمد کینیڈا، نیئر پرویز بٹ برطانیہ، اعجاز احمد فرانس، صنم علی ڈنمارک، خالدہ نور کینیڈا، پروفیسر ڈاکٹراسلم نور کینیڈا، محمد ارشد رفیق کینیڈا، نرگس خالد امریکہ، محمد افضل ابراہیم امریکہ، ڈاکٹر عقیل احمد قدوائی کینیڈا، ڈاکٹر پاشا غزل برطانیہ، محمد سعد بن عزیز کینیڈا، عشرت علی برطانیہ، میاں شجاع الدین ذکا کینیڈا، امین قاضی جرمنی، ڈاکٹر سہیل اختر آسٹریلیا، پروفیسر ڈاکٹر ناصر الدین شیخ کینیڈا، پروفیسر ڈاکٹر انیلہ نعیم کینیڈا، پروفیسر ڈاکٹر محمد رضا مہدی امریکہ، خالد محمود کینیڈا، احمد مجتبیٰ میمن کینیڈا،چیف کلکٹر کسٹم زیبا حئی اظہر کینیڈا، شیر افگن خان امریکہ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سید ومیق بخاری امریکہ، ڈاکٹر محمد اشرف طاہر امریکہ، ذاکر حسین جرمنی، محمد فہیم کھوکھر جرمنی، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے سابق سربراہ /پریس انفارمیشن افسر جہانگیر اقبال کینیڈا، ڈاکٹر محمد اجمل کینیڈا، جوائنٹ سیکرٹری احسن علی منگی برطانیہ،راشد منصور کینیڈا، علی سرفراز حسین برطانیہ،سارہ سعید برطانیہ،ڈی آئی جی زعیم اقبال شیخ برطانیہ، ڈی آئی جی مرزا فاران بیگ برطانیہ،ڈی آئی جی شاہد جاوید کینیڈا، ڈاکٹر محمد شفیق (ریٹائرڈ) کینیڈا، سید طارق حسن کینیڈا، عبد القادر برطانیہ، سید شبیر احمد کینیڈا، ڈاکٹر صبینہ عزیز برطانیہ، ناصر سعید کینیڈا، ڈاکٹر راحیلہ آصف کینیڈا، سارہ کاظمی امریکہ،مجیب رحمان عباسی آئر لینڈ، زین ملک برطانیہ، زنیرہ طارق امریکہ، ڈاکٹر ریاض احمد نیوزی لینڈ، احمد مجتبیٰ میمن کینیڈا، ڈاکٹر محمد اسحاق کینیڈا اور ڈاکٹر ممتاز چیمہ کینیڈا کا پاسپورٹ بھی اپنی جیب میں رکھتے تھے۔

 گریڈ20 کے فرید الدین صدیقی کینیڈا، زبیر اے عباسی برطانیہ، پروفیسر آصف بشیر امریکہ، پروفیسر ناصر رضا زیدی کینیڈا، ڈاکٹر مظہر الر حمان برطانیہ، ڈاکٹر محمد مغیث امین برطانیہ، ڈاکٹر فرخندہ حفیظ کینیڈا، ڈاکٹر مہرین سادات کینیڈا، ارشد زمان خان امریکہ، ڈاکٹر عمر حیات آئر لینڈ، آصف ملک برطانیہ، زاہد حسن انصاری کینیڈا، محمد اجمل کینیڈا، ڈاکٹر اسد زمان امریکہ، عامر منصف خان امریکہ، ڈاکٹر شہزادرحمان کینیڈا، مراد جاوید خان کینیڈا، علی رضا خیری برطانیہ، محمد احمد چودھری آسٹریلیا، انتساب احمد کینیڈا، حرا اقبال شیخ امریکہ، صداقت حسین کینیڈا، ملک احمد خان کینیڈا،مائرہ جعفری برطانیہ، فرحان ظہیر آسٹریلیا، حسن ایم خالد کینیڈا، نوشین فیاض کینیڈا، سابق ممبر پلاننگ سی ڈی اے (ر) اسد محمود کیانی امریکہ، محمد ارشاد ﷲ کینیڈا، ندیم احمد امریکہ، محمد امجد رامے کینیڈا، میر عجب خان کینیڈا، منصور ناصر کینیڈا، صبا شاہد امریکہ، نصرت مسعود امریکہ، گ اعجاز احمد بٹ برطانیہ،سجاد تسلیم اعظم برطانیہ، عاصم افتخار کینیڈا، نوید اختر کینیڈا،  وسیم اے عباسی کینیڈا، قاسم رضا کینیڈا، عاصم افتخار کینیڈا،نادرا کے سمیر خان برطانیہ، جواد حسین عباسی برطانیہ، منظور احمد خواجہ برطانیہ، احمرین حسین برطانیہ، عارف علی بٹ آسٹریلیا، محمد جمال اظہر سلطان کینیڈا، علی احمد بلوچ کینیڈا، نجیب احمد کینیڈا، عتیق راجہ برطانیہ،  امتیاز احمد کینیڈا، آفرین حسین برطانیہ، خالد سلیم علوی آسٹریلیا، ڈاکٹر عالمگیر خان اختر کینیڈا، ڈاکٹر قربان احمد آسٹریلیا، نصرت ﷲ کینیڈا، عبد الفرید کینیڈا، ذیشان علی خان برطانیہ، کامران مقبول کینیڈا، نعمان اقبال کینیڈا، شعیب علی صدیقی برطانیہ،محمد عامر خان آسٹریلیا، عبد الرحیم گاریوال کینیڈا کی شہریت رکھتےہیں۔ اسی لئے تمام تر خواشات کے باوجود، عوام بیوروکریٹک نظام کو بدلنا تو ایک طرف، اسے انگلی تک نہیں لگا سکے۔

صہیب مرغوب قومی صحافت کا اہم نام ہیں، 36 برس روزنامہ جنگ کے انچارج میگزین اور ایڈیٹر میگزین رہے۔ساڑھے چار برس روزنامہ دنیا کے میگزین ایڈیٹر رہے۔ ہفتہ وار میگزین میں متنوع موضوعات پر ہزاروں مضامین لکھے ۔بین الاقوامی امور اور بھارت کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین