Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

دنیا

جاپان کے وزیراعظم نے’ نامناسب رویئے‘ پر بیٹے کو سیاسی معاون کے عہدے سے برطرف کردیا

Published

on

جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیدا نے نامناسب رویئے پر اپنے بیٹے شوتارو کیشیدا کو اپنے ایگزیکٹو سیکرٹری کے عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ جاپان کے وزیراعظم نے یہ اعلان پچھلے سال وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ایک پارٹی پر بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کے بعد کیا ہے۔

یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا تھا جب تیس دسمبر کو ایک میگزین میں شوتارو کیشیدا کی تصاویر شائع ہوئیں، جن میں انہیں وزیراعظم ہاؤس میں دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ پارٹی کرتے دکھایا گیا، اس پارٹی میں شوتارو کیشیدا اور دوست وزیراعظم ہاؤس کی ریڈکارپٹ سیڑھیوں پر اس طرح تصاویر بنوا رہے تھے جیسے نئی کابینہ تصاویر بنواتی ہے۔

کچھ تصاویر میں مہمانوں کو وزیراعظم کے ڈائس پر کھڑے دیکھا گیا جو پریس کانفرنس کے انداز میں تصاویر بنوا رہے تھے۔

وزیراعظم فومیو کیشیدا نے کہا کہ ایسا شخص جس کے پاس سیاسی معاون کا سرکاری عہدہ ہو، اس کا سرکاری مقام پر رویہ نامناسب تھا، اس لیے میں نے اس کے احتساب کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم فومیو کیشیدا نے اپنے بیٹے کی جگہ تاکایوشی یاماموتو کو سیاسی معاون مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

وزیراعظم فومیو کیشیدا نے کہا کہ انہوں نے اس تقریب پر اپنے بیٹے کی سخت سرزنش کی۔

وزیراعظم فومیو کیشیدا حزب اختلاف کی تنقید اور عوامی غم و غصے کو روکنے میں ناکام رہے، اس سکینڈل نے ان کی مقبولیت کو بھی کئی درجے نیچے گرادیا۔

اپوزیشن نے اس برطرفی کا خیرمقدم کیا لیکن کہا کہ یہ برطرفی بہت پہلے ہو جانی چاہئے تھی۔

حسن تنولی نوجوان صحافی ہیں۔ انہوں نے ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ سے کمیونیکیشن میڈیا سٹیڈیز میں بی ایس کیا۔قومی و بین الاقوامی میڈیا کو دلچسپی سے دیکھتے ہیں، کھیل اور انٹرٹینمنٹ سے لگاؤ رکھتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین