Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

معاشرہ

حکومتیں گرانے والا سوشل میڈیا ہتھیار مظاہرین کے لیے بھی دو دھاری تلوار

Published

on

دنیا بھر میں حکومتوں کے خلاف احتجاج بڑھنے کی وجہ سوشل میڈیا ہے۔ اس حوالے سے کارنیگی انڈومنٹ فنڈ نے ایک رپورٹ جارتی کی ہے۔ سوشل میڈیا حکومتوں کے لیے تو خطرہ ہے لیکن مظاہرین کے لیے بھی دو دھاری تلوار سے کم نہیں۔

کارنیگی انڈومنٹ فنڈ فار انٹرنیشنل  پیس کی رپورٹ کے مطابق  دو ہزار سترہ سے دنیا بھر میں حکومت مخالف مظاہرے تیزی سے پھیلے اور  دو ہزار بائیس میں دنیا بھر میں حکومت مخالف احتجاج  عروج پر تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دو ہزار بائیس مظاہروں کی ناکامی کا سال رہا اور  بہت کم احتجاج مؤثر ثابت ہوئے۔

دو ہزار سترہ سے دو ہزار بائیس تک احتجاج کا پھیلنا اور پھر دو ہزار بائیس میں احتجاج میں اچانک کمی ایک حیران  کن رجحان تھا لیکن ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی تحقیق نے اس حیرت کو بھی دور کر دیا۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین سنہ انیس سو سے اب تک کی احتجاجی تحریکوں، سول نافرمانی مہمات کا جائزہ لیا۔  ہارورڈ یونیورسٹی ریسرچ کے نتائج کے مطابق  پچھلی ایک دہائی میں  حکومتیں گرانے، فوجی آمروں  کو نکالنے کی تحریکوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا لیکن  کامیابی کی شرح میں بھی واضح کمی دیکھی گئی۔

دس سال سے دنیا بھر میں احتجاجی  تحریکوں میں تیزی کیوں آئی؟

ایک نظریہ یہ ہے کہ احتجاجی تحریکیں سوشل  میڈیا اور میسجنگ ایپس کی وجہ سے تیزی سے منظم ہوئیں

ماضی  میں احتجاجی تحریکوں کے لیے  کمیونٹی نیٹ ورکس بنانا پڑتے تھے، تحریک شروع کرنے کے لیے برسوں درکار ہوتے تھے

سوشل میڈیا اور میسجنگ ایپس  کے ذریعے غیر معمولی تیز رابطوں  نے مہم منظم کرنے کا عمل تیز تر کیا لیکن  مظاہرین اور احتجاجی قیادت کو ڈھونڈ نکالنے کا عمل بھی آسان ہو گیا

پولیٹیکل اکانومی اور احتجاجی تحریکوں کے ماہر جان ہاپکنز یونیورسٹی کے پروفیسر ہو فنگ ہنگ کا کہنا ہے  سوشل میڈیا پر احتجاجی تحریک منظم کرنا دو دھاری تلوار ہے،  سوشل میڈیا کے ذریعے   اب افراد کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ حکومت یا نظام سے شکایت ان کی انفرادی نہیں بلکہ بہت سے لوگ یہی شکایت اور نظریہ رکھتے ہیں ، یوں ایک کمیونٹی وجود میں آتی ہے اور تحریک بن جاتی ہے، لیکن احتجاج منظم کرنے کے لیے  سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال ہو تو حکومتیں  سوشل میڈیا کو سنسر کرنے اور اس کی نگرانی کے عمل کو تیز کر دیتی ہیں یوں پوری احتجاجی تحریک آسانی کے ساتھ انجام کو پہنچ  جاتی ہے۔

کئی بار تو احتجاج کو کچلنے کے لیے انٹرنیٹ سروس ہی بند  کردی جاتی ہے تاکہ احتجاجی مظاہرین  کا رابطہ نہ رہے، اس عمل کو ماہرین ڈیجیٹل آمریت کا نام دے رہے ہیں ۔ اس کی ایک مثال دو ہزار اکیس میں میانمار ہے جہاں  حکومت پر فوجی قبضے  کے دوران پورے ملک میں ہی انٹرنیٹ سروس بند کرد ی گئی تھی۔

ایک اور طریقہ سوشل میڈیا  اور فونز کے ذریعے مظاہرین کی ٹریکنگ ہے،چین میں کووڈ کے بعد ہونے والے مظاہروں میں شریک افراد نے بتایا تھا  کہ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے ان سے رابطے کئے اور خود کو صحافی ظاہر کیا تاکہ وہ احتجاج کے متعلق معلومات لے سکیں اور اس کی کوریج کر سکیں لیکن وہ سوشل میڈیا اکاونٹس جعلی تھے اور انہیں شک ہے کہ وہ اکاونٹس پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے بنائے تھے اور  مظاہرین کے کوائف اکٹھے کرنے کی کوشش تھی۔

سوشل میڈیا کے ذریعے اٹھنے والی تحریکوں کو دبانے کا ایک اور طریقہ  ان تحریکوں کے جواز کے متعلق ڈس انفارمیشن پھیلانا  اور انہیں غیرملکی  فنڈڈ بتانا ہے، اس مقصد کے لیے منظم ٹرولنگ اور منصوبہ بندی کام آتی ہے۔ احتجاجی تحریکوں  کو دشمن کی سازش اور غیرملکی فنڈڈ قرار دینے کی بڑی مثال دو ہزار بیس میں بھارت میں  کسان احتجاج ہے، جسے بھارتی حکومت  اور اس کے حامی میڈیا نے ملک دشمن بنا کر پیش کیا۔

سوشل میڈیا کے ذریعے  منظم کی گئی تحریکوں  کی کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ

کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بڑے پیمانے پر احتجاج ہو جائے چاہے وہ نتیجہ خیز نہ ہو، یہ بھی ایک کامیابی ہے کیونکہ کئی ملکوں اور معاشروں میں  ایسی تحریکیں عوام کو غلط حکومتی فیصلوں پر نہ کہنے کا حوصلہ تو بخشتی ہیں ۔ حکومتی  جبر اور تشدد سے اگر تحریک دم توڑ دیتی ہے یا ٹھنڈی پڑ جاتی ہے تب بھی اسے ناکامی نہیں کہا جائے گا کیونکہ  بظاہر ناکام تحریک نے ایک بیج بو دیا ہے جو کسی نئی تحریک کے جنم کا باعث بنے گا۔

عائشہ عمران لاہور سکول آف اکنامکس میں بی بی اے کی سٹوڈنٹ ہیں، کنیئرڈ کالج میں بھی زیرتعلیم رہیں، سائیکالوجی، میڈیا مارکیٹنگ، ڈیٹا الیسز ان کی خصوصی دلچسپی کے مضامین ہیں ۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین