Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

شوبز

جنوبی ہندوستان میں ایک فلم کی ریلیز پر جشن، کمپینیوں نے سٹاف کو ٹکٹ کے ساتھ ایک دن کی چھٹی دے دی

Published

on

لوگوں کے سڑکوں پر رقص کرنے اور پٹاخے چلانے کے ساتھ، خوشی کے مناظر ہر ہندوستانی فلم کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن جنوبی ہندوستان کی سڑکوں پر ایسے مناظر حقیقی زندگی میں  بھی نظر ۤ رہے ہیں اور یہ خوشی ملک کے سپر سٹارز کی ایک نئی فلم کے استقبال کے ہیں۔

ہندوستان کے معروف اداکار رجنی کانت کی تامل زبان میں ایکشن تھرلر فلم ‘ جیلر؛ جمعرات کو سینما کی زینت بنی جس کے بعد سے تامل علاقوں میں خوشی سے ایک ہنگامہ برپا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ فلم باکس آفس کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دے گی۔

رجنی کانت دو سال کے وقفے سے کسی فلم میں نمودار ہوئے ہیں، رجنی کانت کو جنوبی ہندوستان میں ان کے مداح دیوتا جیسا درجہ دیتے ہیں، اسی لیے جنوبی ہندوستان کی کئی کمپنیوں نے اپنے سٹاف کو فلم دیکھے کے لیے ایک دن کی چھٹی دی ہے۔

کیرالہ میں قائم تعلیمی کمپنی Redbooks Abroad نے اپنے عملے کو پہلی نمائش کے لیے مفت ٹکٹ تحفے میں دیے،کمپنی کے ایک میمو میں کہا گیا کہ یہ آرام کرنے، خوشی منانے اور اپنے آپ کو سلور اسکرین کے جادو میں غرق کرنے کا دن ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ اس دن کی چھٹی اور فلم کا تجربہ آپ سب کے لیے خوشی، راحت اور نئی توانائی لائے گا۔ آئیے ہم اس لمحے کی قدر کریں اور مل کر یادیں بنائیں۔

جنوبی ریاست تامل ناڈو میں واقع ایک اور کمپنی لی ہائیو نے کہا کہ وہ “اچانک بیماری کی چھٹیوں سے بچنے کے لیے” عملے کو آدھے دن کی چھٹی دے رہے ہیں۔

رجنی کانت کی فلم ریلیز کے کئی پہلو ہیں، جن میں سے ایک کمپنیوں کی طرف سے سٹاف کو چھٹی دینا ہے، مقامی نیوز چینلز فلم ریلیز کے کسی بھی پہلو کو کور کرنے، لائیو بلاگز چلانے، مداحوں کے انٹرویو کرنے اور سینما گھروں کے باہر فلم بندی کرنے میں کوئی تفصیل نہیں چھوڑی۔

مقامی رپورٹس کے مطابق، ابتدائی تخمینوں کی بنیاد پر، فلم نے جمعرات کو باکس آفس پر تقریباً 5 ملین ڈالر جمع کیے، جو 2023 میں تامل زبان کی فلم کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اوپننگ ہے۔

رجنی کانت کے پرستار ایک فرقہ

72 سالہ رجنی کانت نے 160 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کی ہے، وہ جنوبی ہندوستانی سنیما کی پہچان ہیں۔

رجنی کانت ایکشن سیکوئنس اور منفرد ڈانس موو کے لیے جانے جاتے ہیں، ان کی باکس آفس کی اپیل بالکل ویسی ہے  جس سے یورپ میں ٹام کروز لطف اندوز ہوتے ہیں، رجنی کانت ایشیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اداکاروں میں سے ایک ہیں۔

1950 میں جنوبی شہر بنگلورو میں شیواجی راؤ گائیکواڈ پیدا ہوئے، 25 سال کی عمر میں فلم “اپوروا راگنگل” سے آغاز کیا، جو کہ ایک کامیاب فلم ثابت ہوئی۔

ان کے پرستاروں انہیں اکثر مذہبی شخصیت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ کچھ مداح اداکار کی گتے کی تصویروں پر دودھ ڈال کر نئی ریلیز کا جشن مناتے ہیں، یہ عبادت عام طور پر ہندو دیوتاؤں کے لیے مخصوص ہے۔

 2016 کی فلم “کبالی” کی ریلیز کا دن بھی  بہت سے لوگوں کے لیے ایک غیر سرکاری عام تعطیل بن گیا تھا، بنگلورو اور چنئی کے شہروں میں کئی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو فلم دیکھنے کے لیے ایک دن کی چھٹی دی تھی۔

رجنی کانت ہندوستان کے دو اعلیٰ ترین سول اعزاز پدم بھوشن اور پدم وبھوشن بھی وصول کرچکے ہیں۔

بالی ووڈ سے ٹالی ووڈ اور کالی وڈ تک

اگرچہ ہندوستان کی اربوں ڈالر کی فلم انڈسٹری اپنی ہندی زبان کی “بالی ووڈ” پروڈکشنز کے لیے بیرون ملک جانی جاتی ہے، ملک کے 1.4 بلین لوگوں میں سے تقریباً نصف ہندی کو اپنی بنیادی زبان شمار نہیں کرتے۔

ملک کے اندر جنوبی ہندوستان کے “ٹالی ووڈ” (تیلگو زبان) اور “کالی وڈ” (تامل زبان) کے شعبے بالی ووڈ کی طرح مقبولیت حاصل کرتے ہیں۔

کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کی اس سال کی ایک رپورٹ کے مطابق بالی ووڈ سے باہر، جنوبی ہند کے میڈیا اور تفریحی صنعت سے ہونے والی کمائی سال بہ سال تقریباً دوگنی ہوئی ہے اور 2022 میں ہندوستان کی تمام فلموں کی آمدنی میں اندازاً 52 فیصد کا حصہ ڈالا ہے۔

پچھلے سال جنوبی ہند کی سب سے بڑی کامیاب فلموں میں سے ایک، “RRR” نے بہترین اوریجنل گانے، “ناتو ناتو” کے لیے اپنا پہلا آسکر جیت کر تاریخ رقم کی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین