Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

دنیا

امریکا کا جوہری آبدوز جنوبی کوریا بھجوانے کا مقصد کیا ہے؟

Published

on

پچھلے  ہفتے امریکہ اور جنوبی کوریا کے صدور نے شمالی کوریا کی جارحیت کو روکنے کے لیے ایک تاریخی معاہدے کا اعلان کیا تو اس معاہدے میں ایک غیرمعمولی  عنصر سامنے آیا۔

انیس سو اکاسی کے بعد پہلی بار امریکی جوہری ہتھیاروں سے لیس آبدوز جنوبی کوریا میں تعینات کرنے کا منصوبہ ، یہ اور اس سے ملتی جلتی شہ سرخیوں کے ساتھ میڈیا نے واشنگٹن اعلامیہ کی خبر شائع کی ۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ “ہمارا باہمی دفاعی معاہدہ   آہنی زرہ بکتر جیسا  ہے اور اس میں  جنوبی کوریا کے دفاع کو مضبوط بنانے  کا ہمارا عزم شامل ہے اور اس میں جوہری دفاع بھی شامل ہے۔

کچھ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعلان علامتی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ امریکی آبدوزیں ہزاروں میل دور سے بھی شمالی کوریا کو نشانہ بنا سکتی ہیں جبکہ کچھ ماہرین کہتے ہیں  عوامی سطح پر آبدوز بھجوانے کا اعلان چھپاکر رکھے گئے ہتھیاروں کی افادیت پر سمجھوتے کے مترادف ہے۔

امریکا کون سی آبدوز بھجوا رہا ہے اور اس کے بارے میں جو کچھ آپ جاننا چاہتے ہیں، پیش کیا جا رہا ہے۔

امریکا کے پاس 14 اوہائیو کلاس، نیوکلیئر پاورڈ بیلسٹک میزائل آبدوزیں ہیں، جن میں سے آٹھ واشنگٹن سٹیٹ اور چھ جارجیا میں موجود ہیں۔ پانچ سو ساٹھ فٹ کی آبداز، جسے عمومی  طور پر بومرز کا نام دیا جاتا ہے،زیر آب ان کا وزن اٹھارہ ہزار ٹن سے زیادہ ہوتا ہے اور ہر آبدوز سنگل نیوکلیئر ری ایکٹر کے ساتھ چلتی ہے۔

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ اوہائیو کلاس آبدوز کو اوسط ستتر دن سمندر میں گزارنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کے بعد پینتیس دن اسے بندرگاہ پر میٹیننس کے لیے گزارنا ہوتے ہیں ۔ ہر آبدوز میں کریوز کی دوٹیمیں ہوتی ہیں جنہیں بلیو اور گولڈ کا نام دیا گیا ہے، ان ٹیموں کی ڈیوٹی بدل بدل کر لگائی جاتی ہے تاکہ انہیں مناسب آرام مل سکے اور وہ تربیت بھی لیتے رہیں۔

آبدوزوں میں  کون سے ہتھیار ہوتے ہیں؟

ہر اوہائیو کلاس آبدوز میں زیادہ سے زیادہ ٹرائڈنٹ ٹو بیلسٹک میزائل کی تعداد بیس ہوتی ہے، جن کی رینج چار ہزار چھ سو میل ( سات ہزار چار سو کلومیٹرز) ہے، جس کا مطلب ہے کہ  یہ آبدوزیں بحر الکاہل اور بحر ہند  سے بھی شمالی کوریا کو نشانہ بنا سکتی ہیں ۔ فوجی اعتبار سے ان آبدوزوں کو جنوبی کوریا کے نزدیک کہیں بھجوانے کی ضرورت نہیں۔

آبدوزوں میں موجود ہر ٹرائڈنٹ    میزائل کئی طرح کے وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جنہیں الگ الگ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ٹرائڈنٹ میزائل چار جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ہر امریکی بیلسٹک میزائل آبدوز میں 80 جوہری ہتھیار ہو سکتے ہیں۔  دوسرے لفظوں میں   ٹرائڈنٹ میزائل سے لیس ایک  آبدوز پورے شمالی کوریا کو تباہ کر سکتی ہے۔

 آبدوز جنوبی کوریا کیوں بھجوائی جا رہی ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کی بیلسٹلک میزائل آبدوز کی جنوبی کوریا میں موجودگی علامتی ہوگی اور درحقیقت آبدوز کی جنوبی کوریا موجودگی اس کی فوجی اہمیت کو گھٹانے کے برابر ہے۔حکمت عملی کے اعتبار سے امریکا اور جنوبی کوریا طاقتور ترین اثاثے آبدوز کی اہمیت کو کم کر رہے ہیں۔ جوہری دفاع کی کنجی اس کی غیر یقینی میں ہے۔جوہری اسلحے کی ضرورت ہے کہ  اگرچہ دشمن کو جوہری اسلحے کے وجود اور اس کے استعمال کے پیمانے کا بے شک علم ہو، اس کے باوجود وہ یہ نہیں جان سکتا کہ  جوہری اسلحہ اصل میں کہاں اور اس کی درست صلاحیت کیا ہے اور اسے کب تعینات کیا جانا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں جوہری آبدوز جنوبی کوریا سے ہزاروں میل دور زیر آب ہونے کے باوجود پیانگ یانگ کو نشانہ بنانے کے قابل ہے اور شمالی کوریا کے لیے تقریبا ناممکن ہو گا کہ وہ امریکی آبدوز کا پتہ چلا سکے۔

امریکی آبداز کا جنوبی کوریا جانا،  وہاں پہنچنے سے چوبیس یا اڑتالیس گھنٹے پہلے اس کا انتظام کیا جائے گا، شمالی کوریا کے فائدے میں ہوگا اور آبدوز کا پتہ چلانا اس کے لیے آسان ہو جائے گا۔ اگر شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان امریکی آبدوز پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو آبدوز کو جنوبی کوریا بھجوانے سے انہیں اس کی آمد اور وقت کا علم ہو سکتا ہے۔

 آبدوز کی تعیناتی کیا صرف علامتی ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں کو یقین دہانی کرانا چاہتا ہے کہ  وہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔  شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کےئ قابل میزائل فورس بنا نے اور میزائلوں کے تجربات میں مصروف ہے اور دو ہزار بائیس میں میزائل تجربات کی  شرح ایک ریکارڈ تھی۔ نئے سال کے موقع پر ایک خطاب میں شمالی کوریا کے سربراہ نے جنوبی کوریا اور امریکا کی طرف سے دھمکیوں کے جواب میں جوہری ہتھیاروں میں اضافے کا اعلان کیا تھا۔

کم جونگ ان کے اس اعلان کے بعد جنوبی کوریا  میں کچھ لوگوں نے سیئول سے مطالبہ کیا کہ وہ جوہری ہتھیار اپنائیں۔ امریکا جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا مخالف ہے اس لیے امریکا اپنے اتحادی جنوبی کوریا کو دفاع کی یقین دہانی کرانا چاہتا ہے، اسی مقصد کے لیے فوج اور دفاعی اثاثوں کو حرکت میں لایا گیا اور امریکی دفاعی اثاثوں کو اس علاقے میں دکھانے اور ظاہر کرنے کے پیچھے بھی یہ مقصد کارفرما ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں سٹرٹیجک اثاثوں کو بھیجنے کا مقصد شمالی کوریا کو پیغام دینا ہے کہ کسی بھی کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔

آبدوز کے دشمن پر ظاہر ہونے کے جواب میں دفاعی ماہرین  کا موقف ہے کہ آبدوز کا مقصد ہی دفاع اور دفاع کی یقین دہانی ہے، سٹرٹیجک اثاثے، جیسے کہ  میزائل آبدوز اور ان پر موجود جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا فوری مقصد کبھی نہیں ہوتا۔

محمد علی عمران لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز ( لمز) میں معیشت کے طالب علم اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں۔ ملک کی سیاسی صورتحال اور عالمی منظرنامے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ مختلف سماجی و معاشی مسائل پرلکھتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تازہ ترین8 گھنٹے ago

ٹیکس اہداف کی صورتحال تسلی بخش نہیں، شرائط پوری نہ ہوئیں تو منی بجٹ لانا پڑے گا، آئی ایم ایف

Uncategorized9 گھنٹے ago

قریبی دفاعی تعاون کے لیے جرمنی اور برطانیہ کے مشترکہ دفاعی اعلامیہ پر دستخط

تازہ ترین9 گھنٹے ago

یورپ کے دفاع کے کئی کمزور پہلو نیٹو کے لیے باعث تشویش

تازہ ترین9 گھنٹے ago

نیتن یاہو کے کانگریس کے خطاب سے پہلے مظاہرے، کئی ارکان کانگریس کا شرکت نہ کرنے کا اعلان

پاکستان12 گھنٹے ago

پنجاب اسمبلی کے سامنے پی ٹی آئی کا احتجاجی کیمپ، نیلی پری نے اداکار طاہر انجم کو روک کر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، ہمارا کوئی تعلق نہیں، اپوزیشن لیڈر

Uncategorized12 گھنٹے ago

تمام سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے پر متفق

تازہ ترین13 گھنٹے ago

ایجنڈے کے تحت بیانیہ بنایا گیا کہ میں نے جی ایچ کیو پر احتجاج کے لیے اکسایا، عمران خان

تازہ ترین13 گھنٹے ago

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا

مقبول ترین