Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

بلاول بھٹو کا دورہ بھارت،میڈیا پروپیگنڈہ عروج پر،مودی کوقصاب کہنے پر شور تھم نہ سکا

Published

on

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کل جمعرات کو اہم ترین دورہ پر بھارت روانہ ہوں گے۔ پاکستان کے عہدیداروں کا دورہ بھارت کسی بھی طرح کے حالات میں ہو غیرمعمولی ہوتا ہے۔ اس بار اس دورے کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ پاکستان کے کسی اعلیٰ عہدیدار کا آخری دورہ بھارت 2016ء میں ہوا تھا ۔

پاک بھارت تعلقات میں حالیہ کشیدگی 2106 میں کشمیر میں بھارتی فوج پر  ایک حملے کے بعد بڑھی، اس حملے میں 17 فوجی مارے گئے تھے اوربھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے فوری طور پر اس کا الزام پاکستان پر دھرا تھا اور پاکستان نے اس سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔

فروری 2109 میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی جب  پلوامہ حملے کے بعد دونوں ملک جنگ کے دہانے پر تھے اور پاکستان نے بھارتی فضائیہ کی دراندازی روکتے ہوئے ایک طیارہ مار گرایا تھا اور پائلٹ کو گرفتار کر لیا تھا۔

اگست دو ہزار انیس میں  بھارت نے کشمیر کی خودمختار حیثیت ختم کرنے کے اقدامات کئے تو جواب میں پاکستان نے بھارت کے  ساتھ سفارتی تعلقات نچلی ترین سطح پر لانے اور تجارت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

روایتی طور پر دونوں ملکوں کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے لیکن جب سے دونوں ملکوں نے جوہری دھماکے کئے ہیں، تب سے ان تعلقات میں کشیدگی کے ادوار زیادہ اور طویل رہے ہیں۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھارتی ساحلی شہر گوا میں  سنگھائی تعاون تنظیم ( ایس سی او) میں شرکت کے لیے جا رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس دورہ کی دعوت ملنے کے بعد کہا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے بھارت میں ہونے والے اجلاس میں  پاکستان کی شرکت اس تنظیم کے چارٹر کے ساتھ پاکستان کی وابستگی کا اظہار ہے جس کے ذریعے پاکستان خطے میں  اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات طے کرتا ہے۔

بھارتی میڈیا اور حکومت کا مزاج بتا رہا ہے کہ یہ دورہ بلاول کا مشکل ترین سفارتی امتحان ہوگا۔ بھارتی میڈیا بلاول بھٹو زرداری کے بھارت پہنچنے سے پہلے ہی ایسی فضا بنا رہا ہے ، جس میں تعلقات میں بہتری کی کوئی گنجائش نکلنے نہ پائے۔

بھارت کے ٹی وی زی نیوز نے  بلاول بھٹو کے دورے سے پہلے پاکستان میں  بلاول کے دورے کی مخالفت اور بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی دلیری کے ایسے قصے سنائے  ہیں کہ بہتری کی کوئی امیدنہیں۔

اٹھائیس اپریل کو زی نیوز نے خبردی کہ اسلام آباد میں ایس  سی او سمٹ پر ہنگامہ جاری ہے، اس کی وجہ میں پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری،پاکستان کے قومی ٹی وی چینل پر بلاول کا نام لے کر صفائی دی گئی ہے ، اسلام آباد میں ایسی خبریں چلیں کہ بلاول بھٹو کی طرف سے مودی سے ملنے کے لیے وقت مانگا گیا حالانکہ بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر پاکستان کو پہلے ہی دوٹوک جواب دے  چکے ہیں اور ون ٹو ون میٹنگ سے انکار چکے ہیں۔اس کے  بعد بھی بلاول بھٹو ایک ملاقات کے لیے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہو گئے۔

ٹائمز ناؤ نے سرخی جمائی کہ کیا بلاول بھٹو بھارت کو شاخ زیتون پیش کر رہے ہیں۔ میجر امت بنسل کے  نام سے شائع اس سٹوری میں اوڑی، پلوامہ اور پٹھانکوٹ حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالی گئی  اور کہا گیا کہ حالات اب بھی نہیں بدلے، اسی مضمون میں پاکستان کے معاشی حالات کی تصویر کشی کر کے کہا گیا کہ پاکستان کی فوج کے کھڑے کئے گئے دہشتگرد گروہ  پاکستان میں ہی حالات بگاڑ رہے ہیں اور پاکستان کی اشرافیہ دولت بنانے میں مصروف ہے۔ بلاول کے اس بیان کو بھی دہرایا گیا کہ اسامہ بن لادن مرچکا لیکن گجرات کا قصاب ابھی زندہ ہے۔

بلاول کے دورے سے دو ہفتے پہلے ہی میڈیا نے فضا میں زہر گھولنا شروع کردیا تھا۔حیران کن بات ہے کہ  بلاول کے دورے کے ایک دن پہلے بھارتی میڈیا میں بدھ کی دوپہر تک کوئی ایک سطر بھی نہیں چھپی نہیں اور یوں ظاہر کیا گیا کہ بلاول کے دورہ بھارت کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔

محمد علی عمران لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز ( لمز) میں معیشت کے طالب علم اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں۔ ملک کی سیاسی صورتحال اور عالمی منظرنامے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ مختلف سماجی و معاشی مسائل پرلکھتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین