پاکستان

حماس نے 7 اکتوبر کو دہشتگردی کی، اسرائیل دہائیوں سے کر رہا ہے، دونوں کی مذمت کروں گا، وسعت اللہ خان

Published

on

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز ” غزہ میں قتل عام پر میڈیا کا کردار” کے عنوان سے منعقدہ سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر سب کا دل دکھی ہے مگر کوئی حل سمجھ نہیں آتا ، مصر سے لے کر سعودی عرب تک عرب ممالک کا رویہ سمجھ سے بالا تر ہے۔

سہیل وڑائچ نے کہا کہ حماس کا اچانک اٹھ کھڑا ہونا اور پی ایل او کا غائب ہونا بھی ہضم نہیں ہورہا، یہودیوں نے یہ تھیوری غلط ثابت کردی کہ مظلوم کبھی ظالم نہیں بن سکتا ہم پاکستانی بہت حساس ہیں ، ہم بعض معاملات میں جذباتی ہوکر اپنی ہی چیزوں کو آگ لگا دیتے ہیں، ہم نے نا تو ٹیکنالوجی پر توجہ دی نا کسی اور اچھی چیز پر۔

سیشن میں گفتگو کرتے ہوئے سینیر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا کہ عرب ممالک میں اب قربتیں نہیں بلکہ عداوتیں ہیں ، عرب دنیا میں ایران اور سعودی پراکسیز سے اسرائیل کو فائدہ ہوا، اب چین نے بیچ میں آکر ایران سعودی تعلقات کو بہتر کیا ہے، ہمیں جذباتی ہونے کے بجائے یہ سوچنا چاہیے کہ کیا اسٹریجک اعتبار سے حماس کا اقدام درست تھا ؟ کون سی طاقت ہے جس نے پہلے حماس کو ابھارا پھر فلسطینیوں کو تنہا چھوڑ دیا۔

میڈیا کے کردار پر سلیم صافی کا کہنا تھا کہ جو میڈیا خود اپنی بقا کی جنگ میں لگا ہو وہ دوسری کسی جنگ کو کیسے کور کرے گا، ہم تو ملک کے اندر کانفلیکٹ زون میں کوریج نہیں کرسکتے ،مسلم ممالک کی فوج کو ایران اور یمن کے تناظر میں قائم کیا گیا تھا، فلسطین کے نہیں۔

معروف صحافی وسعت اللہ خان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ ہماری پالیسی ہے کہ ہم خلیجی ممالک کی طرف دیکھتے ہیں کہ جیسا وہ کریں گے ویسا ہم کریں گے، میں حماس اور اسرائیل دونوں کی مذمت کروں گا، حماس نے سات اکتوبر کو دہشت گردی کی تو اسرائیل گزشتہ کئی دھائیوں سے دہشت گردی کررہا ہے۔

سینئر صحافی اظہر عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو کسی نے باہر کے مسائل پر بات کرنے سے نہیں روکا، ہمیں تو بس اپنے مسائل پر بات کرنے سے روکا جاتا ہے، غزہ معاملے پر پاکستانی میڈیا کی سورس زیادہ تر مغربی میڈیا کی خبریں ہیں غزہ میں اب تک اکسٹھ صحافی مارے جاچکے ہیں ، آج تک کسی جنگ میں بچوں کی اتنی اموات نہیں ہوئیں جتنی غزہ میں ہوئیں، غزہ کے مسئلے پر حکمرانوں اور عوام کا تعلق اب تک منقطع ہے، ایسا لگتا ہے کہ معاملے پر میڈیا اپنا دباﺅ نہیں ڈال پا رہا، یا تو میڈیا کی طاقت ختم ہوگئی ہے یا پھر اقوام عالم بے حس ہوچکی ہیں۔

اظہر عباس نے کہا کہ ہم سب ڈیجیٹل میڈیا کی دوڑ میں جاچکے ہیں جہاں فیک نیوز کی تعداد زیادہ ہے۔

 ممتاز صحافی عارف وقار نے کہا کہ غزہ کے معاملے کو کور کرنے کے لیے ہمارے پاس ذرائع محدود ہیں، ملک میں ایک دو اداروں کے پاس ہی اپنے نمائندے غزہ بھیجنے کے وسائل ہیں۔

سینئر صحافی مظہر عباس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر الگورتھم کے باعث زیادہ کی گئی کوریج نیچے چلی جاتی ہے ، اس معاملے پر زیادہ سے زیادہ لکھنے کی ضرورت ہے۔

سینیر صحافی عارف وقار کا کہنا تھا کہ میڈیا میں غیر جانبداری کی روایت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

معروف صحافی غازی صلاح الدین نے کہا کہ غزہ کے حوالے سے دنیا بھر میں جذباتی وابستگی پائی جاتی ہے ، میڈیا کا کام حقائق دکھانا ہے ، لوگوں کے خیالات بدلنا نہیں۔ سیشن کی میزبانی کے فرائض ابصا کومل نے انجام دیے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین

Exit mobile version