Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

دنیا

بھارت سب سے بڑی آبادی والا ملک، فیملی پلاننگ محکموں کی ناکامی یا کچھ اور

Published

on

لاکھوں انسانوں کی گنتی کرنا آسان کام نہیں لیکن اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس ہفتے بھارت آبادی کے اعتبار سے چین سے آگے نکل گیا ہے اور برسوں تک چین کے پاس رہنے والی نمبر ون پوزیشن اب بھارت کے حصے میں آچکی ہے۔دنیا کی آبادی کے حوالے سے یہ بہت بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

چین نے کئی عشروں سے ملک میں فی خاندان ایک بچہ کی پابندی عائد کر رکھی تھی جس کی وجہ سے چین میں شرح پیدائش ڈرامائی طور پر کم ہوئی اور بھارت کو آگے نکلنے کا موقع ملا۔ آبادی کے اعتبار سے نمبر ون کی پوزیشن کوئی ایسا اعزاز نہیں جسے کوئی ملک اپنے لیے چاہتا ہو اسی لیے وزیراعظم مودی نے ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے   اسے آبادی کے دھماکے کا نام دیا تھا اور ان شہریوں کی تعریف کی تھی  جنہوں نے زیادہ آبادی کے ملک اور خود پر اثرات  کو سمجھا تھا۔

وزیراعظم مودی نے کہا تھا  کہ اکیسویں صدی کے انڈیا میں خوابوں کو پورا کرنے کی اہلیت  ایک فرد، ایک خاندان سے شروع ہوتی ہے۔ اگر ملک کی آبادی تعلیم یافتہ نہیں، صحت مند نہیں تو نہ ملک  اور نہ ہی کوئی گھر خوش رہ سکتا ہے۔

اس سب کے  باوجود بھارت کی آبادی اتنی بڑی کیسے ہو گئی اور بھارت دنیا کا سب سے بڑا ملک کب تک رہے گا؟ ۔

بھارت کی آبادی کیسے اس قدر بڑھ گئی؟

بھارت نے آبادی پر قابو پانے کے اقدامات کئے  لیکن پھر بھی آبادی اس قدر کیوں بڑھ گئی؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین کہتے ہیں کہ یہ حیرت کی بات نہیں، کیونکہ خواتین کے ہاں بچوں کی پیدائش کی  شرح ( فرٹیلٹی)  اس بات کو سمجھنے کی کنجی ہے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی ملک کی اوسط شرح پیدائش ( بچے فی عورت)آبادی   کے لیے خود کو برقرار رکھنے اور اس کے بڑھنے کے لیے دو پوائنٹ ایک ہونی چاہئے۔

ساٹھ کی دہائی میں جب آج کے دادا دادی کے بچے پیدا ہو رہے تھے  تو ہندوستان کی شرح پیدائش چھ تھی۔ دو ہزار انیس سے دو ہزار اکیس کے سرکاری جائزوں کے مطابق شرح پیدائش دو پوائنٹ تک تھی اس طرح ہندوستان میں شرح پیدائش انیس سو بانوے، ترانوے کی شرح پیدائش کی نسبت تین پوائنٹ چار نیچے آئی۔شرح پیدائش مجموعی طور پر کم ہونے کے باوجود آبادی یہاں تک کیسے پہنچی اس کا جواب ڈیموگرافک رفتار سے ملتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ  جب شرح پیدائش گرتی ہے تب بھی آبادی بڑھنے کا عمل  کئی عشروں تک جاری رہتا ہے اور اس کی وجہ آبادی کے چھوٹے بڑے گروہ بڑے ہو رہے ہیں اور ماں یا باپ بننے کے  عمل میں ہوتے ہیں۔  یوں شرح پیدائش کم ہونے کے باوجود بھارت کی آبادی بڑھتی رہے گی کیونکہآنے والے کئی برسوں میں کم عمر لڑکیاں  تولیدی عمر کے حصے میں داخل ہو رہی ہوں گی۔

بھارت جیسے بڑے ملک  کے مختلف حصوں میں شرح پیدائش میں فرق ہے جو حیران کن نہیں، بھارت میں شمال اور جنوب کی تقسیم میں بھی اس کا حصہ ہے، شمالی بھارت میں شرح پیدائش جنوب کی نسبت زیادہ ہے لیکن شمال کے علاقوں میں بھی شرح پیدائش میں نمایاں فرق ہے۔بہار، میگھالیہ، اترپردیش،جھاڑ کھنڈ، منی پور سب شمال میں ہیں اور ان سب میں شرح پیدائش تین پوائنٹ زیرو ہے۔

اس کے برعکس گوامیں شرح پیدائش کئی یورپی ملکوں کے برابر ہے، وہ یورپی ملک جو کم ہوتی آبادی کے ساتھ ورک فورس کو سپورٹ کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق  ہندوستان اب ایک عمر رسیدہ معاشرہ ہے جس کا مطلب ہے کہ اس کی آبادی کا سات فیصد پینسٹھ سال یا اس  سے بھی بڑی عمر کا ہے۔ جنوبی بھارت کی ریاست کیرالہ میں پینسٹھ سال سے زیادہ عمر کی آبادی پچھلے تیس سال میں دو گنا ہوئی ہے جو کہ اب اکیس فیصد ہے۔ اس کا مطلب ہے جن ریاستوں میں شرح پیدائش کم تھی وہ اب عمر رسیدہ  آبادی کی طرف بڑھ رہی ہیں اور ہندوستان کو اب اس کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔  اگلے تیس سال میں  مزید ریاستیں عمر رسیدہ آبادی کا سفر طے کریں گی۔

بھارت کی آبادی بڑھنے کی رفتار کم ہو رہی ہے؟

بھارت نے آبادی کے اعتبار سے چین کو مات دے دی ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت کی آبادی بڑھنے کی رفتار کم ہو رہی ہے۔انیس سو اکہتر سے انیس سو اکاسی کے درمیان بھارت کی آبادی  ہر سال دو اعشاریہ فیصد کی اوسط سے بڑھ تھی۔ دو ہزار ایک سے دو ہزار گیارہ کے درمیان  یہ رفتار کم ہو کر سالانہ ایک اعشاریہ پچاس فیصد پر آگئی اور اب اس سے بھی کم ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ کی پروجیکشن کے مطابق بھارت کی آبادی  دو ہزار چونسٹھ میں اپنے عروج پر ہوگی اور اس وقت بھارت کی آبادی ایک اعشاریہ سات ارب ہوگی۔

بھارت میں اس وقت چالیس فیصد سے زیادہ آبادی  پچیس سال سے کم عمر ہے اور دو ہزار تئیس میں متوقع اوسط عمر اٹھائیس سال ہے جو چین کی نسبت دس سال کم ہے۔دو ہزار اکیس میں بھارت کی کام کرنے والی عمر کی آبادی کی تعداد نو سو ملین تھی اور اگلے  ایک عشرے میں یہ تعداد ایک ارب پر ہوگی۔

اتنے بڑے پیمانے پر کم اجرت ، انگلش بولنے والی، نوجوان ورک فورس  جو ڈیجیٹل تقاضوں سے  ہم آہنگ ہے اور یورپی کمپنیوں کے لیے پرکشش ہے جو چین کا سستا متبادل تلاش کر رہی ہیں۔ لیکن دنیا کی ورکگ ایج آبادی میں بھارت کا حصہ آنے والے عشروں میں کم ہونے کی توقع ہے اور افریقا کی ابھرتی ہوئی نوجوان آبادی اس کا متبادل ہوگی۔

دنیا کی ورکنگ ایج آبادی میں بھارت کا اس وقت حصہ سب سے بڑا ہے لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت کو اس ورک فورس سے فائجدہ اٹھانے کے لیے مضبوط پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ اتنی بڑی آبادی ہونا کافی نہیں بلکہ ایسی معیشت کی ضرورت ہے جو جو ہائی ویلیو ملازمتیں پیدا کر سکے اور آبادی کے پاس بھی ہائی ویلیو ملازمتوں کو پر کرنے کی صلاحیت ہو۔

مستقبل کا بھارت کیا ہوگا؟

بھارت اگرچہ فی کس آمدن کے اعتبار سے دنیا کا غریب ملک ہے لیکن دنیا کی تیزی سے ابھرتی معیشتوں میں شامل ہے۔ تین اعشاریہ پانچ ٹریلین کی معیشت کے ساتھ بھارت تیزی سے ترقی کرتی پانچ بڑی قوموں میں شامل ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق دو ہزار تئیس میں معاشی شرح ترقی کے اعتبار سے بھارت سب کو پیچھے چھوڑ دے گا اور کی شرح ترقی چھ اعشاریہ چھ فیصد رہے گی۔ اس کے مقابلے میں چین کی شرح ترقی چار اعشاریہ تین فیصد اور امریکا کی صرف صفر اعشاریہ پانچ فیصد ہوگی۔  چند تخمینوں کے مطابق بھارت اگلے دس سال میں  دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہو گا اور دو ہزار پینتیس میں  اس کی جی ڈی پی دس ٹریلین ہوگی۔

اس قدر دولت کے باوجود بھارت میں دو لت کی تقسیم کا تضاد نمایاں ہے۔کروڑوں بھارتیوں کی زندگی میں غربت معمول کی بات ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس نوجوان ورک فورس  موجود ہے اس کے مقابلے میں روزگار کے مواقع کم ہیں۔

شمالی بھارت میں  معاشی طور پسماندہ علاقے جو زراعت پر انحصار کرتے ہیں  وہاں غربت کا مسئلہ زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر اترپردیش بھارت کی سترہ فیصد آبادی کا  گھر ہے لیکن وہاں صنعتی ملازمتوں کا صرف نو فیصد ہے۔

ماہرین کہتے ہیں  آبادی میں اضافہ معیشت کے لیے زبردست پیداواری طاقت ہے لیکن معاشی ترقی کا انحصار اچھے معیار کی پیداواری ملازمتیں دینے پر ہے ۔ اس کے لیے تعلیم میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے بالخصوص خواتین کے لیے۔ خواتین کے لیے سیکنڈر سکول سسٹم کو مضبوط کرنا پڑے گا، لڑکیوں کے لیے سکولوں کو محفوظ بنانا ہوگا اور گھروں کے نزدیک سکولوں کی سہولت فراہم کرنا ہوگی۔

ورلڈ بینک ڈیٹا کے مطابق دو ہزار اکیس میں سکول سے تعلیم پانے کے بعد ورک فورس میں خواتین کی شرکت  بشمول ملازمت کرنے اور ملازمت کی ےلاش کرنے والی خواتین، کی تعداد انیس  فیصد تھی۔ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت کو نہ صرف خواتین کو ورک فورس میں لانے کی پالیسیوں کی ضرورت ہے بلکہ بچوں کی پیدائش پر  خواتین کو زیادہ کنٹرول دینے کی بھی ضرورت ہے۔ تعلیم سب سے بہتر مانع حمل دوا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر بھارت نے  توازن پیدا نہ کیا تو وہ دنیا کی سب سے بڑی آبادی اور دنیا کی بڑی ورک فورس   کے فوائد سے محروم رہے گا۔ تعلیم ، تربیت  کی فراہمی اور اچھے معیار کی ملازمتوں کا پیدا کرنا بھارت کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔

محمد علی عمران لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز ( لمز) میں معیشت کے طالب علم اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں۔ ملک کی سیاسی صورتحال اور عالمی منظرنامے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ مختلف سماجی و معاشی مسائل پرلکھتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین