Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

پاکستان

کراچی: سبز کچھووں کے 14960 نوزائیدہ بچے سمندر میں روانہ کردیے گئے

Published

on

رواں سال سبز کچھوؤں کے نیسٹنگ سیزن کے دوران انڈوں سے نکلنے والے 14960 کچھوے کے بچوں کو سمندر میں روانہ کیا گیا۔دوران سفر مانیٹرنگ کے لیے 16 کچھووں پر ٹیگ بھی لگائے گئے۔

سندھ میرین ٹرٹل کنزرویشن یونٹ کے مطابق کراچی کے ساحل پر سبز سمندری کچھوؤں کا نیسٹنگ سیزن ہر سال ستمبر سے فروری تک جاری رہتا ہے، رواں سال ہاکس بے کے ساحل پر آنے والے سبز سمندری کچھوؤں کی تعداد 530 رہی، جن میں 270 کچھوؤں نے کچھ وقت قیام کے بعد واپسی کا سفر اختیار کیا جبکہ 260 مادہ کچھووں نے ساحل پر انڈے دیے۔

ہر سال انڈے دینے کے لیے بڑی تعداد میں مادہ سبز کچھوے کراچی کے ہاکس بے اور سینڈزپٹ کے مخصوص ساحلی مقامات پر نرم ریت پر خندقیں کھود کر ان میں انڈے دیتی ہیں جس کے بعد وہ بچے نکلنے کا انتظار کیے بغیر واپس سمندر میں روانہ ہوجاتی ہیں۔

میرین ٹرٹل یونٹ کا عملہ ان  انڈوں کی حفاظت کرتا ہے، اور بچے نکلنے پر انہیں شکاری پرندوں سے بچا کر بحفاظت سمندر میں جانے تک مدد فراہم کرتا ہے، آبی آلودگی، موسمیاتی تغیر سمیت دیگر وجوہات کے باعث ہزاروں کی تعداد میں جنم لینے والے ان بچوں میں سے محض چند ہی زندہ رہ پاتے ہیں جنہیں گریٹ سر وائیور کہا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں سبز سمندری کچھوؤں کی نسل تیزی سے معدومی کی جانب بڑھ رہی ہے ۔

سید ذیشان احمد نے جامعہ کراچی سے گریجویشن کے بعد صحافتی کیریئر کا آغاز کیا، تقریباً دو دہائیاں اس شعبے کے لیے وقف کیں۔ کئی سالوں میں، انہوں نے سن ٹی وی، سی این بی سی پاکستان، ڈان نیوز، آج نیوز، بول نیوز، اور ابتک نیوز جیسے معزز میڈیا اداروں میں اپنی مہارت کا حصہ ڈالا۔ مزید برآں، انہوں نے سٹی 21 اور ٹیلن نیوز میں عہدوں پر کام کیا۔ ذیشان نے کراچی اور سندھ حکومت میں سیاسی سرگرمیوں سے لے کر ایوی ایشن اور صحت تک کے مسائل کی وسیع پیمانے پر رپورٹنگ کی۔ ایک تجربہ کار صحافی کے طور پر، انہوں نے 2010 کے سیلاب جیسے واقعات پر بصیرت انگیز کوریج فراہم کرتے ہوئے بین الاقوامی کانفرنسوں میں سرگرمی سے حصہ لیا۔ 2013 میں، ذیشان نے اپنی صحافتی سرگرمیوں کو بلوچستان تک بڑھایا، جس میں زلزلے، تھرپارکر میں قحط، اور کراچی میں ماضی کے دہشت گردی کے واقعات کی لائیو رپورٹنگ سمیت واقعات پر جامع خبریں پیش کیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین