Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

تازہ ترین

بھارت میں کسانوں کی احتجاجی تحریک

Published

on

پاکستان میں انتخابات کے بعد حکومت سازی کےلیے بات چیت اور صلاح مشورے ابھی جاری ہیں ۔ صورت حال پل پل تبدیل ہو رہی ہے ۔ ہو سکتا ہے میں کالم میں جو کچھ لکھوں، شائع ہونے تک ان معاملات میں خاصی تبدیلی واقع ہو چکی ہو ۔ اس لیے آج پاکستان سے باہر چلتے ہیں ۔ پڑوس میں جھانکتے ہیں جہاں کسان اپنے مطالبات منوانے کےلیے ایک بار پھر سڑکوں پر ہیں ۔ ان کے مطالبات کی فہرست یہ ہے:

(1) منیمم سپورٹ پروگرام (; minimum support price) پر فصلوں کی خریداری کی ضمانت دی جائے اور حکومت اس سلسلے میں نوٹی فکیشن جاری کرے ۔

(2) سوامی ناتھن کمیشن نے جو رپورٹ پیش کی تھی‘ اسے نافذ کیا جائے ۔

(3) کسانوں کے قرضے معاف کیے جائیں ۔

(4) کسانوں کی تحریک کے دوران ان کے خلاف جو مقدمات درج ہوئے تھے‘ وہ واپس لیے جائیں ۔

(5) حکومت کی جانب سے کام دینے کی سکیم منریگا کے تحت سال میں 200 دن کا کام فراہم کیا جائے اور یومیہ اُجرت 700 روپے کی جائے ۔

آگے بڑھنے سے پہلے تین باتوں کی وضاحت کرنا چاہوں گا ۔ منیمم سپورٹ پروگرام یا منیمم سپورٹ پرائس حکومت کی جانب سے کسانوں کےلیے یہ یقین دہانی ہوتی ہے کہ ان کی فصل اس کم از کم نرخ پر خریدی جائے گی اور قیمت اس سے کم نہیں ہونے دی جائے گی ۔ کانگریس انڈیا کی قیادت میں بننے والے اتحاد یو پی اے (یونائیٹڈ پروگریسو الائنس) کی حکومت 2004ء سے 2014ء تک بھارت میں برسرِ اقتدار رہی ۔ تب من موہن سنگھ وزیر اعظم تھے ۔ اس دور میں نومبر 2004ء میں ایم ایس سوامی ناتھن کی صدارت میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جسے ’نیشنل کمیشن آن فارمرز‘ کا نام دیا گیا تھا لیکن یہ سوامی ناتھن کمیشن کے نام سے مشہور ہوئی تھی۔ اس کمیشن نے دسمبر 2004ء سے اکتوبر 2006ء کے درمیانی عرصے میں 6 رپورٹیں تیار کی تھیں جن میں کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے اور زراعت کے شعبے میں پیداوار بڑھانے کےلیے کئی سفارشات پیش کی گئی تھیں۔ ان سفارشات میں ایم ایس پی (منیمم سپورٹ پرائس) کے سلسلے میں بھی سفارشات شامل تھیں.

سوامی ناتھن کمیشن کی کچھ سفارشات اس طرح تھیں : کاشت کاروں کو فصل کی پیداوار کی قیمت لاگت سے 50 فیصد زیادہ ملنی چاہیے ۔ کاشت کاروں کو کم قیمت پر اچھے بیج فراہم کیے جائیں. خواتین کسانوں کو کسان کریڈٹ کارڈ ملنے چاہئیں ۔ قدرتی آفات کی صورت میں کسانوں کو مدد ملنی چاہیے ۔ زائد اور غیر استعمال شدہ زمین کسانوں میں تقسیم کی جائے ۔ پورے ملک میں ہر فصل کےلیے بیمہ کی سہولت فراہم کی جائے ۔ حکومت کی مدد سے کسانوں کو دئیے گئے قرضوں پر سود کی شرح 4 فیصد تک نیچے لائی جائے ۔ اوپر درج منریگا سے مراد مہاتما گاندھی نیشنل دیہی روزگار گارنٹی سکیم ہے‘ جس کے تحت بھارت میں روزگار فراہم کرنے کی گارنٹی دی گئی تھی ۔ بھارتی کسان اس پر عمل درآمد کا تقاضا کر رہے ہیں ۔

احتجاج کرنے والے کسانوں نے گزشتہ ہفتے دہلی کی طرف مارچ شروع کیا تھا تو حکومت نے انہیں دارالحکومت سے کم و بیش 200 کلومیٹر دور روک دیا تھا‘ جس کے بعد کسان رہنما اپنے مطالبات پر حکومت سے مذاکرات کر رہے تھے ۔ مذاکرات کے دوران بھارتی حکومت نے کسان رہنماؤں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ حکومت پانچ سالہ معاہدے کے تحت کسانوں سے اناج خریدے گی‘ تاہم پیر کی رات احتجاج کرنے والے کسانوں کی طرف سے کہا گیا کہ حکومتی پیشکش ان کے مفاد میں نہیں ہے‘ جس کے بعد احتجاج کرنے والے کسانوں نے ایک بار پھر دارالحکومت دہلی کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر اب بھی قائم ہیں اور چاہتے ہیں کہ حکومت انہیں تمام 23 اناج (دھان‘ گندم‘ مکئی‘ باجرہ‘ جوار‘ جو‘ رگی‘ چنا‘ ارہر‘ مونگ‘ مسور‘ ماش‘ مونگ پھلی‘ سویابین‘ سرسوں ‘ تل‘ سورج مکھی‘ زعفران‘ گنا‘ کپاس‘ پٹ سن‘ ناریل) منیمم سپورٹ پروگرام کے تحت خریدنے کی قانونی گارنٹی دے ۔

یاد رہے کہ یہ حالیہ تحریک یا احتجاج 2020ء میں ہونے والے احتجاج کا تسلسل ہے ۔ 2020ء میں ہزاروں کسان متنازع زرعی اصلاحات کے خلاف دہلی کی سرحد پر دھرنا دیئے بیٹھے رہے تھے جس کے بعد حکومت کو نئے قوانین پر کام معطل کرنا پڑا تھا ۔ اب بھارتی کسان اس بات پر احتجاج کناں ہیں کہ حکومت نے 2020ء میں ان کے ساتھ جو وعدے کیے تھے‘ وہ پورے نہیں کئے گئے ۔ اب کسانوں نے پینشن اور قرضے معاف کرانے کے حوالے سے نئے مطالبات بھی پُرانے مطالبات میں شامل کرلیے ہیں ‘ جنہیں تسلیم کرنے سے مودی حکومت تا حال گریزاں ہے ۔ آگے کا کسی کو معلوم نہیں ۔

مودی حکومت جو قوانین بنانا چاہتی ہے اور جو حکومت اور کسانوں کے مابین وجہ تنازع ہیں ‘ ان کی مختصر سی تفصیل درج ذیل ہیں :

دی فارمرز پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس (پروموشن اینڈ فیلیسیٹیشن) 2020ء کا قانون‘ جس کے مطابق کسان ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹ کمیٹی (اے پی ایم سی) کے ذریعے مخصوص منڈیوں کے باہر اپنی پیداوار دوسری ریاستوں کو بغیر ٹیکس فروخت کر سکتے ہیں ۔

دوسرے قانون فارمرز ایگریمنٹ آن پرائز انشورنس اینڈ فارم سروس ایکٹ 2020ء (ایمپاورمنٹ اینڈ پروڈکشن) کے مطابق کسان کانٹریکٹ فارمنگ یعنی معاہدہ شدہ کاشت کاری کر سکتے ہیں ‘ اور براہ راست اس کی مارکیٹنگ بھی کر سکتے ہیں ۔

تیسرا قانون سپیشل کموڈٹیز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2020ء ہے جس کے مطابق پیداوار‘ ذخیرہ کرنا‘ اناج‘ دال‘ کھانے کے تیل اور پیاز کا غیر معمولی حالات میں فروخت کے علاوہ کنٹرول سے باہر کر دیا جائے گا ۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ بالا قوانین کسانوں کے حق میں بہتر ہیں ‘ لیکن کسان اس موقف کو تسلیم کرنے کےلیے تیار نہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد سے کسانوں کے مسائل کم ہونے کے بجائے ان میں اضافہ ہو جائے گا ۔

اب جبکہ بھارت میں کسانوں کی احتجاجی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور اس کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ نریندر مودی کی حکومت اس کو برداشت کر پائے گی یا 2020ء کی طرح اب بھی اسے کسانوں کے سامنے جھکنا اور ان کے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑے گا ۔ بھارت میں امسال عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں ۔ دوسری جانب بھارت کی کسان برادری کتنی متحد و متفق ہے‘ یہ سب کے مشاہدے میں آ چکا ہے ۔ ایسے میں نریندر مودی کسانوں کو ناراض کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے‘ کیونکہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ایک بڑا ووٹ بینک ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔

مودی اپنی حکومت کی دو ٹرمز پوری کر چکے ہیں اور تیسری بار حکومت بنانے کےلیے بے حد پُر امید ہیں ۔ کسان تحریک نے زور پکڑا تو ان کی امیدوں پر پانی پھر سکتا ہے‘ لہٰذا میرا نہیں خیال کہ مودی حکومت کسانوں کی تحریک کے سامنے زیادہ دیر ٹک پائے گی ۔ اسے بہرحال کسانوں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا ۔ یہ کام وہ جتنا جلدی کر لے گی‘ ان کے حق میں اتنا ہی بہتر ہو گا۔

عمران یعقوب خان پاکستان کے سینئر صحافی، تجزیہ کاراور براڈکاسٹر ہیں، تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز میں کلیدی عہدوں پر کام کرچکے ہیں، جیو نیوز کی بانی ٹیم کے رکن تھے ،اس سے پہلے وہ روزنامہ جنگ میں بطوررپورٹراور فیچر رائٹر بھی کام کرتے رہے، وہ 92 نیوز ،دنیا نیوز اور نیوز ویک پاکستان کے ڈائریکٹر نیوز کی حیثیت سے بھی کام کرچکے ہیں، ان دنوں جی این این ٹی وی سے منسلک ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین