Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

تازہ ترین

7،8 سال سے عالمی معیار کی جیولن ہی نہیں ملی، مقامی جیولن سے انجری کا خطرہ رہتا ہے، ارشد ندیم

Published

on

اولمپیئن جیولن تھرور ارشد ندیم نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں سات آٹھ سالوں سے عالمی معیار کی جیولن نہیں ملی، جو عالمی معیار کی جیولن تھی وہ اب جواب دے چکی ہے۔

نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ارشد ندیم نے کہا کہ پیرس اولمپکس کے لیے مقامی جیولن کے ساتھ ٹریننگ کر رہا ہوں، لوکل اور غیرمعیاری جیولن سے انجری کا خطرہ ہے، ورلڈ لیول کی جیولن سات سے 8 لاکھ روپے کی آتی ہے، عالمی مقابلوں کے لیے کم از کم پانچ چھ جیولن ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ میری اور نیرج چوپڑا کی ٹریننگ میں زمین آسمان کا فرق ہے، مجھے ٹریننگ کے لیے گراؤنڈ میسر نہیں ہوتا، کبھی کوئی ایونٹ ہوتا ہے کبھی کوئی، دائیں کہنی اور بائیں گھٹنے کی سرجری کے بعد گزشتہ ماہ دائیں گھٹنے کی سرجری کرائی ہے۔

ارشد ندیم کا کہنا ہے کہ ری ہیب کے ساتھ ساتھ اب ٹریننگ شروع کر دی ہے، ایک ماہ تک مکمل ردہم میں آجاؤں گا، پیرس اولمپکس ٹارگٹ ہے، دوسری مرتبہ کوالیفائی کیا ہے، اولمپکس سے پہلے تیاری کے لیے ایک دو ایونٹس مل جائیں گے، جلد ٹریننگ کے لیے جنوبی افریقا بھی جا رہا ہوں۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین