پاکستان

نئی بننے والی زرعی صنعتوں کو ٹیکس سے مستثنیٰ، سمندر پار پاکستانیوں کی ریئل سٹیٹ سرمایہ کاری پر 2% ٹیکس چھوٹ

Published

on

فنانس بل 2023۔24 میں زرعی صنعتوں کے قیام پر ٹیکس مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔

فنانس بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2023 سے قائم ہونیوالی زرعی صنعتوں کوپانچ سال کے لیے انکم ٹیکس چھوٹ دی جائے، وفاق اور صوبوں کے زیر انتظام علاقوں فاٹا اور پاٹا کو مزید ایک سال ٹیکس چھوٹ کی سفارش کی گئی ہے۔

فنانس بل میں ریئل اسٹیٹ منیجمنٹ کمپنیز کو 30 جون 2024 تک ٹیکس چھوٹ کی تجویز دی گئی ہے۔اسٹاک ایکسچینج پر لسٹڈ کمپنیوں کا ٹرن اوور ٹیکس 1.25 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز فنانس بل کا حصہ ہے۔

فنانس بل میں زرعی مصنوعات اور معدنیات کی آن لائن برآمدات ایک فیصد فائنل ٹیکس کی سفارش کی گئی ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کو ریئل اسٹیٹ کے شعبہ میں سرمایہ کاری پر ٹیکس مراعات  تجویز کی گئی ہیں۔اوورسیز پاکستانیوں کو ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری پر 2 فیصد ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔

بینکنگ کمپنیوں کی آئی ٹی خدمات کی آمدن پر ٹیکس 39 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔آئی ٹی کمپنیوں کو ایس ایم ایز کا درجہ دینے کی بھی تجویزدی گئی ہے۔آئی ٹی کی برآمدات پر 0.25 فیصد فکسڈ ٹیکس 2026 تک جاری رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین

Exit mobile version