Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

ملک بھر میں پرتشدد احتجاج کے دوران دس ہلاکتیں،پشاور میں اسلحہ کی دکان لوٹ لی گئی، ریڈیو سٹیشن پر حملہ،اسلام آباد جلتارہا

Published

on

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد پھوٹنے والے پرتشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد دس ہوگئی، ملک بھر میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں کروڑوں روپے کی املاک کو نقصان پہنچا، تھانے، سرکاری دفاتر کو بھی نذرآتش کیا گیا اور پولیس وینز سمیت درجنوں گاڑیاں جلا دی گئیں۔

بدھ کو کوہاٹ میں عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران دو افراد کی ہلاکت کے بعد دو دن میں پرتشدد مظاہروں میں مرنے والوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔ان دس میں سے سات افراد صوبہ خیبر پختونخوا، دو پنجاب جبکہ ایک بلوچستان میں مارا گیا۔

کوہاٹ جیل کے قریب مظاہرین اورپولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ

کوہاٹ پولیس کے ترجمان کے مطابق شہر میں بدھ کی صبح ہی سے پرتشدد واقعات کا سلسلہ جاری تھا۔ مسلح لوگوں نے پہلے کوہاٹ یونیورسٹی پر ہلہ بولا اس کے بعد کوہاٹ بورڈ میں گھس کر وہاں پر توڑ پھوڑ کی اور لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اس کے بعد یہ لوگ ڈسڑکٹ جیل پر حملے کی کوشش کر رہے تھے۔ جس پر مزاحمت کی گئی ہے۔ترجمان نے دعویٰ کیا کہ مرنے والے دونوں افراد احتجاج میں شامل افراد کی فائرنگ سے ہی ہلاک ہوئے اور ان کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔ان کے مطابق ان واقعات میں تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

موقع پر موجود ایک عینی شاید نے بتایا کہ واقعہ شام چار بجے کے قریب پیش آیا جب انڈس ہائی وے زیرو پوائنٹ کے قریب احتجاج کرنے والے تحریکِ انصاف کے حامیوں نے ڈسڑکٹ جیل کی طرف جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے روکا اور دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔عینی شاہد کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ تبادلہ تقریبا چار، پانچ منٹ تک جاری رہا جس کے بعد تحریک انصاف کے لوگ منتشر ہو گئے۔

اسلحہ کی دکان لوٹ لی گئی

پشاور کے علاقے ہشتنگری میں مشتعل افراد نے اسلحے کی ایک دکان کو لوٹ لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ دکان سے اسلحہ لےکر جا رہے ہیں۔پولیس کے مطابق اسلحے کی دکان سے لوٹے جانے والے اسلحے میں پستول، بندوق، کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ شامل ہے۔

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے مظاہرین میں کچھ شرٗپسند عناصر شامل ہیں جو اس طرح کی کارروائیاں کر رہے ہیں ان کے لوگ پر امن احتجاج کر رہے ہیں۔ گذشتہ روز مظاہرے کے دوران انھیں بھی کچھ شر پسند عناصر نے گھیر لیا تھا اور ان کی قمیض پھاڑ دی تھی اور گرانا چاہتے تھے اور اس وقت ان کے اپنے کارکن وہاں پہنچ گئے تھے جس ہر وہ لوگ چلے گئے تھے۔

ریڈیو سٹیشن میں گھس کر آگ لگادی

پشاور میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے احتجاج کے دوران ریڈیو پاکستان کی عمارت کو آگ لگا دی گئی ہے۔مظاہرین مکمل تیاری کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے گیٹ سے داخل ہوئے اور عمارت کو نذر آتش کیا۔

ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان طاہر حسن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے شرپسندوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت پر حملہ کیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں شرپسندوں نے اچانک دھاوا بول دیا، شرپسند ریڈیو پاکستان پشاور کا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوگئے۔ نیوز روم اور مختلف سیکشن میں تباہی مچا دی۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ریڈیو پاکستان پر گذشتہ روز بھی حملہ کیا تھا۔

پشاور اور سوات میں گرفتاریاں

پشاورمیں تحریکِ انصاف کے کارکن ٹولیوں کی شکل میں اسمبلی چوک میں جمع ہوئے اور عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے بازی کی۔ یہاں بھی پولیس نے ان کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی ہے۔ اسمبلی چوک پشاور کا وہ علاقہ ہے جہاں صوبائی اسمبلی، سیکریٹریٹ، کور کمانڈر ہاؤس اور دیگر اہم عمارتیں واقع ہے۔ پشاور پولیس کے مطابق پُرتشدد احتجاج کے دوران مختلف مقامات سے 30 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

سوات پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں کریک ڈاؤن کے دوران سابق ممبران اسمبلی سمیت 33 افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں جگہ جگہ آگ، گاڑیاں، درخت جلا دیئے گئے

اسلام آباد کی پولیس لائنز میں قائم کی گئی عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی کی پیشی کے موقع پر ایچ الیون سیکٹر میں پولیس اور کارکنوں کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں ہوئیں اور پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شدید شیلنگ کی۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے علاقے میں درختوں کو آگ لگائی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ فیض آباد کے قریب سوہان کے مقام پر مظاہرین نے ٹریفک بلاک کی۔پولیس نے یہ بھی کہا کہ مظاہرین کی جانب سے پیٹرول بم پھینکے گئے اور پتھراؤ بھی کیا گیا، اس لیے سری نگر ہائی وے جی الیون کے مقام پر جزوی طور پر بند کرنا پڑی

اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد نے سیکٹر جی 11 میں واقع رمنا تھانے کو آگ لگا دی جبکہ ایک بکتر بند گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔

پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی،ترجمان کا یہ بھی کہا کہ شہر میں فوج طلب کرلی گئی ہے اور فوج کے دستے مختلف مقامات پر پہنچ رہے ہیں۔پولیس، رینجرز اور افواج پاکستان امن عامہ کے قیام کے لیے موقع پر موجود ہیں اور تمام ایسے لوگ جو اشتعال پھیلا رہے ہیں وہ ایسی حرکتوں سے باز رہیں۔

پنجاب میں 145 سے زیادہ پولیس افسر اور اہلکار زخمی

پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق منگل کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کے دوران پرتشدد کارروائیوں میں صوبے میں 145 سے زیادہ افسران اور اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن میں 60 سے زیادہ کا تعلق لاہور سے ہے۔پولیس کے مطابق شرپسند عناصر نے 60 سرکاری گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا۔پنجاب پولیس کے اعلامیے کے مطابق اب تک سرکاری و نجی اداروں پر حملوں، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1280 سے زیادہ شرپسندوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

لاہورمیں مال روڈ پر پی ٹی آئی کارکنوں نے مال روڈ کو بلاک کیا۔ ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس ٹیموں نے صوبہ بھر سے 945 قانون شکن و شرپسند عناصر کو گرفتار کیا۔

پنجاب میں 2 دن اور کے پی میں تاحکم ثانی تعلیمی ادارے بند

حکومت پنجاب نے ملک میں سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر جمعرات اور جمعے کو تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔حکام کے مطابق 11 اور 12 تاریخ کو ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

ادھر خیبرپختونخوا کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند کر دیے گئے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین