Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

اسرائیل پر تاریخ کا بڑا جنگجو حملہ، سیکڑوں ہلاک، فوجی افسروں سمیت درجنوں یرغمال، بمباری سے 198 فلسطینی شہید

Published

on

Cars burn after a rocket fired from the Gaza Strip hit a car park and a residential building in Ashkelon, southern Israel

فلسطینی  گروپ حماس نے ہفتے کے روز کئی دہائیوں کے سب سے بڑے حملے کے ساتھ اسرائیل کو حیران کر دیا، فلسطینی جنگجوؤں  نے اچانک حملے کے دوران اسرائیلی دیہات میں گھس کر درجنوں افراد کو ہلاک کرکے درجنوں یرغمالیوں کو غزہ کی پٹی میں واپس لے آئے۔

اسرائیل نے ساحلی علاقے کے اندر بڑے پیمانے پر فضائی حملوں کئے جس میں سینکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ہمارا دشمن ایسی قیمت ادا کرے گا جس کا اسے کبھی علم نہیں ہو گا، ہم جنگ میں ہیں اور ہم اسے جیتیں گے۔

حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ غزہ سے شروع ہونے والا حملہ مغربی کنارے اور یروشلم تک پھیل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے دشمن، اس کے سپاہیوں اور اس کے آباد کاروں کی شکست اور ذلت کی صبح تھی، جو کچھ ہوا وہ ہماری تیاری کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ آج جو کچھ ہوا وہ دشمن کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

این 12 نیوز نے اطلاع دی ہے کہ کم از کم 100 اسرائیلی مارے گئے۔ اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے کہا کہ دراندازوں کے ساتھ 21 مقامات پر فائرنگ کا تبادلہ ہہو رہا ہے ، اور اس کی بحریہ نے سمندر کے راستے دراندازی کی کوشش کرنے والے درجنوں فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

غزہ میں، شام کے وقت آسمان پر سیاہ دھواں اور نارنجی رنگ کے شعلے ایک بلند و بالا ٹاور سے نکلتے دکھائی دئیے جو اسرائیلی حملے سے متاثر ہوا۔

plume of smoke rises above buildings in Gaza City

اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ شہر میں ایک پلازے سے دھویں کے بادل اٹھ رہے ہیں۔

غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ کم از کم 198 فلسطینی شہید اور 1,600 سے زیادہ زخمی ہوئے، جنہیں طبی سامان اور آلات کی شدید قلت کے ساتھ تباہ حال اور بھیڑ بھرے اسپتالوں میں لے جایا گیا۔

‘سب سے بڑی جنگ کا دن’

حماس کے نائب سربراہ صالح العروری نے الجزیرہ کو بتایا کہ گروپ کے پاس بڑی تعداد میں اسرائیلی قیدی ہیں جن میں سینئر اہلکار بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کے پاس کافی اسیر ہیں کہ اسرائیل اپنی جیلوں میں بند تمام فلسطینیوں کو آزاد کراسکے۔

اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ غزہ میں اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا جا رہا ہے اور فوجی اور افسر مارے گئے ہیں۔ ایک فوجی ترجمان نے کہا کہ اسرائیل لاکھوں ریزرو فوجیوں کو متحرک کر سکتا ہے اور لبنان کے حزب اللہ گروپ کے خلاف اپنے شمالی محاذ پر جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔

حماس کے فوجی کمانڈر محمد دیف نے حماس کے میڈیا پر ویڈیو پیغام میں آپریشن کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے اور فلسطینیوں سے ہر جگہ لڑنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمین پر آخری قبضے کو ختم کرنے کی سب سے بڑی جنگ کا دن ہے۔

غزہ 2007 سے حماس کے کنٹرول میں ہے،حماس اس کے بعد سے اسرائیل کے خلاف چار جنگیں لڑ چکی ہے۔ لیکن اسرائیل کے اندر تشدد کے مناظر دو دہائی قبل فلسطینی انتفاضہ بغاوت کے خودکش دھماکوں کے بعد نظر آنے والے کسی بھی چیز کے برعکس تھے۔

یہ حملہ اسرائیل کی سیکورٹی فورسز کے لیے حیران کن تھا، یہ اسرائیلی تاریخ کی بدترین انٹیلی جنس ناکامیوں میں سے ایک ہے۔

اسلامی جہاد گروپ نے کہا کہ وہ بھی ان حملوں میں شریک ہے اور اسرائیلی فوجیوں کو بھی قید کر رکھا ہے۔ اس کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر حماس کی فوٹیج میں اس کے جنگجو اسرائیلی فوجیوں کو ایک ٹینک سے باہر نکالتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

‘براہ کرم مدد بھیجیں’

غزہ کے قریب اسرائیلی کی ناجائز بسائی گئی بستی سے ایک اسرائیلی خاتون نے این 12 سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسند اس کے گھر میں گھس آئے ہیں اور وہ بم شیلٹر کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں وہ چھپی ہوئی ہے۔

“وہ ابھی دوبارہ اندر آئے ہیں، براہ کرم مدد بھیجیں،” اس نے کہا۔ “بہت سارے گھروں کو نقصان پہنچا ہے… میرے شوہر نے دروازہ بند کر رکھا ہے… وہ گولیاں چلا رہے ہیں۔”

غزہ میں، ایک تنگ پٹی جہاں 2.3 ملین فلسطینی 16 سالوں سے اسرائیلی ناکہ بندی کے تحت زندگی گزار رہے ہیں، وہاں کے رہائشی آنے والے دنوں کی جنگ کے اندیشے پر سامان خریدنے کے لیے مارکیٹس پہنچ گئے۔ کچھ نے اپنے گھر خالی کر دئیے اور پناہ گاہوں کا رخ کیا۔

اسرائیل کی سرحد پر جھڑپوں میں سیکڑوں فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے، جہاں جنگجوؤں نے کراسنگ پوائنٹ پر قبضہ کر لیا اور باڑ توڑ دی۔ ان مرنے والوں میں سے عام فلسطینی شہری بھی تھے۔

فلسطینی خاتون امل ابو دقہ نے خان یونس میں اپنے گھر سے نکلتے ہوئے رائٹرز کو بتایا کہ “ہم خوفزدہ ہیں۔”

بائیڈن کی نیتن یاہو کو تعاون کی پیشکش

امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے فلسطینی حملے کی مذمت کی اور اسرائیل کی حمایت کا وعدہ کیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ میں نے وزیر اعظم نیتن یاہو پر واضح کر دیا ہے کہ ہم اسرائیل کی حکومت اور عوام کو ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بائیڈن نے مزید کہا کہ “اسرائیل کو اپنے اور اپنے لوگوں کے دفاع کا حق حاصل ہے۔ امریکہ اسرائیل سے دشمنی رکھنے والے کسی بھی دوسرے فریق کو خبردار کرتا ہے جو اس صورت حال میں فائدہ اٹھانا چاہتا ہے”۔

پورے مشرق وسطیٰ میں حماس کی حمایت میں مظاہرے ہوئے، اسرائیلی اور امریکی پرچم نذر آتش کیے گئے اور عراق، لبنان، شام اور یمن میں فلسطینی پرچم لہرائے گئے۔

حماس کے حملے کی ایران اور لبنانی اتحادی حزب اللہ نے کھل کر تعریف کی۔

اقوام متحدہ کے مشرق وسطیٰ کے امن مندوب نے اسرائیل پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں خبردار کیا: “یہ ایک خطرناک دھارا ہے، اور میں سب سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ دہانے سے پیچھے ہٹ جائیں۔”

حماس کے میڈیا نے ایسی ویڈیوز دکھائیں جن میں اس کے بقول جنگجوؤں کے ذریعے غزہ میں لائی گئی اسرائیلی فوجیوں کی لاشییں ہیں اور فلسطینی بندوق بردار اسرائیلی گھروں کے اندر اور جیپوں میں اسرائیلی قصبے سے گزر رہے ہیں۔

بڑھتے ہوئے تشدد کا پس منظر

یہ تازہ تصادم اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تشدد کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

اسرائیل خود داخلی سیاسی ہلچل کا سامنا کر رہا ہے، اپنی تاریخ میں سب سے زیادہ دائیں بازو کی حکومت نے عدلیہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

دریں اثنا، واشنگٹن ایک ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو معمول پر لائے گا، جسے اسرائیلی اپنے عرب پڑوسیوں کی طرف سے تسلیم کرنے کی دہائیوں سے جاری جدوجہد میں اب تک کے سب سے بڑے انعام کے طور پر دیکھتے ہیں۔ فلسطینیوں کو خدشہ ہے کہ اس طرح کی کوئی بھی ڈیل ان کے مستقبل کے ایک آزاد ریاست کے خواب کو بیچ سکتی ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے “اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کو فوری طور پر بند کرنے” کا مطالبہ کیا۔

Continue Reading
1 Comment

1 Comment

  1. الرغبة الجنسية

    فروری 24, 2024 at 1:20 شام

    Excellent post. I used to be checking continuously this weblog and I am inspired!

    Extremely useful information particularly the final
    phase 🙂 I handle such info a lot. I used to be looking for
    this certain info for a long time. Thank you and good luck.

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین