Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

ترکی الیکشن: صدر اردوان کو رن آف مرحلے میں ہرانا ناممکن

Published

on

ترکی صدارتی الیکشن کے لیے ڈالے گئے 99 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد یہ واضح ہو رہا ہے کہ 28 مئی کو ووٹنگ کا دوسرا مرحلہ ہوگا، صدراردوان نے کل ڈالے گئے ووٹوں میں سے 49.40 فیصد ووٹ لیے، ان کے حریف کمال کیلچ در اولو 44.96 فیصد ووٹ لیے۔ اس الیکشن کا سرپرائز ترک قوم پرست لیڈر سنان اوغان نے دیا جنہیں 5.2 فیصد ووٹ ملے۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کی جسٹس پارٹی ان نتائج پر حیران نہیں، الیکشن سے پہلے ہونے والے کئی انتخابی جائزوں میں کمال کیلچ در اولو کو صدر اردوان سے معمولی برتری کے ساتھ آگے دکھایا گیا تھا لیکن جسٹس پارٹی کے اپنے انتخابی جائزے اس کے حق میں ہی تھے۔

صدر اردوان کی جماعت جسٹس پارٹی نے پچھلے ماہ سات انتخابی جائزے کرائے تھے ان سب میں صدر اردوان دو سے تین پوائنٹس کے ساتھ آگے تھے اور ان جائزوں میں بھی الیکشن رن آف تک پہنچتا دکھائی دیا تھا۔ اب جسٹس پارٹی کے انتخابی جائزے سچ ثابت ہوئے۔

صدر اردوان کے قریبی ساتھیوں کو یقین ہے کہ رن آف کا مرحلہ وہ آسانی سے عبور کر لیں گے،ان کے اس یقین کی دو وجوہات ہیں۔

پہلی: پارلیمانی فتح، 2018 کے پارلیمانی انتخابات کی نسبت جسٹس پارٹی کی مقبولیت 8 فیصد کم ہوئی اور اسے 35.4 فیصد ووٹ ملے اور 266 نشستوں پر کامیابی ملی، جسٹس پارٹی کی اتحادی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کی مقبولیت میں صرف ایک فیصد کمی آئی، اس نے دس فیصد ووٹوں کے ساتھ 50 نشستیں جیتی ہیں، اتحادی جماعت کی نشستیں ملا کر صدر اردوان کو پارلیمنٹ میں اکثریت دوبارہ مل گئی ہے۔

ترک عوام بیک وقت دو جماعتوں کو اقتدار تک نہیں لاتے اس لیے پارلیمان میں واضح اکثریت کے بعد رن آف مرحلہ صدر اردوان کے لیے مشکل نہیں رہا۔

دوسری وجہ: تیسرے صدارتی امیدوار سنان اوغان ہیں، موجودہ انتخابی نتسائج کے مطابق سنان اوغان نے وسطی اناطولیہ میں صدر اردوان کا ووٹ بنک ہڑپ کیا، صدر اردوان کو قونیہ میں 5.3 فیصڈ ووٹ سے محروم ہونا پڑا،صدر اردوان کو2018 کے الیکشن میں یہاں سے 74.2 فیصد ووٹ ملے تھے لیکن اس بار انہیں 68.9 فیصد ووٹ مل سکے، یہاں سے سنان اوغان نے 6.76 فیصد ووٹ لیے۔ وسطی اناطولیہ کے بڑے شہر قیصری میں صدر اردوان کا ووٹ بینک 2018 کی نسبت 6.6 فیصد کم ہوا، یہاں سے سنان اوغان نے 8.7 فیصد ووٹ لیے۔

اسی طرح صدر اردوان نے یوزگت سے 72.6 فیصد ووٹ لیے ہیں جبکہ 2018 میں وہ یہاں سے 75.5 فیصد ووٹ سمیٹنے میں کامیاب ہوئے تھے، سنان اوغان نے یہاں سے 5.7 فیصد ووٹ لیے ہیں، سیواس میں صدر اردوان نے 2018 میں 72.3 فیصد ووٹ لیے تھے لیکن اس بار انہیں 69.6 فیصد ملے، یہاں سے سنان اوغان کو 6.1 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

ان تمام شہروں میں کمال کلیچ در اولو کا ووٹ 2018 کی پوزیشن پر کھڑا ہے یا پھر دو سے تین فیصد کم ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صدر اردوان کے ٹوٹنے والے ووٹ سنان اوغان کو ملے اور اس کی وجہ معاشی خراب حالات اور تارکین وطن کے خلاف جذبات بنے۔

رن آف مرحلے میں صدر اردوان کو یہ ووٹ واپس ملنے کے امکانات ہیں کیونکہ اگر قوم پرست ووٹ ہی فیصلہ کن ہے تو کمال کیلچ در اولو کی نسبت وہ قوم پرستوں کے لیے زیادہ قابل قبول ہیں۔

صدر اردوان کے پاس ابھی مزید کارڈ کھیلنے کو موجود ہیں، کمال کیلچ در اولو نے نائب صدر کے امیدواروں کا اعلان پہلے سے کر رکھا ہے، صدر اردوان مانیٹری پالیسی پر بھی نظرثانی کر سکتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین