Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

دنیا

دنیا کی بڑی جھیلوں، ذخائر میں پانی تیزی سے کم ہورہا ہے، سائنسدانوں کا انتباہ

Published

on

ایک نئی تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ1990 ء کی دہائی کے اوائل سے دنیا کی بڑی جھیلیں اور آبی ذخائر سکڑ رہے ہیں اور اس کی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے، اس نئی تحقیق نے زراعت، پن بجلی اور انسانی ضروریات کے لیے درکار پانی کے متعلق تشویش کو بڑھا دیا ہے۔

بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے جمعرات کو رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق بحیرہ کیسپین سے لے کر جنوبی امریکا کی جھیل ٹیٹیکاکا تک میٹھے پانی کے ذخائر تین دہائیوں سے سالانہ 22 گیگا ٹن کی مجموعی شرح سے پانی کھو رہے ہیں، یہ امریکا کے سب سے بڑے ذخیرے، لیک میڈ کے حجم کا تقریبا 17 گنا ہے۔

ایک سائنسی جریدے میں شائع تحقیق بتایا گیا کہ افغانستان، مصر اور منگولیا کی جھیلیں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی زد میں ہیں، کچھ جھیلوں اور ذخائر میں پانی میں اضافہ بھی ہوا لیکن اس کی وجہ ڈیموں کی تعمیر ہے جیسے تبت کا علاقہ۔

قدرتی جھیلیں اور ڈیم زمین پر موجود پانی کا تقریبا 87 فیصد اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں، اگرچہ یہ جھیلیں اور ڈیم  زمین کی سطح کے صرف 3 فیصد حصے پر موجود ہیں۔ یہ تازہ رپورٹ 1992 سے 2020 کے دوران سیٹلائٹ تصویروں کے ڈیٹا کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا کے پروفیسر فانگ فانگ یاؤ نے اس تحقیقی ٹیم کی قیادت کی، پروفیسر فانگ فانگ یاؤ بتاتے ہیں کہ قدرتی جھیلوں میں پانی کی 56 فیصد کمی کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ اور انسانی استعمال کی وجہ سے ہوا لیکن کمی میں زیادہ حصہ درجہ حرارت نے ڈالا۔

پروفیسر فانگ فانگ یاؤ کہتے ہیں کہ موسمیاتی سائنس سے وابستہ کئی سائنسدان یہ خیال کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا کے بارانی اور کم پانی والے علاقے مزید خشک ہو جائیں گےاور زیادہ پانی والے تر علاقے مزید تر ہو جائیں گے لیکن اس نئی تحقیق میں تر علاقوں میں پانی کی کمی کی رفتار زیادہ دیکھی گئی اور اسے بالکل نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔

سائنسدانوں نے آب و ہوا اور ہائیڈرولوجیکل ماڈلز کے ساتھ سیٹلائٹ پیمائش کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 2,000 بڑی جھیلوں کا جائزہ لیا۔ 53 فیصد جھیلوں میں پانی کی مسلسل کمی نوٹ کی گئی۔

سائنسدانوں اور مہم چلانے والے طویل عرصے سے کہ رہے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے انتہائی تباہ کن نتائج سے بچنے کے لیے گلوبل وارمنگ کی رفتار کو 1.5 ڈگری سیلسیس کے اندر روکنا ہوگا، دنیا اس وقت تقریباً 1.1C (1.9F) کی شرح سے گرم ہو رہی ہے۔

عائشہ عمران لاہور سکول آف اکنامکس میں بی بی اے کی سٹوڈنٹ ہیں، کنیئرڈ کالج میں بھی زیرتعلیم رہیں، سائیکالوجی، میڈیا مارکیٹنگ، ڈیٹا الیسز ان کی خصوصی دلچسپی کے مضامین ہیں ۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین