Urdu Chronicles

Urdu Chronicles

کالم

بیرسٹر گوہر ہی عمران خان کے جانشین کیوں؟

Published

on

بیرسٹر گوہرخان کی تحریک انصاف کے چئیرمین کے طور پر نامزدگی کے بعد میڈیا پر ایک ہنگامہ پرپا ہے کہ عمران خان نے خود کو پی ٹی آئی سے مائنس کرلیا یا پھر یہ کہ عمران نے سیاست میں ایک غیرمعروف شخصیت کو پارٹی چئیرمین نامزد کرکے بڑے بڑے ناموں کو نظرانداز کردیا۔ اس بات کا بھی شور ہے کہ چئیرمین تحریک انصاف کی اہلیہ اور بہنوں کے درمیان پارٹی سربراہی حاصل کرنے کی جنگ چل رہی ہے لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ عمران خان نے یہ کام کرکے غلط کیا کیا ہے ؟

یہ بات درست ہے کہ اس نامزدگی میں ایک بار پھر عمران خان نے کمزور شخصیات کی ٹیم کوساتھ لے کر سیاست کرنے کا روایتی انداز اپنایا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کو پہلی بار کوئی سیانا مشیر ملا ہے جس نے انہیں حالات کی نزاکت کا اندازہ دلایا اور یہ صائب مشورہ دیا کہ خود کو وقتی طور پر پارٹی کے آئینی عہدے سے الگ کرکے قائد کے منصب پر چلے جائیں تاکہ مخالفین کو الیکشن میں کھلا میدان نہ مل سکے۔

الیکشن ایکٹ کے تحت کوئی بھی سزایافتہ شخص نہ تو خود الیکشن لڑ سکتا ہے اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی کا عہدیدار یا سربراہ رہ سکتا ہے۔ بلکہ سزا یافتہ شخصیت کی سربراہی میں سیاست کرنے والی پارٹی کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہی نہیں۔ یہ وہی صورتحال ہے جس سے اس سے قبل بینظیر بھٹو اور نوازشریف گذر چکے ہیں۔

2002کے انتخابات سے قبل جنرل مشرف نے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر متعارف کرایا جس میں انہوں نے اس وقت کی تمام معروف سیاسی لیڈرشپ کو انتخابی میدان سے باہر رکھنے کے لئے کئی قوانین بنائے۔ الیکشن لڑنے کے لئے بی اے پاس ہونا لازم قرار دیا گیا۔ جس سے کئی سینئیر ترین سیاستدان انتخابی میدان سے آوٹ ہوگئے، اس کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں الیکٹ ایبلز بھی اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بیویوں، بھتیجے، بھانجوں کو الیکشن لڑانے پر مجبور ہوگئے۔ اسی طرح سزا یافتہ افراد کے لئے کسی بھی سیاسی پارٹی کا عہدہ رکھنا ممنوع کردیا گیا۔ جس سے بینظیر بھٹو،نوازشریف، شہبازشریف کا تو مکمل طور پر پتہ صاف کردیا گیا۔

اس موقع پر بینظیر بھٹو نے سمارٹ چال چلی اور ان کے وکلا  نے راتوں رات پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے نام سے مخدوم امین فہیم کی صدارت میں ایک نئی پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹر کروا دی۔ اور کہا کہ پیپلزپارٹی اس نئی جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لےگی۔

دوسری طرف میاں نوازشریف نے اپنی جگہ مخدوم جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ نون کا قائم مقام صدر بنا کر پارٹی کو الیکشن میں اتارا۔ اس طرح جنرل مشرف کی بینظیربھٹو اور نوازشریف سے تو جان چھوٹ گئی لیکن دونوں بڑے سیاسی لیڈرز نے بھی اپنی جماعتوں کو الیکشن سے باہر رکھنے کی سازش کو ناکام بنا دیا۔

انتخابات ہوئے، زور کا رن پڑا اور فوجی حکومت کی تمام تر سپورٹ کے باوجود بینظیر بھٹو اور نوازشریف نے مشرف کی کنگزپارٹی کو ہرا دیا۔ جنرل مشرف کی حمایت یافتہ قاف لیگ سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرسکی۔ یہ الگ بات کہ فوجی سرکار نے پیپلزپارٹی توڑ کر قاف لیگ کی حکومت بنوا دی۔

ماضی کے جھروکے میں جھانکنے کا مقصد یہ سمجھانا تھا کہ آج کی صورتحال نئی نہیں۔ اس وقت تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کے جس قہر کا شکار ہے اگرچہ اس میں ان کے اپنے کرموں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ تاہم عمومی طور پر حالات وہی ہیں جس کا ماضی میں کبھی پیپلزپارٹی شکار رہی اور کبھی مسلم لیگ نون۔

مران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد جس طرح انتہائی جذباتی اور قدرے نامعقول اورغیرسیاسی اندازمیں اپنی پارٹی کو پارلیمنٹ سے نکال لیا اور پھر اپنی دو صوبائی حکومتیں خود اپنے ہی ہاتھوں ختم کرڈالیں۔ اس رویے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ خطرہ مکمل طور پر اپنی جگہ موجود تھا کہ ریاستی سختیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عمران خان الیکشن کا بائیکاٹ کرسکتےہیں۔ لیکن اس بار لگتا ہے کہ انہیں کوئی عقلمند مشیر مل گیا ہے جس نے انہیں حالات کو سنبھالنے کا مشورہ دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے جب ان کی پارٹی کے جماعتی انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے نئے پارٹی الیکشن کروانے کا حکم دیا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اپنی پارٹی سے عمران خان کو مائنس کرکے الیکشن میں لے کر آئیں۔ عمران خان نے معاملے کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ایک بہتر فیصلہ کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کی سیاست، شخصیات کے گرد ہی گھومتی ہے۔ عمران خان جیل میں ہوں یا جیل سے باہر تحریک انصاف کا ووٹ ان کے نام سے ہی پڑے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے 2002 کے انتخابات میں پارٹی سربراہی سے محرومی اور بیرون ملک ہوتے ہوئے بھی اپنی جماعتوں کے تمام ٹکٹ بینظیر بھٹو اور نوازشریف نے ہی جاری کئے تھے۔ اور اب تحریک انصاف میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس لئے ان کے سیاسی مخالفین کے لئے ان کے اس اقدام پر تنقید کی زیادہ گنجائش نہیں۔

جہاں تک پارٹی چئیرمین کے عہدے پربیرسٹر گوہر خان کے انتخاب کی بات ہے تو اس میں بھی عمران خان کی وہی اپروچ سامنے آئی ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے 2018 کے الیکشن کے بعد برسراقتدار آکر کیا۔ جس طرح انہوں نے اس وقت مرکز میں جہانگیرترین، حامد خان جیسی قدآور شخصیات کو پیچھے کردیا تھا۔ اور پنجاب میں علیم خان جیسے دیرینہ ساتھیوں کو جیل میں پھینک کر ایک یکسر غیرمعروف چہرے عثمان بزدار کو وزیراعلی بنا دیا۔ اسی طرح اب پارٹی چئیرمین کے معاملے پر انہوں نے اپنی اہلیہ کی خواہش پوری کی نہ ہی بہنوں کی باتوں پر کان دھرا۔  شاہ محمود قریشی، حامد خان، علی محمد خان جیسے سینئیر لوگوں کو بھی چھوڑ کر انہوں نے اپنے وکیل بیرسٹر گوہرخان کو پارٹی چئیرمین نامزد کردیا ہے۔

گوہرخان کئی حوالوں سے بڑی اہمیت کی حامل شخصیت ہیں کہ وہ گذرے دنوں میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے وکیل رہے ہیں۔ عمران خان کے خلاف نیب نے جو تازہ ترین القادر ٹرسٹ ریفرنس دائر کیا ہے اس کی تمام تر کہانی ملک ریاض کے گرد ہی گھومتی ہے۔ اور اس میں ملک ریاض کا بیان بہت فیصلہ کن اہمیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں عمران خان نے ملک ریاض کے قانونی مشیر کو اپنی پارٹی کا سربراہ بنا کر ملک ریاض کو بڑا پیغام دیا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ گوہرخان اس اہم ترین کیس میں عمران خان اور ملک ریاض کے درمیان کوئی کردار ادا کرپاتے ہیں ؟

گوہرخان اگرچہ ڈارک ہارس بن کر سامنے آئے ہیں۔ ان کی نامزدگی سے عمران خان نے اپنی پارٹی کی انتخابی سیاست پر ایک بڑے وار کو بے اثر کردیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ وہ اس نئے بندوبست کے ساتھ اپنی پارٹی کو کس طرح الیکشن لڑواتے ہیں۔ انتخابی میدان کی آزمائش ہو یا مقدمات کی بھرمار، گوہرخان کا بھی امتحان ہےکہ وہ عمران خان کے لئے آسانیاں لاتے ہیں یا پھر وہ بھی عثمان بزدار ہی ثابت ہوتے ہیں جو اقتدار کا موج میلہ ختم ہونے کے بعد ایسے غائب ہوئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

لاہور سے سینئر صحافی ہیں۔ جنگ،پاکستان، کیپیٹل ٹی وی، جی این این اور سما ٹی وی سمیت ملک کے نامور اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے سیاسی رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مختلف اخبارات میں ان کے آرٹیکلز باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں جبکہ ٹی وی چینلز پر کرنٹ افئیر کے پروگرامز میں بھی بطور تجزیہ کار ان کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین