Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

پاکستان

ڈالر کی قیمت میں 40سے 50روپے اضافہ مصنوعی ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار

Published

on

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک میں روپے کی قدر میں کمی مصنوعی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ڈالر کی قیمت میں 40 سے 50 روپے کا اضافہ مصنوعی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 278 روپے اور اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 300 روپے سے زیادہ ہے۔

اسحاق ڈار نے اکنامک سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم بیرونی کمٹمنٹ پوری کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اپنی مالی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کرے گا۔ عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی ہوئی ہے۔موجودہ مالی سال بہت چیلنجنگ تھا۔ انھوں نے موجودہ مالی سال کا اکنامک سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معیشت کو 2017 والی پوزیشن پر واپس لانا ہے جب ملک دنیا کی 24ویں معیشت تھا جو گذشتہ چند سال میں 47 ویں پر چلا گیا۔

انھوں نے کہا میکرو اکنامک استحکام کے ساتھ دیرپا اور شمولیتی معاشی گروتھ کا ہدف حاصل کرنا ہے جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو مالی دباؤ تھا اور مہنگائی اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھ رہا تھا۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی فنانسنگ کا شعبہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ ڈیفالٹ کر جائیں گے لیکن معیشت میں گراوٹ رک چکی ہے اور معیشت کی بحالی کے لیے تیزی سے کام ہو رہا ہے۔موجودہ حکومت نے سات فیصد سے زیادہ مالی خسارہ چھوڑا۔ کرنٹ اکاونٹ چار فیصد سے زیادہ ہو گیا اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری گر گئی۔ پاور سیکٹر میں گردشی قرضہ چار سال میں 2400 ارب سے زیادہ ہو گیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ جو کہتےہیں ڈالر مہنگا ہونےسے برآمدات بڑھتی ہیں وہ جانے کون سی دنیا میں رہتے ہیں،سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے جو ہوسکا وہ کریں گے، روپے کی قدر میں گراوٹ کی ہمیشہ مخالفت کی،روپے کی بے قدری سے مہنگائی اور شرح سود بڑھتی ہے ۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ مارکیٹ میں منفی تاثر ہے، لوگ گھبرائے ہوئے ہیں،پراجیکٹ 2010کا 2022میں انا اللہ و انا الیہ راجعون ہوگیا،آئندہ مالی سال میکرو اکنامک استحکام پر کام کریں گے،حکومت نے 5 ڈرائیونگ ایریاز سے متعلق روڈمیپ تیار کیا ہے، ایکسپورٹ، ایکویٹی، انرجی، انوائرمنٹ، امپاورمنٹ روڈ میپ کا حصہ ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ریونیو کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے۔

محمد علی عمران لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز ( لمز) میں معیشت کے طالب علم اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں۔ ملک کی سیاسی صورتحال اور عالمی منظرنامے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ مختلف سماجی و معاشی مسائل پرلکھتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین