Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

کالم

عدلیہ کے خلاف مہم جوئی

Published

on

الیکشن کی آمد آمد ہے لیکن انتخابی ماحول اُس طرح سے بنتا دکھائی نہیں دے رہا  جیسا کہ عام انتخابات  پر عام طور نظر آتا ہے۔گونج اِس وقت ایک ہی ہے کہ لیول پلیئنگ فیلڈ دی جائے اور یہ مطالبہ تحریک انصاف اورپیپلزپارٹی کی جانب سے کیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کا بلے کا نشان واپس ہوگیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف وہی وطیرہ اپنا رہی ہے جو وہ اپناتی رہی ہے ۔اداروں پر حملہ کرنا پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے طرز سیاست رہا ہے اوراب کی بار سوشل میڈیا پر عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قانونی کسوٹی پر پرکھا جائے تو سپریم کورٹ نے  میرٹ پرفیصلہ دیا ہے ۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ واضح نہیں ہوتاکہ کہیں سے  پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات کرائے ہیں ۔سب سے اہم ریمارکس جو عدالت کی جانب سے آئے وہ یہ تھے کہ پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن  پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا، عدالتی استفسار پر بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے 13جماعتوں کے انتخابی نشان لیے، الیکشن کمیشن نےکہا کہ پی ٹی آئی نے انتخابات نہیں کرائے، یہاں تک کہ الیکشن کمیشن کو بھی یہ بتایا نہیں گیا کہ الیکشن کہاں ہو رہے ہیں ۔ت

حریک انصاف کا یہ کہنا آسان ہے کہ الیکشن کمیشن کسی کا آلہ کار ہے  لیکن اصل بات تو یہ ہے تحریک انصاف اگر اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھے تو وہ سپریم کورٹ میں بہت مشکل سے اپنے مؤقف کا دفاع کرتی نظر آئی ۔چیف جسٹس  بیرسٹر علی ظفر پر حاوی نظر آئے اور بیرسٹر آئیں بائیں شائیںکرتے رہے ۔یہ بات درست ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے پہلے ہی ذہن بنا لیا تھاکہ چیئرمین تحریک انصاف کا عہدہ بیرسٹر گوہر کو دینا ہے ۔اکبر ایس بابریہی تو شکایت کر رہے تھے کہ وہ اِس عہدے پر انتخاب لڑنا چاہتے تھے لیکن اُنہیں ایسا نہ کرنے دیا۔پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں کو یہ علم تک نہیں  تھاکہ پارٹی انتخابات کہاں ہوئے ۔

بیرسٹر علی ظفر کہتے ہیں کہ بیرسٹر گوہر کے مقابلے میں کوئی اُمیدوار نہیں تھا یہ کیسے ہوسکتا ہے؟اکبر ایس بابراگر پارٹی کے رکن نہیں تو اِن کو فارغ کرنے کا کوئی نوٹیفکیشن کیوں عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔بلکہ بیرسٹر علی ظفر نے تو عدالت کو بتایا کہ اگر اکبر ایس بابر ہمیں پینل دیتے تو ہم اُس پر غور کرتے اِس کا مطلب اکبر ایس بابر اب بھی تحریک انصاف کے رکن ہیں ۔

چیف جسٹس صاحب نے بالکل درست فرمایا کہ پی ٹی آئی میں لوگ الیکشن سے نہیں سلیکشن سے آئے۔آپ دیکھئے کہ بلے کے نشان پر سماعت کے دوران ہی تحریک انصاف نےپلان بی پر عمل کرلیا جب اُس نے اپنے قومی وصوبائی اُمیدواروں کو پی ٹی آئی نظریاتی کے ٹکٹس جاری کردیئے ۔ اِس جماعت کا نشان  بلے باز ہے  یعنی اگر  بلے سے ملتا جلتا نشان مل جاتا تو  تحریک انصاف کو ووٹرز کوووٹ ڈالنے میں  مشکل نہ ہوتی ۔تحریک انصاف کا بلے باز کے نشان پر اپنےاُمیدواروں کو ٹکٹ جاری کرنا اِس بات کا ثبوت تھا کہ  اندر ہی اندرتحریک انصاف کے وکلا کو بھی پتہ تھا کہ وہ غلط بات کا دفاع کر رہے ہیں اور وہ بلے کا نشان حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ اِس لیے انہوں نے متبادل تلاش کرنا شروع کردیا۔

سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ  پی ٹی آئی نظریاتی کےچیئرمین اختر اقبال ڈار نے میڈیا ٹاک میں کہا کہ اُن کا کوئی معاہدہ تحریک انصاف کے ساتھ نہیں ہوا کہ اُن کے اُمیدوار پی ٹی آئی کی نظریاتی ٹکٹ پر لڑیں گے ۔اُنہوں نے جعلی ٹکٹ داخل کرائیں ۔بقول اختر اقبال ڈار پی ٹی آئی کے رہنما کرپٹ ہیں جن سے ہاتھ نہیں ملایا جاسکتا۔یعنی وہ تو انکار کر رہے تھے اور اوپر سے پی ٹی آئی مبینہ معاہدہ لے آئی جس میں یہ ذکر تھا کہ پی ٹی آئی نظریاتی پی ٹی آئی کے اُمیدواروں کو ٹکٹ دینے پر راضی تھی۔اب ممکن ہے یہ معاملہ مزید آگے بڑھا تو پی ٹی آئی کے اِن اُمیدواروں پر فراڈ کے مقدمے بن سکتے ہیں ۔

مختصر یہ ہے کہ اب  پی ٹی آئی تقریبا تقریبا انتخابات کی دوڑ سے باہر ہوچکی ہے ۔بانی پی ٹی آئی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں یہ فرما رہے ہیں کہ  ملک میں صاف وشفاف انتخابات پر ہی مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب بانی پی ٹی آئی اِس پوزیشن میں ہیں کہ وہ مذاکرات کرسکیں ۔جب مذاکرات کرنے تھے تب وہ اداروں کو ٹارگٹ کرتے رہے اب اُن کو مذاکرات یاد آرہے ہیں۔اور ساتھ اُن کی جماعت اب بھی پرانے وطیرے پر چلتے ہوئے الزام تراشی اور اداروں کی ساکھ خراب کرنے کے چلن سے باز نہیں آرہی ۔انٹرا پارٹی الیکشن میں دھوکہ دہی آپ کریں اور دوسری جماعت کے انتخابی نشان کواپنے ساتھ جوڑنے کی بھونڈی کوشش آپ کریں اور آپ کو کوئی پوچھے بھی نہ۔اگر یہی فیصلہ پی ٹی آئی کے حق میں آجاتا تو عدلیہ کا بول بالا ہوجاتا۔یہی چیف جسٹس  سب سے معتبر بن جاتے ۔

اب ظاہر ہے تحریک انصاف انتخابی نشان جانے کے بعد انتخابات سے تقریبا باہر ہوچکی ہے ۔اور اب وہ یہ بیانیہ بنا رہی ہے کہ ملک کی اعلی عدلیہ کے ججز کا اسٹیبلشمنٹ سےگٹھ جوڑ ہے ۔صرف یہی نہیں سوشل میڈیا پر چیف جسٹس اور اُس بینچ کے دیگر ساتھی ججز کے خلاف تضحیک آمیز پوسٹس شیئر کی جارہی ہیں۔ یہ تحریک انصاف کی جانب سے کیا جارہا ہے اور ایسا اِس لیے کیا جارہاہے تاکہ وہ قاضی فائز عیسی کو اینٹی پی ٹی آئی  ثابت کرکے اپنا بیانیہ بنا کر الیکشن لڑسکے ۔

واقفان حال کے مطابق سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چل رہی ہے جس میں قاضی فائز عیسیٰ اور سپریم کورٹ کو مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اگر پی ٹی آئی آج الیکشن نہیں لڑ پا رہی یا امیدوار عوام کے سامنے نہیں آ پا رہے یاکل کو اگر وہ حکومت نہیں بنا پاتی تو اس کا صرف اور صرف ایک شخص ذمہ دار ہوگا اور اُس شخص کا نام جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہوگا۔ اِس مہم  پر بڑا پیسہ خرچ کیا جا رہا ہے، اور یہ مہم چلانے کا سلسلہ الیکشن تک جاری رہے گا کیونکہ تحریک انصاف کو ایک ولن چاہیے تھا، اب سوال یہ ہے کہ کیا صرف یہی مقصد ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی  کو الزام دےکر پی ٹی آئی  الیکشن جیت سکے؟ نہیں، اِس  کا ایک بڑا مقصد یہ بھی ہےجو  تحریک انصاف حاصل کرنا چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی سپریم کورٹ میں ایک نظر ثانی درخواست دائر کرنا چاہتی ہے۔ظاہر ہے  اِس بینچ میں وہ جج صاحبان بھی شامل نہیں ہوں گے جو پہلے متعلقہ کیس سن چکے ہیں، تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ اس سے پہلے ہی اِتنی منفی مہم چلائی جائے کہ عدلیہ کے پاس کوئی آپشن ہی نہ بچے اور وہ دباؤ  میں آکر بلا بحال کردے ، ممکن ہے جج صاحبان محسوس کریں کہ ہم پاکستان تحریک انصاف کے خلاف فیصلہ دیتے ہیں تو ہم بھی ٹرولنگ کے ریڈار میں آ جائیں گے اور ہمیں خود کو اِس سے بچانا چاہیے۔

اب عدلیہ کیخلاف کردار کشی کی مہم پر سپریم کورٹ بار کا بھی رد عمل سامنے آیا ہے ۔ صدر سپریم کورٹ بار شہزاد شوکت نے کہا ہے کہ مرضی کے خلاف فیصلہ آنے پرعدلیہ کوٹارگٹ کیا جاتا ہے، عدلیہ کے خلاف مہم قابل مذمت ہے، اداروں اور ججز پرتنقید کرنے کی روش کو روکنا ہوگا۔اب جج صاحبان کی کردار کشی کوروکنے کیلئے جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے ۔ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پرمہم چلانے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے وفاقی حکومت نے کردارکشی کے مہم چلانے والوں کو کٹہرے میں لانے کے لئے جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم بنا دی ہے۔ججوں کے خلاف کردار کشی مہم کی تحقیقات کرنےوالی ٹیم کے سربراہ ایف آئی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ہوں گے ۔ یہ ٹیم ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پر مواد اپ لوڈ کرنے والوں کی نشاندہی کرےگی.ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سائبر کرائم ونگ ایف آئی اے کمیٹی کے کنوئنئیرہونگے۔ کمیٹی میں گریڈ 20 کے آئی بی اور آئی ایس آئی کا رکن بھی شامل ہوگا۔ کمیٹی میں اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی بھی شامل ہیں۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کا نمائندہ بھی کمیٹی میں شامل ہوگا۔

یہ کمیٹی ججوں اور عدلیہ کے متعلق پوسٹ کئے جانے اور پھیلائے جانے والے مواد کی سکیننگ کرکے ایسے مواد کو پوسٹ کرنے اور پھیلانے کی مہم میں ملوث ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔ کمیٹی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تجاویزبھی مرتب کرے گی۔اب ایک طرف تحریک انصاف عدلیہ سے ان صاف بھی مانگتی ہے دوسری جانب کردار کشی بھی کرتی ہے ۔تحریک انصاف کے وکلا  نے کیس درست طریقے سے لڑا نہیں اور اپنی ناکامی کا ملبہ ججز پرڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش شروع کردی ۔تحریک انصاف کو چاہیےکہ ہوش کے ناخن لے اور عدلیہ کی تضحیک کرنا بند کرے اور حقیقت پسندی سے کام لے ورنہ یہ جے آئی ٹی اِس کی مشکلات میں مزید اضافہ کردے گی جب عدلیہ کے خلاف مہم چلانےو الے کردار بے نقاب ہوں گے اور اُنہیںسزائیں ملیں گی

عمران یعقوب خان پاکستان کے سینئر صحافی، تجزیہ کاراور براڈکاسٹر ہیں، تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز میں کلیدی عہدوں پر کام کرچکے ہیں، جیو نیوز کی بانی ٹیم کے رکن تھے ،اس سے پہلے وہ روزنامہ جنگ میں بطوررپورٹراور فیچر رائٹر بھی کام کرتے رہے، وہ 92 نیوز ،دنیا نیوز اور نیوز ویک پاکستان کے ڈائریکٹر نیوز کی حیثیت سے بھی کام کرچکے ہیں، ان دنوں جی این این ٹی وی سے منسلک ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین