Urdu Chronicles

Urdu Chronicles

الیکشن 2023

نگران کا تقرر: راجہ جی کی جیب میں کس کی پرچی؟

Published

on

نوٹ: یہ تحریر پہلی بار25 جولائی 2023 کو شائع ہوئی، قارئین کی دلچسپی کے لیے دوبارہ شائع کی جارہی ہے

نگران وزیراعظم کے لئے مسلم لیگ نون کے تجویز کردہ اسحاق ڈار کا نام چند گھنٹے میں ہی متنازع کردیا گیا۔ جس کے بعد یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ اسحاق ڈار جیسی اہم شخصیت کا نام اس انداز سے پیش کرنا کون سی دانشمندی تھی؟  یہ بھی کہا جارہا ہے کہ کیا یہ اسحاق ڈار اور بالواسطہ طور پر نوازشریف کو زچ کرنے کی کوئی شعوری کوشش تو نہیں۔ یہ تو مسلم لیگ نون کے اندر کی بحث ہے لیکن نگران وزیراعظم کی تقرری کے اس تنازع میں ایک اور شخصیت بہت اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ اور وہ ہیں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف راجہ ریاض۔

راجہ ریاض بظاہر تو مسلم لیگ نون کی مکمل انڈرسٹینڈنگ سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنے۔ جس کے نتیجے میں نون لیگ کی قیادت میں تیرہ جماعتی اتحاد کی حکومت کو قومی اسمبلی کے اندر کسی قسم کی مزاحمت درپیش نہ تھی۔ راجہ ریاض کے بارے میں کہا گیا کہ ان کی ن لیگ سے ڈیل میں بنیادی کردار وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا رہا۔  جنہوں نے آئندہ انتخابات میں نون لیگ کے ٹکٹ کی گارنٹی دیکر راجہ ریاض کو عمران خان کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا۔ لیکن راجہ ریاض کو قریب سے جاننے والوں کو پتہ ہے کہ ان کے ‘پنڈی بوائز’ کے ساتھ بھی خاص تعلقات ہیں۔ اور عمران خان کے خلاف بغاوت سے لے کر اپوزیشن لیڈر بننے تک کے سفر میں ان کے اس تعلق کا بھی خاصا کردار رہا ہے۔

پنجاب میں پی ٹی آئی باغیوں کو جب ن لیگ نے اپنے ٹکٹ پر ضمنی الیکشن پر کھڑا کیا تو وہ بری طرح پٹ گئی۔ جس کے نتیجے میں پنجاب سے حمزہ شہباز کی حکومت ختم ہوگئی۔ اس کے بعد ن لیگ میں ایک پالیسی بن گئی کہ آئندہ پی ٹی آئی کے کسی باغی کو اپنا امیدوار بنانے کا رسک نہیں لیا جائے گا۔ اسی پالیسی کے تسلسل میں ن لیگ نے راجہ ریاض سے بھی کچھ بے اعتناعی دکھائی جس پر راجہ ریاض گذشتہ دنوں ن لیگ سے کچھ خفا نظر آئے۔ اب نگران وزیراعظم کی تقرری کا معاملہ آیا ہے تو نون لیگ کچھ پریشان بھی نظر آرہی ہے اسی لئے خواجہ آصف نے کہا کہ الیکشن میں شاہد خاقان عباسی اور راجہ ریاض کو تو پارٹی ٹکٹ گھر جاکر پیش کریں گے۔

نگران وزیراعظم کے تقرر کا طریق کار:

آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 224کے تحت نگران وزیراعظم کے تقرر کےلئے قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف ایک دوسرے کو تین تین نام تجویز کریں گے اور پھرباہمی مشاورت سے ایک نام پر اتفاق کریں گے، جس کو صدرِ مملکت بطور نگران وزیر اعظم تعینات کریں گے۔

2۔ پارلیمانی کمیٹی

قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان نگران وزیرِ اعظم کے لیے کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں آئین کے آرٹیکل 224 اے کے تحت معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس چلا جائے گا جو فیصلے کے لئے آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے۔

اس کمیٹی میں قائدِحزبِ اختلاف اور وزیرِ اعظم دو دو نام دیں گے، جبکہ سینیٹ یا قومی اسمبلی یا دونوں ایوانوں سے کل آٹھ اراکین اس کمیٹی کے ممبر ہوں گے ۔ یہ پارلیمانی کمیٹی تین دن میں نگران وزیرِ اعظم کے نام پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

3۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان

اگر پارلیمانی کمیٹی بھی تین دنوں میں کسی ایک نام پر اتفاق نہ کر پائے تو آرٹیکل 224 کے نگران وزیراعظم کی تقرری کا معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس چلا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے پانچ ممبران 48 گھنٹوں میں انہی ناموں میں سے کسی ایک کو نگران وزیراعظم مقرر کردیں گے۔ اور یہ فیصلہ حتمی ہوگا۔

راجہ ریاض کیوں اہم ہیں ؟

راجہ ریاض کے اسٹبلشمنٹ سے تعلقات کی بنیاد پر کہا جاتا ہے کہ ان کے تجویز کردہ ناموں کی پرچی بھی وہیں سے آئے گی۔ نگران وزیراعظم کون ہوگا ؟  ہوسکتا ہے اس ڈارک ہارس کا نام اسی لسٹ میں ہو جو راجہ ریاض پیش کریں۔ اور اگر وزیراعظم اور  راجہ ریاض کے درمیان ڈیڈ لاک پیدا ہوتا ہے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی سے ہوتا ہوا تیسرے مرحلے میں جب الیکشن کمیشن کے پاس جائے گا تو اسٹبلشمنٹ کے لئے الیکشن کمیشن کے ذریعہ راجہ ریاض کا تجویز کردہ نام نوٹیفائی کروانا اسی طرح آسان ہوگا جیسے پنجاب میں اسمبلی ٹوٹنے کے بعد محسن نقوی کے کیس میں ہوا۔ اسی لئے نون لیگ راجہ ریاض کی خوشامد کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ کہ وہ ن لیگی ٹکٹ کی کشش میں وزیراعظم کے ساتھ اسی انداز سے تعاون کریں جس کی ان سے توقع کی جارہی ہے۔

ابھی دوماہ پہلے کی بات ہے، قومی اسمبلی میں راجہ ریاض  اپنے مخصوص انداز میں حکومت سے گلہ کررہے تھے کہ  ” ہماری قربانیوں کے نتیجے میں ان کی گاڑیوں پر جھنڈے لگے ہیں لیکن اب یہ ہمیں "پچھانتے” نہیں "۔ ان کی اس بے بسی اور بھولے بھالے انداز پر ن لیگی  وزراء نے کھل کر قہقہے لگائے۔ لیکن اب یہ وزرا پریشان نظر آرہے ہیں کیوں کہ راجہ جی اہم ہونے والے ہیں۔ ملک کا آئندہ نگران وزیراعظم کون ہوگا ؟  راجہ جی کے بغیر یہ فیصلہ نہیں ہوگا۔

لاہور سے سینئر صحافی ہیں۔ جنگ،پاکستان، کیپیٹل ٹی وی، جی این این اور سما ٹی وی سمیت ملک کے نامور اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے سیاسی رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مختلف اخبارات میں ان کے آرٹیکلز باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں جبکہ ٹی وی چینلز پر کرنٹ افئیر کے پروگرامز میں بھی بطور تجزیہ کار ان کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

Continue Reading
1 Comment

1 Comment

  1. فرخ بصیر

    جولائی 25, 2023 at 12:51 شام

    جاوید ،خوب تجزیہ کیا ہے آپ نے،میرا خیال ہے کہ نگراں سیٹ اپ اصل نگرانوں کی آشیر باد کے بغیر نہیں آئیگا،رہے اتحادی اور دیگر تو انہوں نے صرف initial کرنا ہے۔

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین