Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

دنیا

آسٹریلیا:95 سالہ خاتون پر ٹیزر گن کا استعمال، کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹ گئی، عوام میں اشتعال

Published

on

آسٹریلیا میں 95 سالہ ڈیمنشیا کی مریض بزرگ پر پولیس نے ٹیزر گن کا استعمال کیا، جس کی وجہ سے خاتون کے سر پر جان لیوا چوٹ آئی ہے۔ آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا سے 71 میل دور قصبے کوما میں پولیس عمر رسیدہ افراد کے کیئر ہوم اس اطلاع پر پہنچی تھی کہ خاتون کلیئر نولینڈ کے ہاتھ میں چاقو ہے۔

آسٹریلوی پولیس کسی بھی مسلح شخص کو قابو کرنے کے لیے ٹیزر گن کا استعمال کرتی ہے،اس بزرگ خاتون پر ٹیزر گن کے استعمال پر علاقے میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وکلا کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے ٹیزر گن کا استعمال نامناسب ردعمل تھا۔

نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) کی پولیس چیف نے کہا ہے کہ وہ کمیونٹی کے تحفظات سے آگاہ ہیں، اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

اسسٹنٹ پولیس کمشنر پیٹر کوٹر نےمیڈیا کو بتایا کہ نولینڈ بدھ کی صبح اپنے کمرے میں اسٹیک چاقو سے “مسلح” پائی گئیں، پولیس اور کیر ہوم کے عملے نے کشیدگی کو کم کرنے کی کوش کی، خاتون چاقو کے ساتھ پولیس اور عملے کی طرف بڑھیں، یہ درست ہے کہ وہ سست رفتاری سے آگے بڑھیں، اس موقع پر ان پر ٹیزر گن کا استعمال کیا گیا۔

ٹیزر گن کے استعمال کے بعد بزرگ خاتون سر کے بل گریں اور ان کے سر پر شدید چوٹ آئی، ان کے خاندان کے ایک دوست اینڈریو تھیلر نے دعویٰ کیا ہے کہ نولینڈ کو گرنے سے پہلے سینے اور پیٹھ پردوبار مارا گیا،ان کی کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور دماغ سے شدید خون بہہ رہا تھا۔

بزرگ خاتون نولینڈ کے اہل خانہ کو ان کی زندگی بچ جانے کی امید نہیں، خاندان شدید غمزدہ اور حیران ہے جبکہ کمیونٹی میں بھی اشتعال پایا جاتا ہے۔

کونسل برائے شہری آزادی اور معذور افراد کے حقوق کی تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس سطح کی طاقت کے استعمال کی وضاحت کیسے کی جا سکتی ہے؟ یہ وضاحتیں مضحکہ خیز ہیں۔

لوگوں کا کہنا ہے کہ اس بزرگ خاتون کو اس وقت ہمدرد شخص کی ضرورت تھی جو اسے سنبھالے نہ کہ ٹیزر گن چلادے۔

نیو ساؤتھ ویلز کی پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی سنجیدگی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، کمیونٹی کے تحفظات کو سمجھتے ہیں، ابھی تک ملوث افسر کو معطل نہیں کیا گیا لیکن اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی اور پوچھ گچھ کرنے والی ٹیم میں قتل اور اقدام قتل کی تفتیش کرنے والا اسکواڈ بھی شامل ہوگا۔

کیئر ہون کی انتظامیہ نے بھی اپنے ردعمل کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی کسی بھی صورت حال میں جو طریقہ کار طے ہے اس پر عمل کیا گیا۔

حسن تنولی نوجوان صحافی ہیں۔ انہوں نے ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ سے کمیونیکیشن میڈیا سٹیڈیز میں بی ایس کیا۔قومی و بین الاقوامی میڈیا کو دلچسپی سے دیکھتے ہیں، کھیل اور انٹرٹینمنٹ سے لگاؤ رکھتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین