Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

توہین پارلیمان کا بل پیش، مل بیٹھ کرمعاملات حل ہوتے ہیںتو کچے کے ڈاکوؤں کو آئی جی کے ساتھ بٹھائیں، ایوان میں خطابات

Published

on

قومی اسمبلی میں توہین پارلیمنٹ کا بل پیش کردیا گیا۔ بل تحریک انصاف کے باغی رکن، اسمبلی سے استعفیٰ نہ دینے والے رانا قاسم نون نے پیش کیا۔بل کو اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا اور سات دن میں رپورٹ طلب کر لی۔

یہ بل پیش کئے جانے سے پہلے حکمران بنچوں سے ارکان اسمبلی نے پارلیمان کی توہین اور اس کی روک تھام پر اظہار کیا اور تند و تیز خطاب کئے۔ وزیر قانون نے کہا کہ قانون میں ترمیم پارلیمنٹ کا اختیار ہے اور یہ حق کوئی چھین نہیں سکتا۔ میاں جاوید لطیف نے سخت لب و لہجہ اپنایا اور کہا کہ پارلیمنٹ کی توہین برداشت نہیں اگر مل بیٹھنے سے ہی سارے معاملات حل کرنے ہیں تو کچے کے ڈاکوؤں کو آئی جی کے ساتھ بٹھا دیں۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومیم اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ قانون منظور یا مسترد کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے۔قانون سازی کا حق صرف ایوان کو ہے،مؤثر قانون سازی کی حمایت کرتے ہیں،پارلیمنٹ اپنے حقوق اور اختیارات سے آشنا ہے اورپارلیمنٹ کاتحفظ کرنا جانتے ہیں،قانون میں ترمیم کا حق بھی پارلیمان کو ہوتاہے۔

تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اسد عمر کی طرف سے عمران خان اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی بند کمرہ تجویز پر بھی میاں جاوید لطیف خوب گرجے اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر کچے کے ڈاکو کو بھی آئی جی کیساتھ بیٹھ جانا چاہیے۔

میاں جاوید لطیف نے سخت رویہ اپنایا اور کہا کہ کب تک فیصلوں سے پاکستان کو نقصان پہنچایا جاتا رہے گا؟پارلیمان کی توہین کسی صورت بھی نہیں ہونی چاہئے،اسدعمر کا کہنا ہے مل بیٹھیں اور غلط فہمیاں دور کریں،میں پوچھتا ہوں کچے کے ڈاکوؤں کا کیا قصور ہے؟ مل بیٹھنا ہے تو کچے کے ڈاکوؤں کو آئی جی کے ساتھ بٹھا دیں۔

جاوید لطیف نے  پنجابی محاورے کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ مٹی پاؤ اور آگے چلو سے اب کام نہیں چلےگا۔ذوالفقار بھٹو کو پھانسی،نوازشریف کو نااہل کرکے آگے بڑھنے کا کہا گیا۔پارلیمان آئین اور قانون بناتی ہے،پارلیمان کی ساکھ سے ادارے روشنی اور رہنمائی لیتے ہیں،ماضی میں اسپیکر نے ریکارڈ سپریم کورٹ کو بھجوا کر توہین پارلیمان کیا تھا۔

جاوید لطیف نے کہا کہ دو تین ہفتوں میں ایسی ایسی سازش بے نقاب ہورہی ہے، ایسے انکشافات ہورہے ہیں، میں توسمجھتا تھا کہ اداروں کے اندر ایک طوفان برپا ہوگا کہ ہمارے اداروں کے اندر یہ الزامات کیسے لگے؟ یہ بھی سمجھتا تھا کہ وہ سخت احتساب کے لئے کوئی راہ ڈھونڈ رہے ہونگے مگر ڈھٹائی سے عہدے بھی تقسیم اور سہولت کاری بھی ہورہی ہے۔کبھی ہمیں بندوق والے پکڑ لیتے ہیں اور کبھی ہتھوڑے والے پکڑ لیتے ہیں۔ایوان سے فیصلہ کیا ہے رائے دی ہے اس معاملے پر سٹینڈ لیا جائے،اگر کسٹوڈین اس بات کا اسٹینڈ نہیں لے گا تو کون لے گا ؟ کیسے تقدس بحال ہوگا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین