Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

پاکستان

تین دہائی بعد پنجاب میں گھڑیال کی دریافت

Published

on

پاکستان میں تین دہائی بعد مگرمچھ نما گھڑیال کے شواہد ملے ہیں،گھڑیال لمبی اورپتلی تھوتھنی کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں،دوبارہ دریافت پاکستان میں اس آبی جاندار کی نسل کی بحالی کے لیے امید کی کرن ہے۔

ترجمان ڈبیلوڈبیلوایف(پاکستان)کے مطابق عرصہ 30سال بعد پنجاب کے دریائی علاقے میں گھڑیال کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں،گھڑیال کا تعلق مگرمچھ کے خاندان سے ہے.

گھڑیال لمبی اورپتلی تھوتھنی کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں،اس آبی جانور کی خوراک میں مچھلی سمیت دیگرآبی حیات شامل ہیں، ایک زمانے میں پاکستان میں دریائے سندھ اور اس سے منسلک ندیوں میں گھڑیال بڑے پیمانے پر پائے جاتے تھے،1970 کی دہائی کے وسط تک پاکستان میں معدومیت سے دوچارہونا شروع ہوئے،گھڑیال کی نسل کو شدید نوعیت کے متعدد خطرات کا سامنا ہے۔ گھڑیال کے مسکن کی تباہی کی وجوہات میں غیرقانونی شکار،درکار مچھلی اوردیگرخوراک کی کمی سمیت دیگرعوامل شامل ہیں۔

ڈائریکٹرجنرل ڈبلیوڈبلیوایف(پاکستان)حماد نقی خان نے کہا کہ یہ پیش رفت ایک حوصلہ افزا علامت ہے،جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھڑیال نے شاندار واپسی کی ہے، پنجاب میں گھڑیال کے دیکھنے کی اطلاع واقعی ایک دلچسپ ہے اور ہمیں امید دلا رہی ہے،ان کا کہناہے کہ علاقے کی گہری نگرانی کر رہے ہیں اورشراکت داروں کے ساتھ بات کر رہے ہیں،پنجاب میں گھڑیال کی موجودگی کے لیے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔

ساجد خان کراچی کے ابھرتے ہوئے نوجوان صحافی ہیں،جو اردو کرانیکل کے لیے ایوی ایشن،اینٹی نارکوٹکس،کوسٹ گارڈز،میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی،محکمہ موسمیات،شہری اداروں، ایف آئی اے،پاسپورٹ اینڈ امگریشن،سندھ وائلڈ لائف،ماہی گیر تنظیموں،شوبز اور فنون لطیفہ کی سرگرمیاں کور کرتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین