Urdu Chronicles

Urdu Chronicles

کالم

۔۔۔ توں ایس گلی نہ جا !

Published

on

سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری اس وقت ملکی سیاست اور صحافت میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ آصف زرداری کے جیو پر انٹرویو سے سیاسی منظرنامے پر خوب ہنگامہ برپا ہوا۔ پارٹی رہنما وضاحتیں دے رہے ہیں کہ دونوں قائدین میں کوئی مسئلہ نہیں، باپ بیٹے کی ہنستی مسکراتی تصویریں بھی جاری کی جارہی ہیں لیکن قیاس آرائیاں ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہیں۔ کوئی اسے دونوں باپ بیٹے میں ’’ گڈ کاپ بیڈ کاپ ‘‘ کی طے شدہ حکمت عملی کہہ رہا ہے تو کہیں اسے درون خانہ سیاسی اختلافات کا شاخسانہ قرار دیا جارہا ہے۔

باہمی انڈرسٹینڈنگ سے ایک ہی پارٹی میں دومختلف پالیسز کو چلا کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا پاکستان کی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں۔ مسلم لیگ نون میں نوازشریف اور شہبازشریف کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ لیکن پیپلزپارٹی کی گذشتہ تین چار سال کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو آصف زرداری اور بلاول بھٹو میں اختلاف رائے کو یکسر مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن دیکھنا تو یہ ہے کہ اگر دونوں باپ بیٹے میں اختلافات اس نہج پر پہنچے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے۔

آصف زرداری کو 2007 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب پیپلزپارٹی کی قیادت سنبھالنا پڑی تو انہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر پیپلزپارٹی اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان ایک نئی شروع ہوتی ہوئی جنگ کو ٹال دیا۔ اگرچہ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جسے پیپلزپارٹی کے نظریاتی کارکنوں میں کبھی بھی خوشدلی سے قبول نہیں کیا گیا۔  اس مفاہمتی پالیسی کو بینظیر بھٹو کے قتل کے ساتھ کمپرومائزاور پھر پنجاب میں پارٹی کی تباہی کا موجب بھی قرار دیا گیا۔

لیکن آصف زرداری کے حامی حلقوں کے پاس اپنے طور پر اپنی اس پالیسی کے حق میں بڑے مضبوط دلائل موجود رہے ہیں۔ ایک تو یہ کہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی عملا  ہیڈ لیس  ہوگئی تھی۔ بلاول بھٹو کمسنی کی وجہ سے پارٹی قیادت سنبھالنے کے ابھی قابل نہ تھے۔ عوامی سطح پر پیپلزپارٹی سب سے مقبول سیاسی جماعت تھی۔ الیکشن میں اس کی کامیابی سب کو واضح نظر آرہی تھی۔ اوراس صورتحال میں اس سے بہتر کوئی فیصلہ نہیں تھا کہ مفاہمتی پالیسی کے ذریعے پارٹی کو اقتدار میں بھی لایا جائے اور بلاول بھٹو کے میچور ہونے تک مناسب حالات کے ساتھ وقت گذارا جائے۔

یادش بخیر 1988 میں بینظیر بھٹو نے جب حکومت بنائی تو اس قدر کمزور حکومت قبول کرنے پر پارٹی حلقوں میں بہت تنقید بھی ہوئی تھی لیکن بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ گیارہ سالہ طویل مارشل لا نے سیاسی کارکنوں کو تھکا دیا تھا۔ اتنے طویل عرصے کے بعد حکومت بنانا اس لئے ضروری تھا کہ جیلوں میں پڑے سینکڑوں بےگناہ جیالوں کو اس کے بغیر آزادی دلانا ممکن نہ تھا۔ اور اگر اب بھی وہ حکومت نہ بناتیں تو شاید پارٹی ورکر شدید مایوسی میں چلا جاتا اور اس کے نتیجے میں سیاسی جدوجہد کا جذبہ ہی مر جاتا۔ اس لحاظ سے آصف زرداری اور بینظیر بھٹو کی مفاہمتی پالیسی میں بڑی حد تک یکسانیت نظر آتی ہے۔

اب مسئلہ کہاں ہے ؟

پیپلزپارٹی اسٹبلشمنٹ اور نون لیگ سمیت دیگر سیاسی حریفوں کے ساتھ گذشتہ پندرہ سال سے آصف زرداری کی مفاہمتی پالیسی کو لے کر چل رہی ہے۔ اگرچہ اس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کو سندھ کی مسلسل تین حکومتیں بنانے اور وہاں اپنا سپورٹ بیس مضبوط کرنے کا موقع ملا لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ پیپلزپارٹی نہ صرف اس ایک صوبے تک محدود ہوگئی بلکہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے مکمل طور پر آوٹ ہوگئی۔

مقتدرہ کے ساتھ تمام تر تعاون کے باوجود وہ مسلسل ایک مدافعتی پالیسی کے ساتھ معذرت خواہانہ سیاست پر مجبور نظر آتی ہے۔ 2017 میں بلوچستان میں نون لیگ کی حکومت ختم کروانے میں طاقتور حلقوں کا ساتھ دینے کا داغ اپنے ماتھے پر لیا لیکن وعدوں کے باوجود 2018 کے انتخابات میں بلوچستان میں پیر جمانے کا موقع تک نہ دیا گیا۔ اس پر مستزاد عمران خان کی حکومت بنوائی گئی تو آصف زرداری، فریال تالپور، خورشید شاہ سمیت بڑے بڑے رہنماوں کو نئے سرے سے کورٹ کچہری اور جیلوں کے جھمیلوں ڈال دیا گیا۔

تازہ ترین واردات یہ ہوئی کہ 2022 میں عمران کی خودسری سے نجات حاصل کرنا جنرل باجوہ کی اشد مجبوری اور فوری ضرورت تھی۔ اس کے لئے ایک بار پھر آصف زرداری نے کندھا فراہم کیا۔ تحریک عدم اعتماد تیار کی۔ عمران خان کو چلتا کیا، شہبازشریف کو وزیراعظم بنوایا لیکن اگلے سیٹ اپ میں نئی ڈیل نہ صرف نون لیگ سے کرلی بلکہ پیپلزپارٹی کے لئے پنجاب، پختونخوا اور بلوچستان کی زمین بھی تنگ کی جانے لگی۔ بالخصوص پنجاب میں پی ٹی آئی کی توڑ پھوڑ کے بعد اس کا مال غنیمت بھی سمیٹنے پر پابندی عائد کردی گئی۔ جو لوگ پیپلزپارٹی میں واپس آنا چاہتے تھے انہیں روک دیا گیا جس سے پنجاب میں پارٹی کی بحالی کا خواب پھر ادھورا رہ گیا اور  پنجاب کی تمام تر سیاست نون لیگ کی جھولی میں ڈال دی گئی۔

اس صورتحال میں پیپلزپارٹی کے اندراب ایک نئی سوچ ابھر رہی ہے کہ پارٹی کو دوبارہ اپنے مزاحمتی کردار کی طرف لوٹنا چاہئیے۔ روایتی حریف نون لیگ کے ساتھ مفاہمت کی وجہ سے پنجاب سے فراغت ہوئی اور اس کے بعد انتہائی کمزور سیاسی پوزیشن کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ جب چاہے پارٹی کا بازو مروڑ دیتی ہے۔ اسی پالیسی کی وجہ سے پیدا ہونے والے خلا کو تحریک انصاف نے پر کیا، عمران خان نے ہاؤس آف شریف کو چیلنج کیا اور وہ پنجاب سمیت ملک بھر میں پاپولر ہوکر پیپلزپارٹی کو ری پلیس کرگیا۔

بلاول بھٹو زرداری پارٹی میں اس نقطہ نظر کے حامی حلقے کو لیڈ کررہے ہیں۔ پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی گذشتہ درجن بھر میٹنگز میں یہ اختلاف رائے بہت واضح طور پر سامنے آیا ہے۔ بلاول بھٹو نے اپنے ان خیالات کا اظہار پارلیمنٹ کے اخری اجلاسوں میں بھی کیا اور اپنے والد کو بالواسطہ طور پر باور کرایا کہ وہ اس لگی بندھی پالیسی سے باہر نکلیں۔ اور اسٹبلشمنٹ سے انہیں ڈیل کرنے دیں۔ لیکن آصف زرداری انہیں مسلسل سمجھا رہے ہیں کہ وہ اسٹبلشمنٹ سے الجھنے کی کوشش نہ کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پیپلزپارٹی کو سندھ سے بھی محروم کردیا جائے۔ جیسا کہ نگران حکومتوں کی تشکیل کے فوری بعد بھی پیپلزپارٹی کو سندھ میں محدود کرنے کی کوششیں شروع ہوگئی تھیں۔

بلاول بھٹو نے پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کی گذشتہ دو میٹنگز میں تواتر کے ساتھ اپنے موقف کو دہرایا تھا لیکن ان کے والد بزرگوار نے تب بھی اس موقف کو پذیرائی نہ دی۔ یہاں تک کہ کراچی کی میٹنگ میں جب اسٹبلشمنٹ مخالف گفتگو شروع ہوئی تو آصف زرداری میٹنگ سے اٹھ کر چلے گئے جبکہ لاہور کی میٹنگ میں انہوں نے معاملات کو درست کرنے کے لئے طاقتور حلقوں سے بات کرنے کا پارٹی سے مینڈیٹ لے کر معاملے کو دبا دیا۔ اور سخت ہدایات جاری کیں کہ اسٹبلشمنٹ کے خلاف کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ لیکن الیکشن مہم شروع ہوتے ہی بلاول بھٹو کی تقریروں نے نئے سرے سے ہیجان برپا کردیا۔

بلاول بھٹو نے لاڈلا پلس کا نعرہ لگا کر پھر بالواسطہ طور پر مقتدرہ پر تنقید کی۔ اس دوران انہوں نے ستر سالہ بابوں کو سیاست سے علیحدگی کا مشورہ بھی دیدیا۔

اب جب بات ایک بار پھر بگڑنے لگی تو آصف زرداری نے جیو کو انٹرویو میں اپنی پوزیشن واضح کردی۔ انہوں نے بلاول بھٹو کو زیرتربیت قرار دے کر پارٹی کو ان کے بیانات سے عملا الگ کردیا۔

ذوالفقارعلی بھٹو، بینظیر بھٹو، نوازشریف اور عمران خان کے تجربات آصف زرداری کے سامنے ہیں۔ خود وہ بھی بلاول بھٹو کی عمر میں ایک بار جیل یاترا کرچکے تھے۔ جو بعد میں گیارہ سال پر محیط رہی۔ آصف زرداری اپنے جواں سال بیٹے کو دراصل سیاست کی ان کٹھنائیوں سے بچانا چاہتے ہیں جہاں سے وہ خود گذر چکے ہیں۔ یہاں پنجابی کی ایک مشہور بانی یاد آتی ہے۔

توتیا! من توتیا

میں آکھدی، میں ویکھدی

توں ایس گلی نہ جا

ایس گلی دے جٹ برے

لیندے پھاہیاں پا

بلاول بھٹو کے موقف کو یکسر نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ بینظیر بھٹو خود اگرچہ پیپلزپارٹی میں مفاہمتی پالیسی کی بانی تھیں لیکن انہوں نے عوام سے رابطہ کبھی کمزور نہیں ہونے دیا تھا اور یہی چیز ان کی اصل طاقت تھی۔

یہ بات اپنی جگہ سو فیصد درست ہے کہ پنجاب بالخصوص اور تین صوبوں میں بالعموم پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کا عوام سے رابطہ مکمل طور پر کٹا ہوا ہے اور اسے بحال کرنے کے لئے ایک بھرپور عوامی بیانئے کے ساتھ انہیں باہر نکلنا پڑے گا۔

پیپلزپارٹی اس وقت اپنے بیانئے کے حوالے سے ایک کنفیوژ جماعت ہے۔ مزاحمت اور مفاہمت کی گردان میں پھنسی ہوئی ہے۔ الیکشن میں عوام تک اپنے پروگرام کو کامیابی سے پہنچانے اور اس کے نتائج حاصل کرنے کے لئے اسے اپنے اندرونی تضادات کو دور کرنا ہوگا۔

اس کے لئے اب دیکھنا ہوگا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت الیکشن سے قبل آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی دوسمتوں میں جاتی ہوئی پالیسیوں کویکجا کرنے میں کہاں تک کامیاب ہوتی ہے۔

لاہور سے سینئر صحافی ہیں۔ جنگ،پاکستان، کیپیٹل ٹی وی، جی این این اور سما ٹی وی سمیت ملک کے نامور اخبارات اور ٹی وی چینلز کے لئے سیاسی رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مختلف اخبارات میں ان کے آرٹیکلز باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں جبکہ ٹی وی چینلز پر کرنٹ افئیر کے پروگرامز میں بھی بطور تجزیہ کار ان کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین