Urdu Chronicles

Urdu Chronicles

کالم

الیکشن کمیشن کی ساکھ کا سوال

Published

on

الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے انٹر پارٹی الیکشن پر اعتراض لگایا ہے اور پارٹی کو 20 دن میں دوبارہ انٹر پارٹی الیکشن کرانے کی مہلت دی ہے. الیکشن کمیشن نے سابق حکمران جماعت کو خبردار کیا ہے کہ اگر 20 دنوں میں یہ انتخابات نہ کرائے گئے تو وہ اپنے انتخابی نشان ” بلے” سے محروم ہو جائے گی۔

تحریک انصاف کے بارے میں الیکشن کمیشن کے اس فیصلے نے کئی سوالات اور خدشات کو جنم دیا ہے کہ آخر انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے ڈیڑھ برس بعد ہی انہیں کیوں غیر قانونی  قرار دیا گیا؟ کیا عام انتخابات میں پارٹی کے اہم عہدے دار کو آؤٹ کرنا ہے یا پھر بلے کا انتخابی نشان واپس لیکر تحریک انصاف کیلئے انتخابی الجھیں پیدا کرنا ہے؟

الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سنایا ہے جب تحریک انصاف کی قیادت اپنے خلاف مقدمات کی وجہ سے جیل میں ہے اور انہیں ایک کارنر میٹنگ تک کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی. ایسے حالات میں پارٹی الیکشن کرانا کسی زیرعتاب جماعت کے مسائل میں اضافہ کرنے اور اسے فروری 2024 کے انتخابات سے دور رکھنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انٹرا پارٹی الیکشن جمہوری اقدار کا اہم عنصر ہے لیکن سب اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ملک میں پارٹی الیکشن محض ایک نمائشی مشق سے زیادہ کچھ نہیں بلکہ سادہ الفاظ میں میں ایک خانہ پری ہے۔ ملک میں جماعت اسلامی ہی ایک ایسی جماعت ہے جس کے انٹر پارٹی انتخابات وراثتی قیادت کے اردگرد نہیں گھومتے بلکہ یہ ایک سنجیدہ عمل کے طور پر انجام دیئے جاتے ہیں۔

عام طور پر کسی بھی سیاسی جماعت کے انتخابات میں من پسند افراد کی نامزدگیوں کو انتخاب کا نام دیا جاتا ہے جو آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے اور حیرت انگیز طور پر عہدیدار بلا مقابلہ منتخب ہوتے ہیں۔ اسطرح کے انتخابات میں قیادت موروثی ہوتی ہے اور اس سب کے باوجود ملک میں الیکشن کمیشن کی طرف سے کسی پارٹی کے انتخابات کو غیر قانونی قرار دینے کی کوئی نظیر نہیں ہے۔

پھر یہ سوال اپنی جگہ درست ہے کہ اب تحریک انصاف کیساتھ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟  جب سابق حکمران جماعت زیر عتاب ہے اور انتخابات کیلئے لیول پلیئنگ فیلڈ مانگ  رہی ہے اس کیلئے رکاوٹیں کھڑی کرنا کہاں کا انصاف ہے؟ الیکشن کمیشن کا یہ انتباہ کہ انٹر پارٹی الیکشن نہ کرانے پر انہیں ان کے انتخابی نشان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے،  یہ کسی طور بھی منصفانہ انتخابات کیلئے اچھا شگون نہیں ہے. کچھ حلقوں نے توالیکشن کمیشن کے فیصلے  کو متعصبانہ قرار دیا ہے اور ان کے بقول  الیکشن کمیشن سے ایسے ہی فیصلے کی توقع کی جاسکتی ہے۔

ملک میں ناخواندگی کی وجہ سے ووٹر کیلئے من پسند جماعت اور امیدوار کے نام کی نسبت انتخابی نشان پر مہر لگانا قدرے آسان ہے، اس لیے سیاسی جماعتوں کی اولین ترجیح ہوتی ہے کہ وہ اُسی انتخابی نشان پر انتخاب لڑیں جو عام لوگوں میں سیاسی جماعتوں کی پہچان ہو نئے سرے سے نئے انتخابی نشان ووٹرز اور سیاسی جماعت کیلئے مسائل پیدا کرتا ہے۔

اسی وجہ سے کسی سیاسی جماعت کو اُس کا انتخابی نشان  ہمیشہ عزیز رہا۔ اسی لیے انتخابی نشان کھو جانے کے خدشے پر  سیاسی جماعت نے اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا اور قانونی چارہ جوئی کی۔ 1970 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے انتخاب اپنے  انتخابی نشان "تلوار” پر لڑا اور یہ ہی انتخابی نشان 1977 میں بھی پیپلز پارٹی کے پاس تھا لیکن 1988 میں پیپلز پارٹی کو تلوار کا انتخابی نشان نہیں دیا گیا جسکے بعد اُس وقت سے آج تک پیپلز پارٹی تیر کے نشان پر انتخاب لڑ رہی ہے حالانکہ 2002 کا انتخاب پیپلز پارٹی نے پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینرز کے نام پر لڑا اور اب اسی نام سے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں۔

پیپلز پارٹی کی یہ حکمت عملی یہ ظاہر کرتی ہے کہ جماعت کے نام میں معمولی رد بدل سے کسی سیاسی جماعت کی پہچان کو اتنا فرق نہیں پڑتا جتنا انتخابی نشان کی تبدیلی سے ہوتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے نعروں اور ترانوں میں جس بات پر زیادہ ضرور دیتی ہیں وہ انتخابی نشان ہوتا ہے۔

الیکشن کمیشن کیلئے تحریک انصاف کے انتخابی نشان کو تبدیل کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ اگر الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے انتخابی نشان "بلے” کو تبدیل کرتا ہے تو اسے اپنے فیصلے کو عدلیہ کے سامنے ثابت کرنا پڑے گا کہ ایسا کیوں کیا گیا؟ الیکشن کمیشن سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے 160 سے زیادہ سیاسی جماعتوں میں صرف اور صرف تحریک انصاف کے کے انٹر پارٹی الیکشن پر اعتراض کیوں اٹھایا اور کیا ماضی میں بھی ایسی مثالیں ہیں جب کسی سیاسی جماعت کیخلاف یہ ہی طریقہ کار اپنایا گیا ہو۔

تحریک انصاف نے بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے جماعت کا انتخابی نشان تبدیل کرنے کی دھمکی کو اعلی عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس طرح یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے ہاتھ سے نکل کر عدالتوں میں چلایا جائے گا اور الیکشن کمیشن کے پاس اپنے فیصلے کا دفاغ کرنے اور عدالتی فیصلے پر سر خم کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا۔

الیکشن کمیشن کا کام صرف اور صرف انتخابات کرانا نہیں ہیں بلکہ انتخابات کا صاف، شفاف اور غیر جانبدار ہونا بھی الیکشن کمیشن کا بنیادی فرض ہے۔بدقسمتی سے ملک میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کے سنگین الزامات لگتے رہے اور انتخابی نتائج کیلئے جھرلو کی اصطلاح بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔

الیکشن کمیشن کو عام انتخابات کی ساکھ کیساتھ اپنی فیصلوں کا عدالتوں میں دفاع بھی کرنا پڑے گا۔ انتخابی نشان پر الیکشن کمیشن اور تحریک انصاف میں "یدھ ” کا آخری فیصلہ اعلی عدالت میں ہی ہوگا۔یہ بھی ممکن ہے جب امیدوار کاغذات نامزدگی داخل کرا رہے ہوں گے اُس عدالت میں انتخابی نشان کی تبدیل پر فریقین میں دلائل کا تبادلہ ہو رہا ہو۔

عباد الحق گزشتہ 30 برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ آپ بی بی سی سمیت ملکی و بین الاقوامی صحافتی اداروں سے منسلک رہے ہیں جہاں آپ سیاسی و عدالتی امور کو کور کرتے رہے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین