Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

کالم

معیشت کا حل اور نواز شریف؟

Published

on

موجودہ سیاسی صورتحال ایسی ہے کہ کچھ بھی پیشگوئی کرنا ممکن نہیں ہے، سیاسی رُت تیزی سے بدل رہی ہے ۔بعض سیاسی پنڈتوں کے بقول  میاں نواز شریف سادہ اکثریت سےانتخابات میں کامیاب ہوجائیں گے ۔جبکہ فیصل واؤڈا کہتے ہیںکہ ن لیگ کی الیکشن میں 80 سے بھی کم نشستیں ہوں گی۔صرف یہی نہیں فیصل واؤڈا کے بقول وہ ایوان صدر میں آصف زرداری کی تصویر لگتی دیکھ رہے ہیں ۔یہ تو ممکن ہوسکتا ہے کہ جوڑتوڑ کرکے زرداری صاحب کو شاید صدر مملکت بنائیں لیکن اِس کیلئے اُنہیں ن لیگ کی حمایت درکار ہوگی۔

اگر فیصل واؤڈا یہ دعویٰ کرتے کہ بلاول بھٹو وزیراعظم بنیں گے تو یہ بات ماننا ذرامشکل ہوتا ۔گو کہ سیاسی تجزیہ کار تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی کے آزاد حیثیت میں الیکشن جیتنے والے بھی پی ٹی آئی کے نہیں رہیں گے ۔وہ کسی اور جماعت میں شامل ہوجائیں گے اور تکینکی بنیادوں پر یہ بالکل ممکن ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی نظریں اُن آزاد اُمیدواروں پر لگی ہوئی ہیں۔کیونکہ یہ بات تو طے ہے کوئی بھی سیاسی جماعت تنہا حکومت نہیں بنا سکے گی ۔

استحکام پاکستان پارٹی بھی یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ”کھلاڑی” سارا کھیل خراب کرتے ہوئے استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوجائیں گے۔کچھ ایسا ہی دعویٰ فیاض الحسن چوہان بھی  کرتے نظر آئے ۔وہ کہتے ہیں  کہ پی ٹی آئی کے صرف وہی آزاد اُمیدوار جیتیں گے جو کمٹنٹ کریں گے۔ وہ جیتنے کے بعد استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہوجائیں گے ۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 33 فیصد نشستوں پرزاد امیدوار جیتیں گے اور یہ 70 سے 75 لوگ ہوں گے آزاد  حیثیت سے جیتنے والے ان اراکین میں سے 80 فیصد لوگ یعنی 30 سے 40 اراکین جو قومی اور پنجاب اسمبلی کی نشستوں کےحامل ہوں گے، استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کر لیں گے۔دیکھا جائے تو پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے ۔ہم نے پہلےبھی بانی پی ٹی آئی کیخلاف تحریک عدم اعتماد میں اُن کے ساتھیوں کی جانب سے اُن کا ساتھ چھوٹتا دیکھا ۔پھر نو مئی کے بعد بھی ایسی صورتحال سامنےآئی۔ اس سے پہلے پنجاب اسمبلی میں بھی منحرف اراکین نے منہ موڑا ، تو تاریخ کو دیکھ کر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اِس بار بھی ایساسرپرائز بانی پی ٹی آئی کو اُن کے اپنے ہی اُمیدوار دے سکتے ہیں اور جنکے بارے میں یہ تاثر ہے کہ وہ رہنما بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مخلص ہیں  اُن رہنماؤں پر مقدمات ہیں اورممکن ہے کسی بھی مقدمے میں سزا ہونے کی صورت میں اُن رہنماؤں کوجیتی نشست سے ہاتھ دھونے پڑجائیں یعنی تحریک انصاف کے آزاداُمیدوار کسی سیاسی جماعت کی حکومت بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتےہیں ۔اِسی لیے ہر جماعت یہ آس لگائے ہوئے ہے کہ وہ اُمیدوار جیتنے کے بعداُن کی جماعت میں شامل ہوجائیں گے ۔

اب ایک طرف حکومت کیسے بنائی جائے یہ دوڑ لگی ہے۔ دوسری جانب یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ ن لیگ کے اندر بھی یہ جنگ چل رہی ہے کہ وزارت عظمیٰ کا اُمیدوار کون ہوگا ۔اِس پر میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں لیکن اِن دنوں یہ بحث اور رنگ کے ساتھ تقویت پکڑ رہی ہے کہ میاں نواز شریف اپنے بھائی میاں شہباز شریف  کو نہیں بلکہ اپنی صاحبزادی مریم نواز کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں جس کیلئے طاقتور حلقے تیار نہیں ۔اوریہ بحث حافظ آباد جلسے کے بعد مزید ہائی لائٹ ہوئی۔ نوازشریف نے19جنوری کو حافظ آباد میں اپنے پہلےانتخابی جلسے سے خطاب کیا تھا جس کا مختصر دورانیہ موضوع بحث بن گیا تھا۔ اِس جلسہ عام میں حاضرین اور عوام کی توقع کےبرعکس نوازشریف نے نہ تو کوئی بڑے بڑے انتخابی دعوے یا وعدے کئے اور نہ ہی مخالفین پر تنقید کی ۔بلکہ اُنہوں نے  دس سے پندرہ منٹ کے دورانئے پر مشتمل اپنے جذباتی خطاب کے بعد  مریم نواز کو تقریرکرنے کی دعوت دے دی تھی جس سے بعض حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں شروع ہوگئی کہ نواز شریف  اپنی جگہ اب اپنی صاحبزادی کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر دیکھنا چاہتے ہیں اِسی لئے اُنہوں نے اپنی تقریر مختصر کر کے مریم نواز کو بہت کچھ کہنے کا موقع دیا۔

اِسی تاثرکی بنیاد پر سوشل میڈیا اور ٹی وی ٹاک شوز پر بھی یہی حوالہ زیربحث آیا اور ابھی یہ تاثر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا تھا کہ پیر کومانسہرہ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایک موقع پر سابق وزیراعظم نے حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آج مانسہرہ وزیراعظم بننے نہیں الیکشن لڑنے آیا ہوں۔ پھر اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ مریم یہاں الیکشن لڑنے نہیں میرے ساتھ یہاں آئی ہیں۔سابق وزیراعظم کی تقریر کے ان دو جملوں نے ایک بار پھر اس تاثر کو تقویت دی  اورصرف ناقدین ہی نہیں بلکہ حامی بھی سابق وزیراعظم کے ان جملوں کے پس پردہ معنی اور مفہوم تلاش کر رہے ہیں۔

دوسری طرف  معاشی اعتبار سےدیکھا جائے تو عالمی میڈیا کی رپورٹس یہ دعویٰ کرر ہی ہیں کہ نواز شریف کےدور میں معاشی کارکردگی بہت بہتر رہی، وہی بذات خود معیشت کیلئے آخری اُمید ہیں ۔عالمی مالیاتی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی رپورٹ میں سیاسی مخالفین کے مقابلے میں نوازشریف کے دور میںمعاشی کارکردگی کو بہترین قرار دیا گیا ہے۔بلوم برگ  کی جانب سےجاری معاشی تجزیاتی رپورٹ  کے مشکلات کے انڈیکس میں مہنگائی، بیروزگاری اور دیگر معاشی مشکلات کو دیکھ کر کسی حکومت کی معاشی کارکردگی کا تجزیہ اور موازنہ کیاجاتا ہے۔بلوم برگ کی جانب سے جاری معاشی تجزیاتی رپورٹ  میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نوازشریف نے بہترین انداز میں معیشت سنبھالی، سیاسی مخالفین کےمقابلے میں نوازشریف نے بہترین معاشی کارکردگی دکھائی۔رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اب بھی مقبول سیاستدان ہیں لیکن جیل میں ہیں، نوازشریف  8 فروری کو اقتدار کے لیے تیار دکھائی دیتےہیں۔رپورٹ کے مطابق حالیہ سروے میں بانی پی ٹی آئی57 فیصد اورنوازشریف مقبولیت میں 52 فیصد پر ہیں جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں نوازشریف کی مقبولیت میں 36 فیصد اضافہ ہوا۔

بلوم برگ اکنامکس رپورٹ میں شامل تجزیے میں کہا  گیا ہےکہ عوام نوازشریف کو شک کا فائدہ دے رہے ہیں لیکن انتخابات جیتنے والی کسی جماعت کیلئے آگے کا سفر آسان نہیں ہوگا۔ یہی رپورٹ  بتا رہی ہے کہ مہنگائی ریکارڈ بلندی پر ہے، بیروزگاری بڑھ چکی ہے، مہنگائی 30 فیصد کےقریب ہے، گزشتہ برس فارن ایکسچینج ریزروز انتہائی بری حالت میں تھے، پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے بیل آﺅٹ پیکج پر انحصار کررہا ہے، ایسے میں آنے والی حکومت کوعوام میں غیرمقبول پالیسیوں کو اختیار کرنا پڑ سکتا ہے، سبسڈیز کا خاتمہ اور ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔اب ایسے وقت میں جہاں ملکی معیشت پر کوئی تجربہ نہیں ہوسکتا۔اِسی لیے ملک میں اُسی کو وزیراعظم بننا چاہیے جو معیشت کو بہتر چلا سکے اور عالمی رہورٹس بھی نواز شریف کی قابلیت کو سراہ رہی ہیں۔بہتر تو یہی ہے نواز شریف جیت کر خودوزیراعظم بنیں اور ملکی معیشت کو پٹری لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔کیونکہ اب وہی واحد اُمید ہیں جو معیشت کو درست سمت پر لاسکتے ہیںاور یہ کام وہ پہلے بھی کرچکے ہیں اور اب بھی کرسکتے ہیں۔

بعض سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر میاں نواز شریف بوجوہ وزیر اعظم نہیں بن سکتے تو پھر وہ اپنے بھائی شہباز شریف کو موقع دیں گے کیونکہ ماضی میں بھی ہمیشہ انہوں نے ہی طاقتور حلقوں کے ساتھ معاملات سنبھالتے ہوئے اپنے بڑے بھائی اور قائد کے لئے مشکل حالات میں آسانیاں ڈھونڈی ہیں۔ اس کے علاوہ یورپی یونین اور دوست ممالک کو استعمال کرکے  اُنہوں نے ہی آئی ایم ایف سےمعاہدہ بحال کروایا ۔شہباز شریف بھی تجربہ کار سیاستدان ہیں ۔لیکن اگر ہم عالمی رپورٹس اور میڈیا کو دیکھیں تو وہ یہی کہہ رہا ہے کہ اگرملکی معیشت کا نقشہ بدلنا ہوگا تو پھر سے نواز شریف کو وزیراعظم بنناہوگا۔

کیا نواز شریف واقعی ہی ایسا کر پائیں گے یا پھر پی ڈی ایم کی سولہ ماہ کی حکومت کی طرح عوام کو مزید مایوس کریں گے، یہ  فیصلہ اُن کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

عمران یعقوب خان پاکستان کے سینئر صحافی، تجزیہ کاراور براڈکاسٹر ہیں، تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز میں کلیدی عہدوں پر کام کرچکے ہیں، جیو نیوز کی بانی ٹیم کے رکن تھے ،اس سے پہلے وہ روزنامہ جنگ میں بطوررپورٹراور فیچر رائٹر بھی کام کرتے رہے، وہ 92 نیوز ،دنیا نیوز اور نیوز ویک پاکستان کے ڈائریکٹر نیوز کی حیثیت سے بھی کام کرچکے ہیں، ان دنوں جی این این ٹی وی سے منسلک ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین