Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

کالم

پاک ایران تنازع، وجوہات کیا ہیں ؟

Published

on

      ایران اور پاکستان کی طرف سے ایک دوسرے کی جغرافیائی حدود میں فضائی حملوں کی بازگشت نے پوری دنیا کو چونکا دیا، دونوں ممالک کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنی قومی سلامتی یقینی بنانے کی خاطر 900 کلومیٹر طویل سرحد کے اطراف سرگرم مسلح گروہوں کو نشانہ بنایا۔

ایران کی پاسداران انقلاب کور نے پاکستانی صوبہ بلوچستان کے پنجگور ضلع میں ایک مسلح گروپ پہ میزائل داغے،جواب میں پاکستان نے ایرانی صوبہ سیستان میں بلوچ علیحدگی پسندوں(سرمچاروں)کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے اپنی فضائی حدود کی خلاف وردی کا مؤثر جواب دیا، لیکن دونوں ممالک کی کاروائیوں کا نشانہ بننے والے وہ دہشتگرد گروہ تھے جو اپنی اپنی ریاستی اتھارٹی کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

یہ اُس کانفلکٹ منیجمنت کی انتہائی باریک چالیں ہیں، جس میں دوستی اور دشمنی کے دھارے متوازی یا بسا اوقات باہم ملتبس چلتے ہیں اور جن کی عام فہم زبان میں توضیح ممکن نہیں ہوتی ۔

امر واقعہ یہ ہے کہ پاسدران انقلاب کور، جو دفاعی ڈھانچہ سے ماورا ایران کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے تابع ایلیٹ فورس ہے، نے ایرانی سرحد سے ملحقہ ضلع پنجگور کے پہاڑی علاقہ میں جیش العدل گروپ پہ ڈرون حملہ کیا، ایران نے کہا، اس نے پاکستانی حدود میں پناہ گزیں اُن ایرانی ”دہشت گردوں“ کو نشانہ بنایا جنہوں نے جنوب مشرقی صوبے سیستان کے شہر راسک میں دہشتگردانہ حملے کئے ۔جائے وقوعہ سے آنے والی ویڈیوز میں ایک عمارت کو ہدف بنتا دیکھایا گیا جس میں دو بچوں کے مرنے کی تصدیق کی گئی۔

اس جارحیت کے جواب میں پاکستان نے عارضی طور پہ ایران سے سفارتی تعلقات منقطع اور مشترکہ مشقیں منسوخ کرتے ہوئے، تہران سے اپنا سفیر واپس بلانے جیسے اقدام کے بعد ایرانی صوبہ سیستان کے سراوان قصبہ کے سرحدی گاؤں پر متعدد فضائی حملے کرکے بلوچ علیحدگی پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

تہران نے کہا کہ حملوں میں سات خواتین و بچوں سمیت نو افراد ہلاک ہوئے۔پاکستان کے اندر ایران کا ہدف جیش العدل کے نام سے ایران کے سنی بلوچوں کا ایسا گروپ ہے،جو 2012 کے آس پاس جنداللہ کی تحلیل کے بعد منظر عام پر آیا۔بظاہر اس گروہ کا مقصد جنوب مشرقی صوبہ سیستان میں بنیادی سہولیات اور مذہبی آزادیوں کے لیے لڑنا ہے، جو ایران کا سب سے غریب،سرحدی کشیدگی سے متاثرہ صوبہ ہے۔

ایک دہائی سے زائد عرصے سے جیش العدل کی طرف سے سرحد کے قریب ایرانی چوکیوں پر حملوں کی وجہ سے تہران اسے ”دہشت گرد“گروپ قرار دیتا ہے۔پاکستان نے بھی کہا کہ اس کا ہدف ایران نہیں بلکہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسے مسلح علیحدگی پسند گروپ تھے،جو پاکستان کے اندر سیکویرٹی فورسز پہ حملوں میں ملوث ہیں۔

سرحد پار سے تازہ ترین اٹیک مہینوں کے سرحدی حملوں کے پس منظر میں ہوئے، دسمبر میں ایرانی سرحدی چوکی پر جیش العدل کے حالیہ حملہ میں 11 پولیس اہلکار ہلاک کر دیئے گئے تاہم یہ پہلا موقع تھا جب ایران اور پاکستان نے ایک دوسرے کی سرزمین پر براہ راست حملے کئے۔شام سے منسلک اہداف کے لئے ایران نے خیبر شکن بیلسٹک میزائل استعمال کیا،جس کی رینج 1,450 کلومیٹر ہے۔تاہم پاکستان پر حملے چھوٹے اور نسبتاً کم فاصلہ سے داغے گئے یعنی وہ طاقت کے بڑے مظاہرہ کا صرف ایک جُز تھے،جس کا مقصد ملک کو کسی مکمل جنگ میں دھکیلے بغیر ایران کے ڈیٹرنس کو بڑھانا تھا۔

پاکستانی لیڈرشپ ایرانی حملہ سے ششدر اوربظاہر ایک اسٹریٹجک مخمصے کا شکار بنی کیونکہ ایرانی حملے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی خطرناک نظیر قائم کر گئے چنانچہ پاکستانی قیادت نے محسوس کیا کہ درگزر کی صورت میں نہ صرف بھارت بلکہ افغانستان کو بھی حوصلہ ملے گا، جہاں افغان طالبان، پاکستان مخالف ٹی ٹی پی کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور ہندوستانی وزارت خارجہ کے بیان میں پاکستان میں ایرانی حملوں کی کھلی حمایت بھی محل نظر تھی۔

دوسرے یہ حملہ آرمی چیف، جنرل عاصم منیر کی ساکھ کے لیے چیلنج تھا، جس نے داخلی سطح اور دیگر ممالک کے ساتھ اپنے معاملات میں عزم اور مضبوطی کا تاثر قائم رکھا ہوا تھا۔

تیسرے ایران سے مستقل کشیدگی کی صورت میں پاکستان کے پڑوسیوں کے ساتھ پہلے سے پیچیدہ تعلقات کا توازن مزید بگڑ جاتا۔جیسے مشرقی سرحد پر موجودہ جنگ بندی کے باوجود بھارت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی اور جس طرح مغربی بارڈر پر، طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات ٹی ٹی پی کی پاکستان مخالف شورش کے لئے طالبان کی حمایت کی وجہ سے خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

لہذا، اِس پس منظر میں ایران کے خلاف بڑھتے، پاکستانی حکمت کاروں کو افغانستان، ہندوستان اور ایران پر مشتمل طویل المدتی، تین محاذوں پر یکساں خطرے کا سامنا دشوار نظر آتا تھا۔تاہم آخرکار پاکستانی قیادت نے اول العزمی کی راہ اپناتے ہوئے اپنا ڈیٹرنس قائم کرنے کی خاطر اِس بھروسہ کے ساتھ جوابی حملہ کرنے کا انتخاب کر لیا کہ وہ تین محاذوں کے مخمصے کو سنبھال سکتے ہیں تاہم پاکستان نے براہ راست ایرانی فوجی اہداف کے بجائے ایران میں پناہ گزیں بلوچ علیحدگی پسندوں کے کیمپوں کا انتخاب کیا تاکہ جوابی کارروائی میں ہونے والے نقصان کی وجہ سے ایرانی قیادت کی ساکھ کو گزند نہیں پہنچے۔

یہ بجا کہ ایران کی طرف سے پاکستان کے خلاف جوابی حملوں کا خطرہ بدستور موجود ہے تاہم، ایسی وجوہات بھی ساتھ کھڑی ہیں جو ایران کو مزید کشیدگی سے روکتی ہیں۔ ایران پہلے ہی مڈل ایسٹ میں مسلح مبارزت کے دوائر کافی پھیلا چکا ہے اور پاکستان جیسے جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک،جس کے پاس ایران کے مقابلے میں زیادہ طاقتور فوج ہونے کے باعث وہ ہمہ وقت کشیدگی کی سیڑھی پر چڑھنے کو تیار ہے،یہی احساس ممکنہ طور پر ایران پر اسٹریٹجک دباؤ میں اضافہ کا سبب بنا ۔البتہ امریکی پالیسی ساز،جو مشرق وسطیٰ میں ایرانی پراکسیز کے سب سے بڑے بینفشری ہیں، پاکستان میں براہ راست ایرانی فوجی حملے کو ایک نئی اورمفید پیشرفت کے طور پہ دیکھنے لگے۔ایسے حملے امریکی رہنماؤں کے ایران کو فساد پرور ملک کے طور پہ نمایاں کرنے کے بیانیہ کو تقویت دینے کا وسیلہ بنتے ہیں چنانچہ اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پاکستان کے خلاف ایرانی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے اسے خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کا ”سب سے بڑا فنڈر“ قرار دے کر ایرانی کاروائی کو ایکسپلائیٹ کرنے کی کوشش کر ڈالی۔

جہاں تک پاکستان بارے واشنگٹن کے پالیسی نقطہ نظر کا تعلق ہے تو یہ امریکہ کے مفاد میں ہے کہ پاکستان میں اندرون خلفشار کے بعد مزید کئی علاقائی تنازعہ بھڑک اٹھیں جو معاشی اور سیاسی تناؤ کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم رکھیں۔فوری تعطل سے قطع نظر ، امریکی پالیسی ساز جو پاکستان کو گزند پہنچانے کی نیت سے اسلام آباد کے ساتھ دوبارہ تعلقات استوار کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں، خطے میں ایرانی پراکسی سے خطرہ محسوس کرنے والے پاکستان کو اپنانے کو بیتاب ہیں لیکن ایران پاکستان کشیدگی کے باوجود دونوں طرف سے فعال تعلقات کو برقرار رکھنے کی فطری ترغیبات زیادہ اہم ہیں، ایران اور پاکستان کے تعلقات کی یہ بنیادی تشخیص، امریکہ کی ہند،بحرالکاہل پالیسی ترجیحات اور مشرق وسطیٰ کے مسائل پر امریکہ کے ساتھ کام کرنے بارے پاکستان کے خدشات سے مملو ہیں،جو خطے میں مبینہ ایرانی سرگرمیوں کے ارد گرد لپٹے امریکی ٹریپ کو گہرائی تک دیکھتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ایرانی سرحد سے ملحقہ پنجگور، تربت اور مکران جیسے کئی اضلاع تک ہماری رسائی دس فیصد سے زیادہ نہیں، ان اضلاع کے باسی اپنی روزمرہ اشیا کا نوے فیصد ایران سے حاصل کرتے ہیں،ہمارے پالیسی سازوں کی سہل انگاری کی بدولت اکیسویں صدی میں بھی کوئٹہ کے پنجاب سے زمینی رابطے بہت طویل اور نہایت دشوار گزار ہیں،کوئٹہ سے چلنے والے مال بردار ٹرکوں کو فورٹ منرو کے پیچیدہ پہاڑی راستوں سے پنجاب پہچنے میں دو تین دن لگ جاتے ہیں۔

اگر کوئٹہ سے براستہ پشین،خواص، زیارت،لورالائی،میختر مجوزہ متبادل روڈ تعمیر کر لیا جاتا تو نہ صرف بلوچستان والوں کی پنجاب تک رسائی آسان ہوتی بلکہ پنجاب کی سبزی بہت کم وقت میں ایرانی بارڈر تک پہنچائی جا سکتی تھی۔جب تک بلوچستان کوسڑکوں کے وسیع نیٹ ورک کے ذریعے پنجاب،کراچی اور اسلام آباد سے منسلک نہیں کر لیا جاتا اس وقت تک بلوچستان کے پورے جغرافیہ پہ ریاستی گرفت مضبوط نہیں ہو پائے گی۔

ملک محمد اسلم اعوان سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں، افغانستان میں امریکا کی طویل جنگ کی گراؤنڈ رپورٹنگ کی، قومی سیاسی امور، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر لکھتے ہیں، افغانستان میں امریکی کی جنگ کے حوالے سے کتاب جنگ دہشتگردی، تہذیب و ثقافت اور سیاست، کے مصنف ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین