Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

کالم

پراپرٹی ٹائیکون سے سیاسی ٹائیکون تک

Published

on

غربت کی لکیرسے نیچے گھٹن بھری زندگی بسر کرنے والے ہزارہا خاندانوں کی آنکھ میں اعلٰیٰ تعلیم کی امید کے چراغ جلانا دارالامراء جیسے ٹھاٹھ میں سرتاپا ڈوبے بعض اراکین اسمبلی کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم عمران خان نے جہلم کے چٹیل میدانوں میں زندگی کی ہل چل مچا دی۔ ایک “پراپرٹی ٹائیکون” کہلائے جانے والے، حکمرانوں کی آنکھوں کے تارے، سے ساڑھے پانچ ارب روپے لے کربڑی، اسلامی یونیورسٹی قائم کردی۔ جہاں بھوک سے بلبلاتے لوگوں کی نئی نسلوں کو، خیرات میں نہیں، ان کا حق جان کرزیور تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلنے والی یہ یونیورسٹی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی محتاج نہیں، نہ ہی اسے فلاحی امور کی خاطر کسی “سمدھی سیاست دان” کے در وزارت کو کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ صرف زمین لی گئی تھی، اس “زمین” کیلئے، جسے شاعر مشرق نے کہا تھا،

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

اس زمین پر بحریہ ٹاؤن جیسے محل نما قلعے بنے، نہ ہارلے سٹریٹ جیسی فلک بوس، آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی عمارت۔ ان پیسوں سے غریب کی بیٹی، بیٹے کا مستقبل سنوارنے والا دینی تعلیمات کا مرکز قائم ہوا۔ مگر، راجوں، مہاراجوں جیسی زندگیاں بسرکرنے والے کب یہ برداشت کریں گے کہ کسی غریب کا بیٹا جہلم کے اس فلاحی ادارے سے آٹھ کر ان کے برابر بیٹھ جائے۔ عالمی معیار کا یہ تعلیمی ادارہ عمران خان کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ جو ٹائیکون 55 ارب ڈکار گیا، قانون اس سے سہما ہوا ہے۔ اور 5۔5 ارب روپے پر آہ و فغاں کا منظر ہے۔ ٹائیکون گھر میں کہیں سویا ہو گا مگر “فلاح کار” (عمران خان) دو ہفتے کی ضمانت پر ہے۔

75 سال میں 75 حکمران ٹائپ سیاسی ٹائیکون تو گزرے ہوں گے۔ مگر کبھی سنا کہ بھٹو مرحوم کے نام کو اونچا کرنے والا کوئی تعلیمی ادارہ بھٹو مرحوم کی خاندانی جائیداد پر بنا ہو۔ کاش! بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں کچھ چندہ بلاول بھٹو کا بھی ہوتا۔ کاش! نوازشریف سوشل سکیورٹی ہسپتال میں دو روپے نواز شریف کی پاکٹ سے بھی لگے ہوتے۔ کاش! رائے ونڈ فارم کے کسی کونے میں غریب، بے آواز بچوں کے لیے بھی کوئی ادارہ بنا دیا جاتا۔

75 برس میں دو خاندانوں کے حکمرانوں کے ناموں پر بنتے لاتعداد ادارے دیکھے۔ سب کے سب سرکار کے پیسوں سے۔

پھر بھی، جب سپریم کورٹ میں بروز جمعرات جہانگیر جیسے عدل کی گونج سنی، عمران خان کی طلبی ہوئی، تو “توپوں” کے دہانے بھی کھل گئے۔ کچھ یہاں۔ کچھ وہاں، ساحل سمندر کی طرف۔ بہت شور ہوا، مجھ پر تو خوف طاری تھا۔ لہجے میں آگ تھی، ایک ہنگامہ تھا۔ قانون کی نظروں سے پرے، سنا تھا، پولیس کے جوانوں بڑی سی گاڑی کو دیکھ کر اپنی نگاہیں چھوٹی سی گاڑی پر گاڑ لیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح قانون پوری بے رحمی کے ساتھ پورے ملک میں نافذالعمل ہے۔

ایمرجنسی کی افواہیں گردش میں ہیں۔ کیا کرے گی ایمرجنسی؟ بتائیے! کیا کر سکے گی ایمرجنسی؟  ایمرجنسی کے کئی دور دیکھ چکا ہوں۔ پچھلے ادوار میں “ایمرجنسی” کے کرتا دھرتا نے ٹیکس چوروں کو پکڑنے کے سخت احکامات دیئے۔ قانون کے رکھوالے، جو آج عدالت کے باہر ناکے لگائے بیٹھے ہیں، وہی سب سے پہلے لبرٹی مارکیٹ پہنچے۔ دو تین بڑی دکانوں والے سالانہ 50 ہزار روپے بھی ٹیکس نہیں دیتے تھے۔ملک کے حکمران ہر دور میں ہی کمزوروں پر ٹیکسوں کے تابڑ توڑ حملے کرتے رہے۔

چند سیٹھوں کو دیکھ کر “ایمرجنسی” (یعنی قانون) کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ انہیں دبوچ لیا۔ سب نے اسے زوردار دھکا دیا اور “ایمرجنسی” دور جا گری۔ کچھ سستائی، اور نئے مجرم کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی۔ اندرون سندھ میں گڈانی اور پنجاب میں راجن پور سے ڈی جی خان تک جگہ جگہ ڈاکو راج تھا۔ ایمرجنسی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ مجھے سابق آئی جی جیل خانہ سندھ، سعادت اللہ خان نے کہا تھا: ” میں ایک جیل کے دورے پر گیا۔ جیل میں کوئی قیدی افسر کی جانب رخ کرنے  کا مجاز نہیں۔ سر جھکا کر بات کرنا جیل کا وطیرہ ہے، لیکن ایک قیدی صادق گڈانی نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا، آئی جی صاحب، آپ کے سپاہیوں نے میری چپنی توڑ دی بہت درد ہے۔ آئی جی صاحب، وہ درد کیا درد ہو گی جو صادق گڈانی کو ہو رہی ہے۔” ایمرجنسی کچے کے علاقے میں پہنچی۔ ڈاکو پکے کے علاقے میں پہنچ چکے تھے۔ لیاری گینگ پر تو غیرملکی جریدے نے بھی لکھا تھا کہ کچھ ڈاکوؤں تک پہنچنے سے پہلے پولیس کو فون پہنچ چکے تھے۔

کاش! اس وقت پولیس کہہ دیتی۔۔۔۔ ہم کوئی غلام ہیں، تو آج ہم ڈاکو گیری کا شکار نہ ہوتے۔

ہر آپریشن میں چند ایک ڈاکو گرفتار ہوئے۔ باقی ہرجگہ ڈاکو راج قائم رہا۔ یہاں سے شرمسار اہل کاروں نے ملتان میں ہنو کے چھجے کا رخ کیا۔ یہاں ہیروئین مافیا کا راج تھا۔ اس علاقے کی تنگ گلیوں سے قانون کے رکھوالوں پر گرم پانی اور تیل پھینکا گیا۔ قانون کو تل دیا پکوڑوں کی طرح۔

اب ایمرجنسی میں چلنے کی ہمت تھی نہ بولنے۔ نہ ہی اپنے لمبے لمبے ہاتھ کسی سمگلر کسی رسہ گیر تک پہنچانے کی۔ کچھ دیر پھر سستایا۔ قریب میں رکشہ دکھائی دیا۔ سوچا، سیکرٹریٹ چلتے ہیں۔ رکشے میں سوار ہو گیا۔

بس، پھر کیا تھا،

رکشے میں بیٹھتے ہی تھکے ہارے قانون میں زندگی لوٹ ائی، جسم میں جھرجھری بھری، لمحہ بھر میں قانون نے رکشہ ڈرائیور کی گردن دبوچ لی۔

اور،

ایک سیاست دان کے لہجے میں غلاظتیں بولنے لگا۔۔۔۔ “تو نے پٹرول بلیک میں خریدا ہے، چل تھانے۔۔۔۔۔”

ایسے ہی ہوتا رہا تو لوگ پوچھیں گے، جناب! ایسے تو کیسے؟

صہیب مرغوب قومی صحافت کا اہم نام ہیں، 36 برس روزنامہ جنگ کے انچارج میگزین اور ایڈیٹر میگزین رہے۔ساڑھے چار برس روزنامہ دنیا کے میگزین ایڈیٹر رہے۔ ہفتہ وار میگزین میں متنوع موضوعات پر ہزاروں مضامین لکھے ۔بین الاقوامی امور اور بھارت کی سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین