Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

تازہ ترین

مسلم لیگ ن کے سیاسی مستقبل کا جوا

Published

on

وفاق میں نئی حکومت کے قیام کیلئے صدر مملکت عارف علوی کے انکار کے بعد سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو طلب کر لیا ہے۔

صدر  علوی کے قومی اسمبلی کا ایوان مکمل نہ ہونے کے جواز پر اجلاس بلانے سے انکار کیا تھا. آئین کے مطابق انتخابات کے 21 دنوں میں قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے ایک آئینی تقاضا ہے اور یہ معیاد 29 فروری کو ختم ہو رہی ہے۔

29 فروری کو ارکان اسمبلی کی حلف برداری پھر سپیکر اور ڈپٹی کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم کو چنا جائے گا۔ سابق حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان گزشتہ ہفتے حکومت سازی کیلئے باقاعدہ سمجھوتہ ہوگیا ہے، سابق حکمران اتحاد نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف وزیر اعظم کے امیدوار ہونگے جبکہ معاہدے کے تحت آصف علی زرداری صدر مملکت کے عہدے کیلئے امیدوار ہونگے۔

پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی یہ دوسری حکومت ہے اس سے پہلے یہ سیاسی جماعتیں نے 16 ماہ تک حکومت میں رہیں اور چھ ماہ کے وقفے کے بعد نئی حکومت بنا رہے ہیں۔

مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی تیسری مرتبہ اکٹھے اقتدار میں آئیں گے. پہلے 2008 میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون نے ملکر حکومت قائم کی تھی لیکن چند ماہ بعد ججز کی بحالی کے معاملے پر اختلافات ہوئے اور پھر مسلم لیگ نون نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی۔ اس کے بعد مسلم لیگ نون اپوزیشن میں بیٹھی۔

2013 میں مسلم لیگ نون حکومت میں  جبکہ پیپلز پارٹی اپوزیشن میں تھی۔ 2018 میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں اپوزیشن میں تھیں۔ پھر دونوں جماعتیں اقتدار میں حصہ دار بنیں۔

اپریل 2022 میں پی ڈی ایم کی حکومت میں پیپلز پارٹی نے وزارتیں لیں لیکن اس مرتبہ پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ میں تو شامل نہیں ہو رہی البتہ آئینی عہدے لے رہی ہے۔ نئے سیٹ اپ میں جہاں شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم بن رہے ہیں وہیں آصف علی زرداری کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوگا کہ وہ دوسری بار صدر مملکت کے منصب پر فائز ہونگے۔ 8 فروری کے نتائج کے بعد کسی بھی جماعت کو سادہ اکثریت نہیں مل سکی اورپی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے ملکر جادوئی نمبر 169 کو حاصل کر لیا ہے۔

پہلے ہی سے یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ نئی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد  قومی سطح پر ٹھہراؤ آنے کے بجائے بے چینی بڑھ جائے گی۔ آنے والے دنوں میں حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج اقتصادی حالات کا سامنا کرنا ہے۔

پیپلز پارٹی نے تمام صورت کو بھانپ لیا اور پہلے ہی وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہو رہی بلکہ صرف  مسلم لیگ نون کو ووٹ دینے کی حد تک رضا مند ہوئی ہے تاکہ حکومت قائم کی جاسکے۔ پیپلز پارٹی کی یہ سیاسی چال اس بات کو واضح کر رہی ہے وہ اقتدار کا حصہ تو بن رہی ہے لیکن کوئی ذمہ داری نہیں اٹھا رہی۔ پیپلز پارٹی کی حکمت عملی اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ انہیں اس بات کا مکمل ادرک ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت ایک پائیدار حکومت نہیں ہوگی۔ پیپلز پارٹی کیلئے 16 ماہ کی مخلوط حکومت کا تجربہ بھی سامنے ہے جو کوئی حوصلہ افزا نہیں رہا۔

ایسے میں پیپلز پارٹی نے اپنی سیاسی بصیرت کی بنیاد پر وفاقی کابینہ کا حصہ نہ بننے کا فیصلہ کیا۔اس کیساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کی نہ صرف سندھ میں حکومت قائم ہوگی بلکہ اسے بلوچستان میں بھی حکومت بنانے کا موقع ملا ہے۔

پیپلز پارٹی ہی نہیں خود مسلم لیگ نون بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ آنے والی حکومت کو کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف اس امید کیساتھ وطن واپس آئے کہ وہ چوتھی مرتبہ وزیر اعظم ہوں گے لیکن اپنی جگہ اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو اس منصب کیلئے نامزد کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کمزور حکومت کے سربراہ بننے کو ہرگز تیار نہیں۔ نواز شریف نے 9 فروری کی شام کو تقریر کی جس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ مسلم لیگ نون کو سادہ اکثریت نہیں ملی اسی لیے مسلم لیگ نون دیگر ہم خیال جماعتوں کیساتھ ملکر حکومت سازی کرے گی۔

پنجاب اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے بعد یہ کہنا مشکل نہیں ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس بھی پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے کسی طور کم ہنگامہ خیز نہیں ہوں گے۔ اس مرتبہ نہ تو راجہ ریاض اپوزیشن لیڈر ہوں گے اور نہ حکومت کے تابع اپوزیشن دیکھنے کو ملے گی۔ 8 فروری کے نتائج کی گونج قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنائی دے گی۔ اس مرتبہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار جو اب سنی اتحاد کونسل کا حصہ ہیں وہ حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے اور نئی مخلوط حکومت کا سامنا ایک مضبوط حزب اختلاف سے ہوگا۔ اب قومی اسمبلی کے اجلاس 90، 97 اور 2002 جیسے ہونگے اور حکومت کے سامنے فرینڈلی اپوزیشن نہیں ہوگی۔

مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیر میاں جاوید لطیف کے بقول مسلم لیگ نون پر حکومت ٹھونسی جا رہی ہے۔ سابق وزیر نے کہا کہ 2024 کے انتخابات کو 2018 کی طرح ڈائزین کیا گیا۔

ایسی صورت حال میں مسلم لیگ نون کو اپنے اتحادیوں کی خودشنودی قائم رکھنے کیلئے اُن کی سیاسی خواہشات کا احترام  اور ان کے مطالبات ماننے ہونگے۔ مسلم لیگ نون کیلئے اقتصادی صورت حال، مہنگائی پر قابو پانے اور آئی ایم ایف کی شرائط پر چھ بلین ڈالر کا پیکیج پر عمل درآمد ایک کڑا امتحان ہوگا۔

اُدھر امریکا نے بھی 8 فروری کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی چھان بین جلد مکمل کرنے پر زور دیا ہے۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران یہ واضح کیا کہ انتخابی بے ضابطگیوں کی جانچ جلد  مکمل ہونی چاہیے۔

نئی حکومت کو اقتصادی  سیاسی اور قانونی نوعیت کے مسائل کا  سامنا رہے گا اور ایسی صورت میں مخلوط حکومت کیلئے اپنی پانچ برس کی معیاد مکمل کرنا بالکل ایسا ہی ہوگا جیسا  انگاروں پر چلنا۔ آئندہ ماہ بننے والی حکومت کے سامنے مسائل کا اژدھا کھڑا ہوگا اور ایسے حالات میں حکومت لینا واقعی بڑا جوا کھیلنے سے کم نہیں۔ مسلم لیگ نون کی کارکردگی اس کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

Continue Reading
1 Comment

1 Comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین