Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

پاکستان

کیا ہم ابلاغ کی جنگ ہار گئے؟

Published

on

    بدھ کے روز کم و بیش ایک ماہ کی تاخیر کے بعد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے اجلاس میں سانحہ 9 مئی کے ماسٹر مائنڈ(عمران خان) کو ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پروان چڑھا کر ملک میں افراتفری پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراکر کٹہرے میں لانے کا عندیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حراست میں تشدد، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی سرگرمیوں کو روکنے جیسے الزامات کو گمراہ کن پروپگنڈہ قرار دیتے ہوئے،اِسے مسلح افواج کو بدنام کرکے معاشرے میں انتشار پیدا کرنے کی مذموم حرکت سے تعبیر کیا گیا۔

فورم نے کثرت سے جمع کیے گئے ناقابل تردید شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے انسانی حقوق کی مفروضہ خلاف ورزیوں کی سموک سکرین کے پیچھے پناہ لینے کو بے سود مساعی قرار دیتے ہوئے، 9 مئی کے دن شہداءکی یادگاروں، جناح ہاؤس اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کا آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ٹرائل کرنے کا اعادہ بھی کیا۔اگرچہ ریاستی اداروں کی جانب سے یوں بلند آہنگ عزائم کے نشور کی ضرورت ہرگز نہ تھی لیکن اولوالعزمی کا ایسا اظہار بسا اوقات ریاستی قوت کے بکھرتے تار و پود کی تشکیل نو کے لئے ناگزیر ہوتا ہے۔

فارمیشن کمانڈرز کانفرنس سے قبل بھی حکومت 9 مئی کے فسادات میں ملوث پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاون جاری رکھے ہوئے تھی،بڑے پیمانے کی تادیبی کاروائیوں کے نتیجہ میں کئی سینئر رہنماؤں نے خود کو پارٹی سے الگ کر لیا،جس طرح جہانگیر ترین نے پی ٹی آئی سے ٹوٹے ہوئے الیکٹیبلز کو اکھٹاکرکے پنجاب میں استحکام پاکستان کے نام سے نئی جماعت کی بنیاد رکھی، اسی طرح خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک بھی سرگرداں ہیں،غالب امکان یہی ہے کہ پرویز خٹک  پختون خوا میں آئی پی پی کی طرف سے وزرات اعلی کے امیدوار ہوں گے،جنگی بنیادوں پہ برپا کارروائیوں کے نتیجہ میں جس قسم کی کتربیونت جاری ہیں،کچھ بعید نہیں کہ آئی پی پی خیبرپختونخوا میں مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے۔

تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کی توضیح آسان نہیں لیکن موجودہ صورت حال کو اگر اگست 2014 میں اُٹھنے والی اُس تحریک سے جوڑ کر دیکھا جائے تو سارے مصائب انہی عوامل کی بازگشت نظر آئیں گے جس میں عدلیہ اور مقتدرہ کی تکنیکی اعانت سے خان نے ایک پنپتے ہوئے سیاسی نظام کی پٹڑی سے اتار دیا تھا، وہی جدلیات مختلف مراحل طے کرتی ہوئی سانحہ 9 مئی تک پہنچی، جب فریب خوردہ نوجوانوں نے نہ صرف تشدد اور عدم استحکام کو مہمیز دی بلکہ ادارہ جاتی انحطاط کے اس رجحان کو بھی تیزکر دیا جس سے ملک کا طویل المدتی نظام خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔علی ہذالقیاس،تمام تر دباؤاور تادیب کے باوجود اب بھی عمران خان وسیع عوامی حمایت کا حامل اوراسے بین الاقوامی سطح کی غیرمعمولی سفارتی مدد،خاص طور پہ ،یوروپ و امریکہ کی پشت پناہی کا حاصل ہے،اس لئے انہیں قانونی طریقوں سے مسخر کرنا آسان نہیں ہو گا۔

درحقیقت،ہمارا ادارہ جاتی ڈھانچہ طویل عرصہ تک عالمی نظام سے مربوط رہا،اس لئے سسٹم میں مغربی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو نظرانداز کرنا اور قومی امور کو بین الاقوامی تانوں بانوں سے الگ رکھنا محال ہو گا۔یہ بجا کہ 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان کی ساخت میں جوہری تبدیلیوں کی بدولت عالمی طاقتوں کی گرفت کچھ ڈھیلی پڑی لیکن افغانستان پہ امریکی یلغار نے ایک  بار پھر پاکستان کو گرفت میں لے کر مضمحل کر دیا۔

پچھلی دو دہائیوں میں جنگ دہشتگردی کے اتحادی ہونے کے باوجود کچھ واقعات نے امریکہ اور ہماری مقتدرہ کے مابین تعلقات کو دگرگوں رکھا۔نومبر 2001 میں پاکستان کو بتائے بغیر تورا بوار آپریشن،دسمبر2001 کی بون کانفرنس، جس میں طالبان کے سب مخالفین کو متحد کرنے کی کوشش کی گئی، اسی طرح جنوری 2011 میں ریمنڈ ڈیوس کی پراسرار گرفتاری و رہائی، 2 مئی2011 کو ایبٹ آباد میں بن لادن کی تسخیر اور 26 نومبر2011 کو سلالہ چیک پوسٹ پہ امریکی طیاروں کی بمباری جیسے واقعات باہمی اعتماد کے رشتوں کو کمزور کر گئے۔

دلچسپ امر یہ تھا کہ سلالہ حملہ کے بعد عمران خان نے دھرنا دیکر طور خم کے راستے امریکی فوج کی سپلائی روکنے کے علاوہ ڈرون حملوں کے خلاف جنوبی وزیرستان تک تاریخی لانگ مارچ کیا،خان کی امریکہ مخالف مہمات کو مغربی میڈیا میں بے مثال پذیرائی ملی،جس میں انہیں انٹی امریکہ لیڈر کے طور پہ ابھرتا دیکھا گیا۔

چین کے ساتھ سی پیک معاہدہ اصولی طور پہ 2010 میں طے پاگیا تھا لیکن بوجوہ اسے شریف حکومت تک ملتوی رکھنا پڑا،چنانچہ 2011 میں لکھے گئے حسین حقانی کے مضامین اور کوگل مین کے تجزیوں میں دہشتگردی کی جنگ میں ناکامیوں کا وبال پاکستان کے سر مڑھنے کے امریکی عزائم ظاہر ہونے لگے تھے۔کانگریس اورسینٹ کی قائمہ کمیٹوں کی رپوٹس اور امریکی عہدیداروں کے کاٹ دار جملے اس امر کے عکاس تھے کہ واشنگٹن کا غصہ بڑھ رہا ہے،امریکی اور یورپی اخبارات میں گاہے اُس پاکستانی مقتدرہ کے خلاف مضامین بھی چھپنے لگے جو کبھی مغرب کی ڈارلنگ ہوا کرتی تھی۔ 2012 میں اوباما انتظامیہ نے قطر میں طالبان کا دفتر قائم کرکے جب افغانستان سے نکلنے کا فیصلہ لیا تو اس منصوبہ پہ عمل درآمد کی خاطر 2013 میں خیبر پختونخوا میں طالبان نواز جے یو آئی کی راہ روک کر پی ٹی آئی کی حکومت بنوانے کے علاوہ نواز حکومت کو دباؤمیں رکھ کر سی پیک منصوبہ پہ عمل درآمد کی رفتار سست کرنے کے لئے عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنوں کو بروئے کار لایا گیا اور آخرکار 2017میں امریکی ایما پہ پاناما سکنڈل کی آڑ میں عدالتی فعالیت کے ذریعے نواز گورنمنٹ کا تختہ الٹ کر ایک طرف سی پیک کی راہیں مسدود اور دوسری جانب ایسے سیاسی عدم استحکام کو تحریک دی گئی جس کے نتائج آج ہمارا تعاقب کر رہے ہیں۔

عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے چند دن قبل امریکی سفیر سے ملاقات کرکے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا لیکن جنوری میں صدر ٹرمپ نے ٹویٹر پہ لکھا ” پاکستان نے ڈبل گیم کی، پچھلے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 بلین ڈالر امداد دینے کے باوجود ہمیں جھوٹ اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دیا گیا“۔امر واقعہ یہ ہے کہ جنرل ضیا الحق کی آمریت کے دوران پاک آرمی میں امریکہ مخالف نظریات کی آبیاری شروع ہو گئی تھی،1990 کی دہائی میں مذہبی جماعتوں کی احتجاجی مہمات نے عوامی سطح پہ بھی امریکہ مخالف جذبات کو بھڑکائے رکھا۔1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد امریکی پابندیوں نے پاکستان کو مزید دورکر دیا لیکن القاعدہ کی تسخیر کو جواز بنا کر افغانستان پہ امریکی جارحیت نے پاکستان کو ایک بار پھر دو راہے پہ لا کھڑا کیا۔

معروضی حالات اور مشرف آمریت کی کمزوریوں کے باعث پاکستان کو ایک ایسی جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینا پڑا جو دراصل ہماری قومی سلامتی کے خلاف لڑی جانی تھی۔تاہم دو دہائیوں پہ محیط اس جنگ کے نشیب و فراز کے دوران جب ہمارے دفاعی اداروں اور عوامی حلقوں میں امریکہ مخالف جذبات عروج کو چھو رہے تھے،عین اسی وقت ہمارے ادارہ جاتی نظام میں روایتی سیاسی قیادت سے بیزاری اور عمران خان سے وابستگی بڑھانے کی متوازی مہم بھی زوروں پہ تھی۔

عمران خان نے اپنے چار سالہ دور حکمرانی میں بھی سرکاری وسائل خرچ کرکے گلوبل لیول کے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک میں ہماری اشرافیہ،انکے خاندانی ڈھانچے اور نوخیز نسلوں کو خود سے منسلک کرنے میں غیرمعمولی مہارت دکھائی،یعنی ایک طے شدہ حکمت عملی کے تحت امریکہ مخالف جذبات کو پہلے عمران کے پیکر میں مرتکز کیا جاتا رہا اور پھر حالات کی صرف ایک کروٹ کے بعد جب عمران خان نے ہیت مقتدرہ کے خلاف پوزیشن لی تو عمران خان سے وابستہ ہماری وہ پوری نسل امریکہ کی جھولی میں گری،جسے پچھلے چالیس سالوں میں امریکیوں سے نفرت کرنا سکھایا گیا تھا اور یوں ہمارے ارباب بست و کشاد اپنے ہی سدھائے ہوئے ہاتھیوں سے پانچویں پشت کی ابلاغی جنگ ہار گئے۔

یہی وہ نفسیاتی اڑچن تھی جو ہمارے فیصلہ سازی کے سسٹم اور داخلی تضادات کو زیادہ گہرا کر گئی اور آج انہی پیچیدگیوں کا فائدہ اٹھا کر امریکہ بنیادی آزادیوں اور انسانی حقوق کے نعروں کو ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کا آلہ کار بنا رہا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے قرضوں و امداد کے ذریعے ہمیں کنٹرول کرنے اور جمہوری تشدد(جیسا 9 مئی کو ہوا)کے ذریعے فیصلہ سازی کے نظام پہ اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔اگرچہ عالمی تانوں بانوں میں الجھی 9 مئی کی بغاوت ناکام ہوئی لیکن ابھی اس کے مضمرات کو پوری طرح سمیٹا نہیں جا سکا،یہ ادھوری فتح ،جسے ابھی جنگ سے الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فاتح کا ایک قدم ہارے ہوئے دشمن کی گردن،دوسرا میدان جنگ کی کشاکش میں پھنسا ہوا ہے۔

ملک محمد اسلم اعوان سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں، افغانستان میں امریکا کی طویل جنگ کی گراؤنڈ رپورٹنگ کی، قومی سیاسی امور، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر لکھتے ہیں، افغانستان میں امریکی کی جنگ کے حوالے سے کتاب جنگ دہشتگردی، تہذیب و ثقافت اور سیاست، کے مصنف ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین