Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

عمران خان گرفتار ہونے والے ملک کے 8ویں وزیراعظم 5سیاستدان وزارت عظمیٰ سے پہلے,3 بعدمیں گرفتارہوئے

Published

on

Imran Khan arrest

عمران خان ملک کے پہلے وزیر اعظم نہیں ہیں جو گرفتار ہوئے البتہ اب وہ بھی گرفتار ہونے والے وزرائے اعظم کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں. قیام پاکستان سے اب تک آٹھ وزرا اعظم  گرفتار کیا گیا۔

ان میں سے پانچ سیاست دان وزیراعظم بننے کے بعد اور تین کو وزیراعظم منتخب ہونے سے پہلے گرفتار کیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو اورنواز شریف دونوں کی گرفتاری ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ہوئی.

نواز شریف تین مرتبہ اورذوالفقارعلی بھٹودو بارگرفتار ہوئے۔ ذوالفقارعلی بھٹوکوجنرل ضیاء الحق نے دو مرتبہ حراست میں لیا۔ نواز شریف کو پہلی بار 12 اکتوبر1999ء کو جنرل پرویزمشرف دور میں گرفتار کیا گیا اور پھر اُن کی نااہلی کے انہیں نیب کے دومختلف ریفرنسز میں 2018 میں سزا ہوئیں اورانہیں قید کاٹناپڑی۔

ملکی تاریخ پرگہری نظر ڈالی جائے تو حسین شہید سہروردی پہلے وزیر اعظم تھے جن کو گرفتار کیا گیا۔جنرل ایوب خان خان کے دورکے بدنام زمانہ قانون ایبڈو کے تحت پہلے تو حسین شہید سہروردی کو نا اہل قراردیا گیا اوران کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگائی گئی.

ملک کے پہلے گرفتار ہونے والے وزیراعظم حسین شہید سہروردی

اس کے بعد جنوری 1962 میں انہیں پابند سلاسل کردیا گیا۔ سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کی گرفتاری سکیورٹی آف پاکستان ایکٹ 1952ء کے تحت عمل میں آئی اورملک کے پانچویں وزیر اعظم کو کراچی کی جیل میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔

لگ بھگ 16 برس بعد ذوالفقارعلی بھٹو کواُن کو اُن کی حکومت کے خاتمے کے بعد ستمبر 1977 میں گرفتارکیا گیا لیکن لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس کے ایم صمدانی نے ان کی ضمانت منظور کرلی اوررہا کرنے کا حکم دے دیا، کچھ دن بعد ہی ذوالفقارعلی بھٹو کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا، اس مرتبہ انہیں احمد رضا خان قصوری کے والد محمد احمد خان قصوری کے قتل کے مقدمے میں اعانت جرم کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

جنرل ضیا کے مارشل لا میں گرفتار اور پھر سزائے موت پانے والے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو

اسی مقدمے میں پہلے لاہور ہائیکورٹ نے انہیں موت  کی سزا سنائی پھرسپریم کورٹ نے اس سزا کو برقرار رکھا۔ آخر چار اپریل 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔

22 برس بعد پھر ایک اور وزیر اعظم کو جیل بھیج دیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کو ختم کیا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ ان کیخلاف ہوائی جہاز کی ہائی جگینگ کا مقدمہ درج ہوا اور اس کیس سزا ہوئی پھر احتساب عدالت اٹک نے ہیلی کاپٹرریفرنس میں سزا سنائی۔ نواز شریف 9 دسمبر 2000 میں ایک معاہدے کے تحت اپنے خاندان کے ساتھ سعودی عرب جلاوطنی میں چلے گئے۔

دوبار ادوار میں جلاوطنی پر مجبور وزیراعظم نواز شریف، جنہیں وطن واپسی پر گرفتاری کے خدشات کا سامنا ہے

نواز شریف کو دوسری مرتبہ جولائی 2018ء میں کرپشن کے الزام میں قید کی سزا ہوئی اور پھر اسی سال کے آخر میں یعنی دسمبر میں ایک اورریفرنس میں سزا ہوئی لیکن لاہور ہائیکورٹ کے حکم پرنواز شریف کو نومبر 2019 ء میں بیرون ملک علاج کیلئے جانے کی اجازت مل گئی اور وہ ابھی لندن میں ہی مقیم ہیں.

مسلم لیگ نون کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقاں عباسی کو بھی اُن کی وزارت عظمیٰ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ نیب نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو قطر سے ایل این جی کی درآمد میں مبینہ کرپشن پرگرفتار کیا اور پھران کی ضمانت پررہائی ہوئی۔

عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کا منظر

بینظیر بھٹو، یوسف رضا گیلانی اور شہباز شریف اُن وزرائے اعظم میں شامل ہیں جنہیں وزیر اعظم بننے سے پہلے حراست میں لیا گیا۔

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بینظیر بھٹو کو اگست 1985ء میں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے بھائی شاہنواز بھٹو کی تدفین کیلئے وطن آئیں۔ انہیں دفعہ 144 کی خلاف وزری سمیت دیگر نوعیت کے الزامات میں نظر بند کیا گیا۔ایک برس بعد اگست 1986ء میں حکومت مخالف جلسہ کرنے کی پاداش میں انہیں دوبارہ حراست میں لیا گیا اور نظر بند رکھا گیا۔

بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت ختم ہونے پر نواز شریف کے دور میں کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال پربینظیر بھٹو کیخلاف کارروائی شروع کی گئی۔ احتساب کے قانون کے تحت بینظیر بھٹو اوران کے شوہر کیخلاف ریفرنس قائم کئے گئے۔ بینظیر بھٹوان مقدمات میں کبھی گرفتاری نہیں ہوئیں، البتہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک محمد قیوم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے بینظیر بھٹو کو ایک ریفرنس میں پانچ قید کی سزا سنائی۔عدالتی فیصلے کے وقت بینظیر بھٹو بیرون ملک تھیں۔ جسٹس ملک محمد قیوم کی اُس وقت کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی جس میں وہ سابق حکمران جوڑے کو سزا دینے کی بات کر رہے تھے،اسی تنازعہ پر یہ سزا ختم ہوگئی۔

محترمہ بینظیر بھٹو شہید، جو کئی بار قید و بند کی صعوبتوں اور جلاوطنی کے دکھ کے بعد لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل ہوئیں

بینظیر بھٹو کواُن شہادت سے تقریبآ ایک ماہ پہلے نومبر2007ء میں لانگ مارچ کے اعلان پر لاہورمیں نظربند کردیا گیا تھا۔سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دورمیں بینظیرکولاہورمیں سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ کی رہائشی گاہ نظر کیا گیا۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی بھی اُن وزرائے اعظم میں سے ایک ہیں جو وزیراعظم منتخب ہونے سے پہلے اپنے خلاف احتساب ریفرنس کی وجہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہ چکے ہیں.

یوسف رضا گیلانی کیخلاف ریفرنس دائر کیا گیا جس میں سپیکر قومی اسمبلی  کی حیثیت سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کو بھی وزیر اعظم بننے سے پہلے جیل یاترا کرنا پڑی، شہبازشریف احتساب ریفرنس میں جیل گئے اور پھر ضمانت پر ناصرف رہا ہوئے بلکہ ان ریفرنسرزپرکارروائی کے دوران اپوزیشن لیڈرسے وزیر اعظم بن گئے. یہ ریفرنس اب بھی احتساب عدالت میں زیر سماعت ہیں۔

عباد الحق گزشتہ 30 برس سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ آپ بی بی سی سمیت ملکی و بین الاقوامی صحافتی اداروں سے منسلک رہے ہیں جہاں آپ سیاسی و عدالتی امور کو کور کرتے رہے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین