Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

10 سال سے معذور شخص سوچ پر کنٹرول کرنے والے امپلانٹس کی مدد سے چلنے لگا

Published

on

                ہالینڈ کا ایک شہری جو دس سال سے زیادہ عرصے سے ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگنے کی وجہ سے معذور تھا اور چلنے کے قابل نہیں، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے درمیان رابطہ بحال کرنے کے والے دو امپلانٹس کی بدولت دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔

40 سالہ گیرٹ جان کا کہنا ہے کہ ان دو امپلانٹس نے اسے وہ آزادی مہیا کی ہے جو اسے دس سال سے میسر نہ تھی۔ گیرٹ جان سائیکلنگ کے دوران گرا تھا اور اسے ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ آئی تھی، اس کے بعد سے وہ معذوری کی زندگی گزار رہا تھا۔

ایک سائنسی جریدے ’ نیچر‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق گیرٹ اب نہ صرف چل پھر سکتا ہے بلکہ وہ مشکل راستوں اور سیڑھیوں پر بھی بنا لڑکھڑائے اترنے اور چڑھنے کے قابل ہے۔

یہ معجزہ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کے محققین کی ایک دہائی سے زیادہ طویل ریسرچ کا نتیجہ ہے، پچھلے سال اس ٹیم نے تین مریضوں کو چلنے کے قابل بنایا تھا،اس مقصد کے لیے ریڑھ کی ہڈی میں امپلانٹ کیا گیا تھا، جس کے ذریعے ٹانگوں کے پٹھوں کو حرکت تیز کرنے کے لیے برقی دھڑکن موصول ہوتی تھی، لیکن ان مریضوں کو ہر بار حرکت کے لیے ایک بٹن دبانے کی ضرورت پڑتی تھی۔

نئی ریسرچ میں ریڑھ کی ہڈی میں امپلانٹ کے ساتھ ایک نئی ٹیکنالوجی کو شامل کیا گیا ہے، جسے برین کمپیوٹر انٹرفیس کہا جاتا ہے، یہ دماغ کے اس حصے کے اوپر لگایا جاتا ہے جو ٹانگوں کی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے۔

ریسرچرز کا کہنا ہے کہ یہ انٹرفیس مصنوعی ذہانت کے طریقوں پر بنے الگورتھم کو رئیل ٹائم میں دماغ کی ریکارڈنگ کو ڈی کوڈ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

یہ انٹرفیس فرانس کے اٹامک انرجی کمیشن کے ریسرچرز نے تیار کیا ہے، یہ انٹرفیس مریض کو کسی بھی وقت ٹانگوں کو اس کی مرضی کے مطابق حرکت کرنے میں مدد دیتا ہے۔

ریڑھ کی ہڈی میں امپلانٹ کی گئی ڈیوائس سے ڈیٹا  ایک پورٹیبل ڈیوائس  میں ٹرانسمٹ ہوتا ہے، یہ ڈیوائس واکر یا کسی چھوٹے بیگ میں سماسکتی ہے۔

دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں ہونے والے دونوں امپلانٹ دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے درمیان منقطع رابطے کو بحال کرتے ہیں، ریسرچرز اسے ’ ڈیجیٹل پل‘ کا نام دے رہے ہیں۔ گیرٹ جان کے لیے بھی مققین نے اس ڈیجیٹل پل سے کام لیا ہے۔

گیرٹ جان کا کہنا ہے کہ اب میں وہ کرسکتا ہوں جو میں سوچتا ہوں، جب میں ایک قدم اٹھانے کا سوچتا ہوں تو اس کا ساتھ ہی ٹانگ حرکت شروع کردیتی ہے۔

ان دو امپلانٹس کے لیے گیرٹ جان کو دوبار سرجری کے عمل سے گزرنا پڑا، گیرٹ جان کا کہنا ہے کہ یہاں تک پہنچنے کے لیے ایک طویل سفر طے کیا ہے، گیرٹ کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ سادہ سی خوشی میری زندگی میں بڑی تبدیلی ہے۔

اس ریسرچ کے شریک محقق سوئٹزرلینڈ کے گریگوئیر کورٹاین کا کہنا ہے کہ جو امپلانٹ اس سے پہلے کئے گئے، یہ ان سے بنیادی طور پر مختلف ہے، اس سے پہلے جن مریضوں کا امپلانٹ کیا گیا وہ بہت محنت کے ساتھ چلتے تھے، اب کسی کو صرف قدم اٹھانے کے لیے چلنے کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے

عائشہ عمران لاہور سکول آف اکنامکس میں بی بی اے کی سٹوڈنٹ ہیں، کنیئرڈ کالج میں بھی زیرتعلیم رہیں، سائیکالوجی، میڈیا مارکیٹنگ، ڈیٹا الیسز ان کی خصوصی دلچسپی کے مضامین ہیں ۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین