Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

چین میں13ویں صدی کی تاریخی مسجد کا گنبد گرانے کی کوشش پراحتجاج، پولیس اورمظاہرین میں جھڑپیں

Published

on

چین کے جنوب مغربی صوبے یوننان کے مسلم اکثریتی قصبے میں مسجد کا گنبد گرانے کے منصوبے پر پولیس اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

سوشل میڈیا ویڈیوز میں ہفتہ کو ناگو قصبے میں 13ویں صدی کی ناجیاینگ مسجد کے باہر ہجوم کو دکھایا گیا۔ پولیس اور مقامی لوگوں کے درمیان کئی بار جھڑپیں جھڑپیں ہوئیں، مسلمان مظاہرین کو سینکڑوں مسلح اہلکاروں نے گھیر رکھا تھا۔

یوننان، جنوبی چین کا ایک نسلی لحاظ سے متنوع صوبہ ہے، جہاں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے، چین سرکاری طور پر لادین ریاست ہے اور حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی آزادی کی اجازت دیتی ہے لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں مذہب کے خلاف منظم کریک ڈاؤن میں اضافہ ہوا ہے اور بیجنگ زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ناگو میں، ناجیاینگ مسجد ایک اہم مقام رہی ہے اور حالیہ برسوں میں اس مسجد میں نئی کئی میناروں کے ساتھ توسیع کی گئی تھی۔

تاہم، 2020 کے عدالتی فیصلے نے اس توسیع کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے ہٹانے کا حکم دیا۔ تھا۔ اس حکم پر عملدرآمد کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات نے مظاہروں کو جنم دیا ہے۔

ہفتے کے روز ہونے والے مظاہروں کی ویڈیوز میں پولیس اہلکار قطار بنائے مسجد میں داخلے کا راستہ روکے کھڑے تھے اور مردوں کا ایک گروپ پولیس پر پتھر پھینک کر زبردستی اندر جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

دیگر کلپس میں دکھایا گیا کہ پولیس بعد میں پیچھے ہٹ گئی اور ہجوم نجائینگ مسجد میں داخل ہوگیa.

پولیس نے اتوار کو ایک بیان جاری کیا جس میں مظاہرین سے 6 جون تک پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا کہا گیا ہے۔

پولیس نے کہا کہ جو لوگ رضاکارانہ طور پر خلاف ورزیوں اور جرائم کا اعتراف کرتے ہیں، انہیں ہلکی یا کم سزا دی جا سکتی ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین