Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

کالم

پروجیکٹ عمران: کھیل ابھی باقی ہے!

Published

on

کون نہیں جانتا کہ عمران خان کی سیاسی جماعت کی بنیاد 27 سال پہلے رکھی گئی۔ اس عرصہ میں ہونے والے ہر الیکشن میں عمران خان کوششیں کی کہ وہ اکثریت کے ساتھ پارلیمنٹ میں جگہ بنائیں۔اسکے لیے متعدد بار انہوں نے مشرف اور مارشل لاء کی مخالفت بھی کی اور مشرف کی حمایت میں کمربستہ بھی نظر آئے۔ مشرف کے ریفرنڈم میں انہیں ووٹ دیالیکن جب مشرف نے ان سے معزرت کر کے مسلم لیگ ق کو اکثریت دلائی تو خان صاحب ان کے خلاف ہو گئے۔

افغانستان پر امریکی حملے میں پاکستان کے اتحادی بننے کے فیصلے پر پہلے عمران خان حمایت کرتے رہے لیکن گزشتہ ایک دہائی  سےوہ اس فیصلے کے ناقد ہیں۔

حالات نے عمران خان کو موقع اس وقت دیا جب2008 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت بنی، مگر ان کی ناقص کارکردگی نے اسٹیبلشمنٹ کو مایوس کیا اور انہیں کسی نئے سیاسی مہرے کی تلاش شروع ہوئی، تلاش کرنے والوں کا انتخاب عمران خان ٹھہرے اورپی ٹی آئی کو گود لے لیا گیا۔2013  میں خان صاحب حکومت بنانے کے مکمل ایمان کے ساتھ معیشت کو دوبارہ اورسیاسی ماحول کو ایک بار پھر خراب کرنے پر تُل گئے، جنرل شجاع پاشا سے لے کر جنرل ظہیر الاسلام تک اورجنرل فیض حمید سے لے کر جنرل قمر باجوہ تک سب نے پروجیکٹ عمران پر بھرپور کام کیا اور اسکے لیے تمام تر وسائل، طاقت اور ممکنات صرف کر دئیے ،2018  میں آر ٹی ایس سسٹم کو بٹھا کر پاکستان کی تاریخ کے متنازع ترین انتخابات میں کامیاب ہونے کا ریکارڈ بھی صرف عمران خان کے پاس ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کے دست راست سمجھے جانے والوں اور فصلی بٹیروں پر مشتمل ٹیم نے عمران خان کی ستائیس سالہ پارٹی کا تیہ پانچا کر دیا۔ کرپشن اور بلنڈرز کی وہ مثالیں قائم ہوئیں جنکی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

پی ٹی آئی کی حکومت نے خارجی محاذ پر پاکستان کو تنہا کیا,دوست ممالک خاص کر چین ، سعودی عرب اور یو اے ای  سے تعلقات سرد مہری کی طرف چلےگئے۔ پاکستان کی شرح نمو 1952 کے بعد پہلی بار منفی درجہ پر  چلی گئی اور کووڈ 19 کے بعد اس میں مزید گراوٹ آئی۔

پاکستان تحریک انصاف کے دور میں کرپشن 24 درجے اوپرچلی گئی اورملک میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا۔پی ٹی آئی کے خود پسند رہنما اور وزرا ذاتی تشہیر، بیان بازی اوراپوزیشن کے خلاف کرپشن کیسز بنانے میں مشغول رہے، کارکردگی پر توجہ صفر رہی،اس پرکمال یہ کہ دو صوبوں میں نکمے اور ناکارہ کارتوسوں عثمان بزداراور محمود خان کو وزیر اعلیٰ منتخب کر دیا۔

سب جانتے ہیں کہ کے پی  میں محمود خان سے پہلے پرویز خٹک پاکستان تحریک انصاف کے وزیر اعلیٰ رہے اور ان سے بہتر پرفارم کیا، لیکن صوبے میں دو گروہوں کی آپسی لڑائی کے باعث محمود خان کا انتخاب غلط فیصلہ ثابت ہوا۔ اور دوسری طرف عثمان بزدار کا انتخاب تو خود اسٹیبلشمنٹ کو ہضم نہیں ہوااور اس دورمیں کرپشن اور کک بیکس کی جو مثالیں قائم ہوئیں وہ زبان زد عام ہیں۔

پھر جاتے جاتے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی، سی پیک سے متعلق وزرا کے متنازع بیانات اور دیگرعوامل نے پاکستان کی سبکی کروائی،اس نکتے پر پہنچ کر فوج یہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اپنے ادارے کی ساکھ بھی کھوچکی ہے اور ان کا انتخاب بھی ملک کو دیوالیہ ہونے پر لے آیا ہے، اس لیے سوچوہے کھا کربلی حج کو چلی، کے موافق جاتے جاتے جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کے نیوٹرل ہونے کی نوید سنا دی۔

جانبداری ختم کرنے کا اعلان کر کے وہ تو چلتے بنے لیکن نئے آرمی چیف اور آئی ایس آئی چیف کو عمران خان جتنا متنازع بنا سکتے تھے انہوں نے بنایا، نتیجتاً فوج مکمل طور پر، خاص کر کے 9مئی کے بعد، سخت رویہ پر مجبور ہو چکی ہے، حالانکہ فوج کے اندر اب بھی عمران خان کے لیے نرم گوشہ کچھ حلقوں میں موجود ہے۔ لیکن بحثیت ادارہ اب پوری فوج کو ایک لائن پر چلنا ہے جو کہ آرمی چیف واضح کر چکے ہیں۔

پروجیکٹ عمران کا ایک اور طاقتور مددگار، عدلیہ کے روح رواں، اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار تھے, انہوں نے اس پروجیکٹ کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا، عمران خان کے لیے نئی  روایات اور خصوصی مراعات کا سلسلہ شروع ہوا جو ابھی بھی جاری ہے۔

عدلیہ میں موجود ججز کی تعیناتیاں پاکستان تحریک انصاف کے اپنے دور میں اوراس سے تھوڑا پہلے سوچ سمجھ کر کروائی گئیں،جس کا فائدہ آج بھی اٹھایا جا رہا ہے۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کرسی چھوڑنے کے بعد بھی آج تک پاکستان تحریک انصاف کے لیے لابنگ اور رہنمائی کر رہے ہیں جبکہ پچھلے چھ ماہ میں ہونے والے فیصلوں اور اسکے لیے بننے والے بنچوں پر غور کیا جائے تو وہ مسلسل 3,4  ججوں کا مجموعہ ہے جوکہ ہم خیال ہیں۔ لہٰذا اس پوری صورتحال میں اگر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ جتنی کوشش کر لے خان صاحب کو کٹہرے میں لانا اور انصاف کے تقاضے پورے کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے ، اسکی مثال انکی 9 مئی کی گرفتاری ہے، عدالتی فیصلوں کے ذریعے8 روزہ جسمانی ریمانڈ کو رہائی میں تبدیل کر دیا گیا اور انہیں کیسز میں تعاون کرنے کا کہا گیا، ۔ لیکن عمران خان نے گھر جاتے ہی نیب کو سرخ جھنڈی دکھا دی۔

کوئی ادارہ، پولیس یا حکومت عمران خان کا کچھ بگاڑنے سے قاصر نظرآرہی ہے۔ اسکی وجہ کیا ہے۔؟ اسکی وجہ پروجیکٹ عمران کا وہ تیسرا فریق ہے جوکہ پروجیکٹ عمران کا تیسرا پارٹنر تھا۔ جوکہ ابھی تک اس پروجیکٹ سے الگ نہیں ہوا یعنی عدلیہ، جب تک اس تیسرے پارٹنر سے گیم کو “disown” نہیں کروایا جائے گا تب تک پی ٹی آئی یا عمران خان کا احتساب یا انصاف ہونا مشکل ہے، چاہے آپ آرمی کورٹس بنا لیں چاہے آپ پی ٹی آئی پر بین لگا دیں۔

اسی لیے کھیل ابھی باقی ہے پی ٹی آئی، حکومت، فوج اور عدلیہ سب کے لیے۔۔۔۔۔

ثنا مرزا 2003ء سے میڈیا خصوصا صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں ایک دہائی سے زیادہ نامور ادارے جیو جنگ گروپ کاحصہ ہونےکے علاوہ وآئس آف امریکہ(واشنگٹن)، 92نیوز، 24نیوز، ریڈیو پاکستان اور متعدد ایف ایم ریڈیوز میں خدما ت انجام دے چکی ہیں

Continue Reading
1 Comment

1 Comment

  1. Asim

    مئی 29, 2023 at 12:34 شام

    بغص عمران خان میں لکھا گیا یہ کالم مرہم نواز کی ڈس انفارمیشن سیل کا حصہ ھے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین