Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

پاکستان

” بھوک سے بھی تو مر رہے ہیں” یونان کشتی حادثے میں مرنے والے گجرات کے 14 سالہ لڑکے کی دردناک داستان

Published

on

سب ٹھیک ہوجائے گا، میں اپنے بھائیوں کو پڑھاؤں گا، آپ کے لیے گھر بناوں گا، آپ کو بھوکا نہیں رہنے دوں گا، بس میرے لیے دعا کریں، پرویز اختر اپنے 14 سالہ بیٹے کے ان الفاظ یاد کر کے روتا ہے۔

ضلع گجرات کے ایک گاؤں میں ایک کمرے کے ٹوٹے پھوٹے گھر میں پرویز اختر اپنے بیٹے ابوذر کی تصویریں دیکھتا رہتا ہے، اس کے چہرے پر غم اور اداسی چھپائے نہیں چھپتی۔

ابوذر پچھلے ماہ یونان کے قریب ڈوبنے والی کشتی پر سوار تھا، وہ بہتر زندگی اور روزگار کے سپنے دیگر سیکڑوں لوگوں کے ساتھ سمندر کی لہروں کی نذر ہو گیا۔

اس کشتی پر 750 افراد سوار تھے، جن میں پاکستان، مصر، شام اور فلسطین کے شہری شامل تھے ابوذر کی لاش اب تک نہیں مل سکی۔

ابوذر کا باپ پرویز اختر سکول بس ڈرائیور ہے اور اس نے ابوذر کو بیرون ملک بھجوانے کے لیےاپنا گھر بیچ کر سمگلروں کو رقم دی تھی۔ اب پرویز اختر کو باقی تین بچوں کے مستقبل کی فکر ہے جن کے سر سے چھت تو پہلے ہی چھن چکی۔

پرویز اختر بچوں کو روکھی روٹی کھلانے پر مجبور ہے، بجلی کا بل ادا کرنے کی رقم نہیں، سب سے چھوٹا بیٹا معذور اور بستر پر ہے۔

پرویز اختر کہتا ہے مجھ سے رقم لے لو، میرا گھر لے لو، کوئی معجزہ دکھاؤ، میرا بیٹا واپس لے آؤ ، میں تمام عمر غلام بن کر رہنے کو تیار ہوں۔

مشکل فیصلہ

ابوذر ایک ذہین لڑکا تھا، 9 ویں جماعت میں پڑھتا تھا اور اچھے نمبر لیتا تھا، ٹک ٹاک پر ویڈیوز بنانے کا شوقین تھ، ابوذر 14 سال کا تھا لیکن اس سے بھی کم دکھتا تھا، ابوذر نے خاندان کا بوجھ اپنے کندھوں پر لینے کا فیصلہ کیا۔

اسے اپنے گھر کے لوگوں کی بھوک کا خیال ستاتا تھا،اسی خیال سے اس نے ترک وطن کا سوچا اور باپ سے کہا کہ یہاں بھی ہم بھوک سے تو مر ہی جائیں گے، بہتر ہے میں چلا جاؤں اور سب کی مدد کے قبل ہو جاؤں۔اپنے بھائیوں کی اچھی تعلیم کے قابل ہو جاؤں گا، معذور بھائی کا علاج کراؤں گا، گھر میں ایک کمرے کا ہی اضافہ کر لوں گا۔

آس پاس کے دیہات کے کئی جوان لڑکے خطرناک رستوں سے یورپ پہنچنے میں کامیاب رہے تھے اور گھر والوں کو ایک معقول رقم ہر ماہ بھجواتے تھے۔ابوذر نے بھی جانے کا فیصلہ کر لیا۔

سنہرے خواب

ابوذر کے سامنے دو ہی رستے تھے یا تو خاندان کو بھوکا مرتا دیکھتا یا پھر یورپ پہنچ کر روزگار تلاش کرتا، ابوذر کا ایک رشتے کا چچا بھی یورپ جا رہا تھا، ابوذر نے بھی موقع غنیمت جانا۔

ابوذر کے خاندان نے قریبی قصبے میں ایک ایک انسانی سمگلر سے رابطہ کیا، جس کا بظاہر پیشہ سنار کا ہے، اس نے کہا کہ 26 لاکھ میں لڑکا یورپ پہنچ جائے گا اور یہ رسک لینا چاہئے۔

پرویز اختر بتاتا ہے کہ جب انسانی سمگلر سے کہا کہ ہمارے پاس تو اتنی رقم نہیں ہے، اس نے کہا کہ یورپ پہنچ کر یہ اتنا کما لے گا اگر گھر ہے تو بیچ دو، کچھ برسوں تک تمہارے پاس دس گھر ہوں گے۔ یہ سن کر ہم قائل ہو گئے۔

مئی کے شروع میں ابوذر، اس کا چچا اور گاؤں کے کچھ نوعمر لڑکوں کا گروپ سفر پر نکلا، انسانی سمگلروں نے اس گروپ کے کراچی سے دبئی تک بذریعہ ہوائی جہاز لے جانے کا بندوبست کیا تھا، وہاں سے انہوں نے مصر اور لیبیا جانا تھا۔

طرابلس ایئرپورٹ سے انہیں لیبیا کے ساحلی شہر تبروک لے جایا گیا،ایک ماہ انہیں ایک کیمپ میں رکھا گیا۔ یہاں سے انہیں کشتی میں یہورپ پہنچایا جانا تھا۔

بحر اوقیانوس میں چھوٹی کشتیوں اور ٹرالرز کا یہ سفر بہت خطرناک ہے، یونیسیف کے مطابق اس سال اس راستے سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں 289 بچے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔اس کشتی پر قدم رکھنے سے پہلے تارکین وطن کے ساتھ انسانی سمگلرز کا سلوک وحشیانہ ہوتا ہے، انہیں مارا پیٹا جاتا ہے، تاوان کے لیے اغوا کا بھی خطرہ رہتا ہے،

اٹلی کے لیے کشتی میں سوار ہونے سے ایک دن پہلے ابوذر نے اپنے معذور بھائی کو ایک ویڈیو بھیجی جس میں وہ کیمرے کی طرف دیکھ کر منہ چڑا رہا اور زبان نکال رہا تھا، اس ویڈیو کا مقصد چھوٹے بھائی کے چہرے پر چند پل کے لیے مسکراہٹ لانا تھا۔

پرویز اختر کہتے ہیں وہ اس سفر کے دوران روز فون کرتا تھا اور صبح سویرے اٹھتے ہی کال کرنا اس کا معمول تھا، اس کی ۤخری فون کال 8 جون کی شام کو آئی، وہ ماں اور چھوٹے بھائیوں کے ساتھ بات کر کے بہت خوش تھا،اسے پتہ تھا کشتی کا سفر خطرناک ہے، اس نے گھر والوں سے کہا میرے لیے دعا کرنا۔

اگلی صبح اس کے دو میسج ملے جن میں لکھا تھا وہ ہمیں ایک کنٹینر میں بھر رہے ہیں اور ہمیں لے جا رہے ہیں۔

ابوذر 9 جون کو کشتی پر سوار ہوا، اس کشتی پر 100 افراد کی گنجائش تھی لیکن 750 افراد سوار کرائے گئے تھے، ان میں سے آدھے پاکستانی تھے۔

اس کشتی کے 600 مسافر 14 جون کو ڈوب گئے، بچ جانے والوں میں 12 پاکستانی تھے لیکن ابوذر ان میں نہیں تھا۔

پرویز اختر روتے ہوئے کہتے ہیں ہمارے زندگی اور جہنم ایک برابر ہے، ہم ابوذر کی آواز سننے کو ترس گئے ہیں، کوئی اپنے بچوں کو یوں نہ بھیجے، اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو کہوں گا بھوک سے مرجانا اس طرح مرنے سے بہتر ہے۔

کشتیوں کے منتظر پاکستانی

کشتی حادثے میں بچ جانے والوں کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ  پانچ دن کے سفر کے آغاز سے ہی کشتی پر حالات خراب ہونا شروع ہو گئے تھے، کشتی پر پینے کا پانی ختم تھا، خالی بوتلوں میں پیشاب بھرا تھا اور لوگ اسے پینے پر مجبور تھے، کشتی پر کھانے اور پانی کے لیے لڑائیاں ہو رہی تھیں اور لوگ بھوک پیاس سے بیہوش ہو رہے تھے بلکہ کچھ تو مر بھی گئے تھے، کشتی کے نچلے حصے میں عرتوں اور بچوں کو یوں ٹھونسا گیا تھا کہ ان کے لیے حرکت کرنا محال تھا۔

اس کشتی حادثے کے بعد بھی لوگ لیبیا اور دیگر مقامات پر کشتیوں پر سوار ہونے کے منتظر ہیں،آزاد کشمیر کی رہائشی قیوم بی بی کا کہنا ہے کہ اس کا 20 سالہ بیٹا اس بدقسمت کشتی کا مسافر تھا لیکن کشتی میں لوگ زیادہ ہونے پر اسے اتار دیا گیا، وہ اب بھی وہیں ہے اور کشتی پر سوار ہوے کا انتظار کر رہا ہے، میں نے اسے کہا کہ گھر واپس آ جاؤ لیکن وہ کہتا ہے کہ اسے یورپ  جانا ہے، دعا کرتی ہوں وہ یورپ زندہ سلامت پہنچ جائے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین