Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

پاکستان

لال قلعہ کو 1سال میں مظفرآباد کا آئیکون بنانے کا اعلان، پیر چناسی کو مارگلہ جیسا سیاحتی مقام بنانے کی تجویز

Published

on

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے مظفر آباد کشمیر میں دوروزہ ”پاکستان لٹریچر فیسٹیول“ کے دوسرے روز ”کامران لاشاری کے ساتھ گفتگو “ پر سیشن کا انعقادکیاگیا۔ سیشن کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے معروف اینکر ابصا کومل نے کہاکہ آج ہم یہاں اپنے قومی ورثہ کے بارے میں بات کریں گے، جب کوئی باہر سے آتا ہے تو ہم بڑے شوق سے اسے لاہور لے کر جاتے ہیں، کیونکہ ہمیں ہم اپنی ثقافت کی قدر کرتے ہیں، لاہور کے تاریخی ورثہ کو ہم نے سنبھال رکھا ہے اس بات کا سہرا کامران لاشاری کو جاتا ہے، کامران لاشاری نے تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا کام کرکے دکھایا۔

کامران لاشاری سے سوال کرتے ہوئے ابصا کومل نے کہاکہ اپنے ثقافتی ورثہ کو سنبھالنے کی کیا اہمیت ہوتی ہے، کامران لاشاری نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے ہاں شدید ثقافتی بحران ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے ہم اپنی ثقافت سے جڑے نہیں رہے، انہوں  نے عوام سے گزارش کرتے ہوئے کہاکہ خدارا اپنی ثقافت کی قدر کریں، کشمیر کو اللہ نے ہر طرح کی رحمت سے نوازہ ہے جہاں ہم صرف قدرت کو ہی کشید کررہے ہیں لیکن جو کلچر سائیڈ ہے اسے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، کشمیر میں سیکورٹی کی وجہ سے سیاحوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے، سیاحت ایک آزادی کا نام ہے جس پر پابندیاں لگا دی جائیں تو مزہ خراب ہوجاتا ہے چاہے وہ پابندیاں سیکورٹی کے پیش نظر ہی کیوں نہ ہوں، ہم آزادی پر بندش لگا رہے ہیں۔

کامران لاشاری نے کہاکہ مظفر آباد کی عوام کو بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے مظفر آباد لال قلعہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اگلے ایک سال کے اندر یہ مظفر آباد کا آئیکون ہوگا ، ہم سیاح دوست بنانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

کامران لاشاری نے کہاکہ ہم مظفر آباد کے پیر چناسی کو مارگلہ ہل کیوں نہیں بناسکتے، جہاں سیاح ایک جگہ بیٹھیں، کافی پئیں انجوائے کریں۔ دنیا بھر میں دریا کنارے لطف اندوز ہونے کے لیے مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے ہمارے ہاں نیلم دریا اتنا بڑا ہے لیکن ہم اس کے اطراف کو اس طرح استعمال نہیں کررہے۔ نیچر کو کس طرح ایکسپوز کرنا ہے اس کی خوبصورتی کو کیسے دنیا کے سامنے لانا ہے اس پر کام کرنا ہوگا۔

کامران لاشاری نے تنقید کرتے ہوئے  کہاکہ صرف سیاحوں کی بڑی تعداد بتا کر شیخی مارنا ٹھیک نہیں سوال یہ ہے کہ آپ کے سیاح خوش خوش واپس گئے ہیں ؟ ہر جگہ پینے کا صاف پانی، بیٹھنے کے لیے بینچ اور واش روم کی سہولت بہت ضروری ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اب تک اچھے واش روم بنانے کے متحرک نہیں ہوسکے، ہم اُمید کرتے ہیں کہ بین الاقوامی سیاح یہاں کا رخ کریں۔

کامران لاشاری نے کہاکہ مجھے بہت سارے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اونچ نیچ تو ہوتی رہتی ہے مگر سرخرو رہا، قدرت نے ہمیں اتنی خوبصورت وادیوں سے نوازا ہے لیکن ہم اس کی قدر نہیں کرپارہے، جس کے لیے ہمیں بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ساجد خان کراچی کے ابھرتے ہوئے نوجوان صحافی ہیں،جو اردو کرانیکل کے لیے ایوی ایشن،اینٹی نارکوٹکس،کوسٹ گارڈز،میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی،محکمہ موسمیات،شہری اداروں، ایف آئی اے،پاسپورٹ اینڈ امگریشن،سندھ وائلڈ لائف،ماہی گیر تنظیموں،شوبز اور فنون لطیفہ کی سرگرمیاں کور کرتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین