Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

ٹاپ سٹوریز

قرضوں کا بوجھ، ماحولیاتی تبدیلی، کل پیرس میں نئے عالمی مالیاتی معاہدے پر سربراہ اجلاس

Published

on

قرضوں کے بوجھ تلے ملک ماحولیاتی تبدیلیوں سے لڑنے کی کوششیں کرنے رہے ہیں، ایسے میں پیرس میں دنیا بھر کے لیڈر اکٹھے ہو رہے ہیں تاکہ ماحولیات کے لیے اصلاحات اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ملکوں کے لیے فنانسنگ کے مسائل کا حل تجویز کیا جا سکے۔

فرانس کے صدر عمانول ماکروں نے جہا ہے کہ نئے عالمی مالیاتی معاہدے کے لیے سربراہ اجلاس کا مقصد غربت سے نمٹنا، کاربن کے اخراج کو روکنا، ماحول کے تحفظ کے لیے مربوط عالمی اہداف کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنا ہے،اس سربراہ اجلاس کے ایجنڈے پر جہاز رانی ، فوسل فیول اور مالیاتی لین دین پر ٓٹیکسوں کے نفاذ، قرضوں کے لیے نئی طریقے، اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف) ، ورلڈ بینک کے ڈھانچے پر نظرثانی شامل ہیں۔

منگل کے روز پیرس میں شروع ہونے والی اس دو روزہ سربراہ کانفرنس میں 50 ملکوں کے سربراہ حکومت و ریاست شریک ہوں گے، یہ اجلاس آنے والے مہینوں میں بڑی معاشی و ماحولیاتی میٹنگز سے پہلے ایک آئیڈیا شیئرنگ پلیٹ فارم کا کام دے گا،فرانس کے صدر کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وہ کاربن کے اخراج پر بین الاقوامی ٹیکس پر پیشرفت کی امید رکھتے ہیں، اس ٹیکس پر اسی ماہ کے آخر میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے اجلاس میں حتمی مذاکرات ہوں گے۔

ماحولیات سے متعلق امیر ملکوں کی طرف سے وعدہ خلافیوں کے بعد ترقی پذیر ملک ٹھوش پیشرفت کے منتظر ہیں۔ ماحولیات سے متعلق وی۔20 گروپ، جو اب 58 ملکوں پر مشتمل ہے، کا کہنا ہے کہ ماحولیات سے متعلق اہداف کے حصول کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

وی۔20 ملکوں کی فنانشل ایڈوائزر سارہ جین احمد کا کہنا ہے کہ یہ اہم ہے کہ ہم عالمی مالیاتی ڈھانچے کو از سرنو تشکیل کی بات کر رہے ہیں لیکن ابھی تک اس کی ٹائم لائن طے نہیں ہو سکی جو طے ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم اس کام کو 2030 میں شروع کرتے ہیں تو یہ مزید مہنگا ہو جائے گا۔

اس اجلاس میں چین کے وزیراعظم لی کیانگ، امریکی وزیر خزانہ جینیٹ ییلن، یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان، کینیا اور گھانا کے صدور، بارباڈوس کے وزیراعظم شریک ہوں گے۔

دنیا کی معیشت کو ایک کے بعد ایک دھچکا لگا، کووڈ 19 کے بعد یوکرین جنگ، ماحولیاتی تباہی، مہنگائی، گلوبل وارمنگ سمیت کئی ایک عوامل دنیا کی معیشت پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 عالمی معاشی نظام کے لیے ’ سٹریس ٹیسٹ ‘ تھا،معاشی نظام اس ٹیسٹ میں ناکام ہوگیا، دنیا کے 52 ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔

ورلڈ بینک اگلے دس سال کے دوران اپنی قرض دینے کی صلاحیت 50 ارب ڈالر تک بڑھانا چاہتا ہے، ورلڈ بینک نے دوسل فیول کے دی جانے والی کئی ٹریلین کی سبسڈی ختم کرنے پر زور دیا ہے۔

دنیا کے امیر ملکوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے 100 ارب ڈالر سالانہ ترقی پذیر ملکوں کی مدد پر خرچ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک یہ وعدہ پورا نہیں کیا جا سکا۔ پیرس اجلاس ان امیر ملکوں کو اس وعدہ کی بھی یاددہانی ہے۔

بارباڈوس نے عالمی مالیاتی اداروں کے قرضوں کی واپسی دو سال تک مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں کے دباؤ سے نکل سکیں، اس کے علاوہ موجودہ قرضے بھی اس اجلاس کے ایجنڈے پر ہیں۔

چین بھی اس اجلاس میں توجہ کا مرکز ہوگا جو افریقی ملکوں کا سب سے بڑا قرض دہندہ بن گیا ہے لیکن ان ملکوں کے قرضوں کی ری سٹکچرنگ میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔

پچیس سال سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں، اردو کرانیکل کے ایڈیٹر ہیں، اس سے پہلے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے مختلف حیثیتوں سے منسلک رہے، خبریں گروپ میں جوائنٹ ایڈیٹر رہے، ملکی اور بین الاقوامی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں، ادب اور تاریخ سے بھی شغف ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین