ٹاپ سٹوریز

ابن خلدون، عمرانیات سمیت کئی علوم کا بانی، اصلی ’فادر آف اکنامکس‘

Published

on

عبدالرحمن ابن محمد ابن خلدون الحضرمی کو دنیا ابن خلدون کے نام سے جانتی ہے۔ آج کی دنیا میں عمرانیات یا سوشل سائنسز کا بانی مانا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ کئی ایک علوم کے بانی ہیں جن میں معاشیات بھی شامل ہے۔  آج دنیا ایڈم سمتھ کو معاشیات کا باپ کہتی ہے ۔

ابن خلدون 27 مئی 1332 ءکو تیونس میں پیدا ہوئے اور چودہ مارچ 1406ءکو مصر میں وفات پائی۔45 سال کی عمر میں1377 ء میں انہوں نے مقدمہ کے نام سے اپنی مشہور کتاب لکھی۔ کتاب عالمگیر تاریخ پر مرکوز تھی۔ کئی جدید مفکرین مقدّمہ کو ایسا پہلا علمی کام مانتے ہیں جو سماجی علوم، آبادیات اور ثقافتی تاریخ سے متعلق ہے۔ اسی مقدمہ میں انہوں نے معیشت کے بنیادی اصول بیان کئے۔ ایڈم سمتھ کی کتاب ویلتھ آف نیشنز 1776ء میں شائع ہوئی،یوں وہ ایڈم سمتھ سے370 برس پہلےمعاشیات کے اصول طے کر چکے تھے جو آج کہتے ہیں معاشیات کے بنیادی اصول ایڈم سمتھ نے دیئے ان کے کے لیےمقدمہ ابن خلدون سے چند اقتباسات پیش کئے جا رہے ہیں جن سے  رسد اور طلب، اشیا کی قدر کے اصول واضح ہوتے ہیں ۔

آج کی معیشت ڈیمانڈ اینڈ سپلائی پر منحصر ہے اور یہی بنیادی اصول مانا جاتا ہے۔ اس پر ابن خلدون نے لکھا تھا:

بازاروں میں ضرورت کی چیزیں فروخت ہوتی ہیں۔ ضرورتیںدو قسم کی ہوتی ہیں، بعض ضرورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بغیر آدمی زندہ نہیں رہ سکتا جیسے غلہ، یعنی گیہوں وغیرہ، ترکاریاں جیسے لوبیا وغیرہ۔ انہیں ہم لازمی ضرورتیں کہتے ہیں اور بعض ضرورتیں غیر لازمی ہوتی ہیں جو زندگی کو پرتعیش بناتی ہیں، جیسے چمڑے، پھل، قیمتی کپڑے، گھریلو استعمال کی چیزیں سواریاں اور دیگر اشیا تعیش۔جب شہروں میں آبادی زیادہ ہوتی ہے تو لازمی ضرورتوں کے نرخ گر جاتے ہیں یعنی اناج اور اناج کی طرح دیگر چیزیں سستی ہو جاتی ہیں، غیر لازمی ضرورتوں کے دام چڑھ جاتے ہیں اور جوں جوں آبادی کم ہوتی ہے اسی نسبت سے لازمی ضرورتوں کے دام چڑھ جاتے ہیں اور غیر لازمی ضرورتوں کے دام گر جاتے ہیں  کیونکہ انسان اناج کا کیڑا ہے بغیر اناج کے زندہ نہیں رہ سکتااس لیے اناج حاصل کرنے کے محرکات کثرت سے ابھر آتے ہیں کیونکہ ہر شخص چاہتا ہے کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی روزی ایک سال نہیں تو کم از کم ایک ماہ کی تو جمع کر لے اس لیے لازمی ضرورت کی چیزیں اکثر شہری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، خواہ اپنے شہر سے حاصل کریں یا اس  کے آس پاس رہ کر اور ہر روزی پیدا کرنے والے کی روزی اس کی اور گھر والوں کی ضرورتوں سے زیادہ ہوا کرتی ہے۔ اس سے صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ شہریوں  کی پیداوار ان کی ضرورتوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ظاہر ہے جب چیزوں کی افراط ہوگی اور ان کی مانگ کم تو لامحالہ چیزیں سستی ہوں گی ۔

دوسرا بڑا اصول لیبر تھیوری آف ویلیو ہے، اس اصول کو بھی ابن خلدون نے صراحت سے  بیان کر دیا تھا۔

زیادہ آبادی والے شہروں میں صنعت و حرفت اور اجرت زیادہ ہونے کے تین اسباب  ہیں۔

کثرت آبادی کی وجہ سے شہر میں عیش و عشرت کی فراوانی کی بنا پر لوگوں کی ضرورتوں میں اضافہ ہونا۔

مزدوروں کو شہروں میں کثرت سے مزدوریاں ملتی ہیں اس لیے وہ منہ مانگی مزدوری لیتے ہیں اور کم مزدوری پر راضی نہیں ہوتے، پیسے کی فراوانی کی وجہ سے لوگ بھی زیادہ مزدوری دینے سے نہیں ہچکچاتے۔

امراء کی کثرت ہوتی ہے اور ان کی ضرورتیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ معمولی سے معمولی کام کے لیے بھی خادم رکھنا چاہتے ہیں اور انہیں یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ کم اجرت کی وجہ سے کہیں کوئی اور اس مزدور کو نہ لے جائے اس لیے وہ زیادہ اجرت دینے پر راضی ہوجاتے ہیں۔ اس سے مزدوروں،کاریگروں اور پیشہ وروں کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور وہ سیدھے منہ بات بھی نہیں کرتے اوراجرت بڑھ جاتی ہے۔

ٹیکسوں اور معیشت میں حکومتی کردار پر ابن خلدون نے یہ صراحت کی:

چیزوں  کی قیمتوں پر ان کے عوارضات بھی کافی اثر ڈالتے ہیں۔ جیسے چنگیاں، سرکاری ٹیکس اور بازار تک مال پہنچنے کا کرایہ اور بکری ( سیلز) ٹیکس وغیرہ۔ اس لیے دیہاتوں کی نسبت شہروں میں چیزیں مہنگی ہوتی ہیں کیونکہ دیہاتوں میں چنگیاں، درآمدی وبرآمدی ٹیکس اور دیگر ٹیکس تو ہوتے نہیں،اور اگر ہوتے بھی ہیں تو برائے ہوتے ہیں لیکن شہروں میں اور خصوصا حکومت کے آخری دور میں ٹیکس بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ کبھی چیزوں کی  قیمتوں میں اضافی مصارف بھی اثر ڈالتے ہیں اور ان کا خرچہ دام بڑھا کر نکالا جاتا ہے۔

ابن خلدون کا حقیقی رتبہ کئی مغربی ماہرین معاشیات نے تسلیم بھی کیا اور ایڈم سمتھ کو معاشیات کا بانی قرار دیا جانا تسلیم نہیں کیا، ایسے ہی ایک ماہر معیشت جوزف شمپیٹر ہیں ، جو آسٹرین ماہر معشت تھے، 1919ء میں جرمن آسٹریا کے وزیر خزانہ رہے اور پھر 1932 ء میں ترک وطن کر کے امریکا چلے گئے اور ہارورڈ میں پروفیسر تعینات ہوئے اور تادم مرگ ہارورڈ میں استاد رہے۔

جوزف شمپیٹر کہتے ہیں:

معاشیات کے شعبہ میں ایڈم سمتھ کو معاشیات کا باپ قرار دیا جانے سے میں اتفاق نہیں کرتا۔ ایڈم سمتھ ان عظیم فلسفیوں میں سے تھے جنہوں نے معاشیات کے شعبہ میں پہلے سے موجود نظریات کو جمع کر کے انہیں نئے انداز سے پیش کیا۔ابن خلدون ہی تھے جنہوں نے معاشی فکر کے متعدد شعبوں میں اصل نظریات کی بنیاد رکھی۔انتخاب کی آزادی کا معاشی فلسفہ بھی ابن خلدون نے پیش کیا لیکن اس کا کریڈٹ ایڈم سمتھ کو دے دیا گیا۔ معاشی لبرل ازم ، فرد کی معاشی آزادی کے جو تصورات ایڈم سمتھ  سے منسوب ہیں، حیرت انگیز طور پر ابن خلدون کے نظریات سے بہت زیادہ مماثل ہیں۔ ایڈم سمتھ نے کبھی ابن خلدون کا حوالہ نہیں دیا لیکن کوئی نہ کوئی ایسے ذرائع رہے ہوں گے جن سے ایڈم سمتھ ابن خلدون کے نظریات سے واقف ہوا۔

جوزف شمپیٹر کا کہنا ہے کہ ابن خلدون نے معاشیات میں اس قدر کام کیا اور ایسا ورثہ چھوڑا جو تاریخ میں اس سے پہلے نہیں ملتا۔ ابن خلدون نے قدر اور اس کامحنت سے تعلق، سرمائے کے ارتکاز اور اس کی وجہ سے خاندانوں کے عروج و زوال کا تجزیہ،طلب، رسد، منافع  کی حرکیات کے بارےمیں اس کا تصور، ٹیکسوں سے متعلق ان کا قابل قدر نظریہ اور دیگر معاشی مضامین ان کی بے مثال خدمات ہیں، معاشیات کا باپ، ابن خلدون کو کہا جانا  چاہئے۔

3 Comments

  1. lbjOqPafzTd

    اپریل 19, 2024 at 10:13 صبح

    FuEqrQOHXY

  2. ojerqZfBpTV

    اپریل 22, 2024 at 2:57 صبح

    IbEKYcBDthiuXsNj

  3. uZNWQEVkDYO

    جون 3, 2024 at 5:06 شام

    KHjpwuIZTlP

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین

Exit mobile version