Urdu Chronicle

Urdu Chronicle

پاکستان

کشمیر مسئلہ نہیں صنعت ہے، دونوں طرف کے حکمرانوں کا روزگار لگا ہوا ہے، لٹریچر فیسٹیول مظفر آباد کے پہلے دن کی روداد

Published

on

پاکستان لٹریچر فیسٹیول مظفر آباد کے تیسرے سیشن” کشمیر کا ثقافتی ورثہ ” سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ کشمیر کی تہذیب و ثقافت خطہ کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے۔جموں کشمیر کے لوگوں نے ہمیشہ سے علم کی پوجا کی ہے، شاردہ اس کی واضح نشانی ہے۔ پینل میں ڈاکٹر رخسانہ خان نے کہا کہ 2011میں میں نے تحقیق شروع کی اس میں آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان موازنہ کیا گیا۔ زلزلہ میں دونوں جانب بہت نقصان ہوا۔اس وقت ورثہ کو محفوظ نہیں کر سکے۔

عبدالغنی نے کہا کہ کشمیر ہماری دھرتی ماں ہے، شادرہ سولازیش کا نام لیتے ہیں تو پورے کشمیر کی بات کرتے ہیں۔آج دنیا میں جو ٹیچر ڈے بنتا ہے اس کا آغاز شاردہ سے ہوا۔تہذیب ایک دن میں نہیں بنتی۔ڈاکٹر شاکراللہ نے کہا کہ ورثہ کا تعلق پوری کمیونٹی سے تعلق ہے۔ہزارہ اور کشمیر کی ایک تہذیب و ثقافت تھی جس کا تعلق گندھارہ تہذیب و تمدن سے تعلق سے تھا۔ڈاکٹر صبانے کہاکہ زبانوں کو محفوظ کرنے کی بھی ضرورت ہے کیوں کہ جو زبانیں تین نسلوں تک نہ بولی جائیں وہ ختم ہو جاتی ہیں۔

چوتھے سیشن “کشمیر سے سرگوشی” میں معروف شاعر و ادیب محمد یامین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی زمین اور لینڈ اسکیپ بھی میرا ہے اس لیے یہ میرے خون میں ہے۔ شاعر کی پہلا تعلق اپنی زمین سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ شاعری کسی حادثہ کی محتاج نہیں ہوتی۔یہ فن ہے فن فنا نہیں بلکہ بقا کی طرف جاتا ہے ۔

پانچویں سیشن “کشمیر کا مزاحمتی ادب” میں علامہ جواد جعفری،اکرم سہل،اسلم رضا خواجہ نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ادیبوں نے مزاحمتی ادب تخلیق کرنے کا حق ادا نہیں کیا۔ادب میں مزاحمت کا لفظ پہلی مرتبہ فلسطین میں استعمال ہوا۔کشمیری شعراءنے بھی مزاحمتی ادب تخلیق کیا۔ انہوں نے کہا کہ بادشاہوں کی دربار میں پروان چڑھنے والا ادب اور مزاحمتی ادب الگ الگ ہے۔ ترقی پسند تحریک سے مزاحمتی ادب کی روایت شروع ہوئی،وہ شاعری مظلوم کے حق اور ظالم کے خلاف ہو مزاحمتی ادب کہلاتا ہے۔۔حبہ خاتون کشمیر میں مزاحمتی ادب کی موجد ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ادیب اپنے اپنے طور پر مزاحمتی ادب تخلیق کر رہے ہیں

) چھٹے سیشن میں کتابوں کی رونمائی کی گئی، جس میں امجد ممتازکی کتاب ”ادھوری کہانیاں(افسانے)“،توصیف خواجہ کی کتاب ”رات چلتی ہے (شاعری) “، ڈاکٹر صغیر خان کی کتاب ”اندراں داپینڈا (پہاڑی ناول)“، عابد محمود عابد کی کتاب ”ارمغان“ کی رونمائی کی گئی،

ساتویں سیشن ”کشمیری عورت کا سفر“ خطاب کرتے ہوئے معروف دانشور نورالہدیٰ شاہ نے کہاکہ یہاں کے لوگ خوش قسمت ہیں کہ ان کی زمین کے ساتھ آزاد کشمیر لگا ہوا ہے جو خوش قسمتی کے علاوہ کچھ بھی نہیں، کسی بھی شخص کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کا ہم وطن، ہم زبان رو رہا ہو اور اس کی آنکھوں میں آنسوبھی نہ ہوں تو پھر سکون اور چین کیسے ممکن ہوسکتا ہے، کشمیر کے اس پار کی خواتین بہت بہادر ہیں اور وہ مزاحمت کررہی ہیں، ان کو اس خوف میں باہر آنا پڑ رہا ہے کہ ان کے بچے زندہ رہ پائیں گے یا نہیں، بدقسمتی سے ہماری تاریخ کو ہم سے چھین لیاگیا اور ہمارے اصل ہیرو تاریخ سے گم کردیے گئے لہٰذا یہاں لوگوں کو معلوم تک نہیں کہ ماضی میں کن کن لوگوں نے کیا جدوجہد کی اور کون ہیرو ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہیے، انہوں نے کہاکہ کشمیر کی خواتین نے ہتھیار بھی اٹھائے اور یہ مزاحمت کی انتہا ہے، ہمیں اپنے اپنے محفوظ مقام سے باہر نکل کر ان ماﺅں کے لیے آواز اٹھانی چاہیے جنہوں نے پاکستان بنانے کے لیے 27رمضان کو سری نگر میں بڑے اجتماع میں خوشی منائی تھی۔

جسٹس (ر) ناصرہ اقبال نے کہاکہ کشمیر کی خواتین کی بہادری کی کوئی مثال نہیں ملتی، خواتین کو بااختیار بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جو کام کیا اس کو آگے بڑھایا جائے، کشمیری خواتین کی خصوصی کاوش ہے کہ 27رمضان کو پاکستان وجود میں آیا انہوں نے علامہ اقبال کا کشمیر کے حوالے سے شعر بھی پڑھ کر سنایا۔

آٹھویں سیشن ”رحمان فارس سے گفتگو“ میں پاکستان کے معروف شاعر رحمن فارس نے کہاکہ آرٹس کونسل کراچی کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کشمیر کی وادی میں یہ میلہ سجایا ہے، رحمن فارس نے کہا کہ میری شاعری کا سفر تب شروع ہوا جب مجھے توازن اور آہنگ کا بنیادی ادراک ہوا، ترتیب اور ردھم اور توازن بنیادی اساس ہے، ردھم اگر سروں میں ہوںتو ایک اچھا گیت سامنے آتا ہے۔انہوں نے کہاکہ عصری شعور میں سوشل میڈیا کے منفی اور مثبت رجحانات ہیں، مثبت رجحانات یہ ہیں کہ سوشل میڈیا کی بدولت ہمارے شعر دور دراز کے علاقوں میں پھیل چکے ہیں ، منفی پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے ہمیں بے صبرا بنا دیا ہے، معاشرے کا صبر سکڑتا جارہا ہے۔

اہم ترین سیشن ”مسئلہ کشمیر میں میڈیا کا کردار“ میں پاکستان کے نامور صحافیوں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا جس کے اثرات میڈیا پر بھی پڑتے ہیں، آخری دنوں میں علی گیلانی کے ساتھ کچھ اختلاف کے باعث مسائل پیدا ہوئے جبکہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ کے زمانے میں کشمیر کے حوالے سے جو پالیسی تھی وہ آج نہیں ہے۔

 معروف صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے کہاکہ 5اگست کا واقعہ اچانک نہیں ہوا، میڈیا پر یہ الزام ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرنے میں رکاوٹ ہے، انہوں نے کہاکہ کشمیری نوجوانوں میں شعور ہے ان کے مسئلہ کو کوئی بھی ہائی جیک نہیں کرسکتا لیکن ان میں اتحاد نہیں، ان کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہیے۔

 مظہر عباس نے کہاکہ کشمیری میڈیا کشمیر کیا پاکستان کی خبر شائع نہیں کرتا یہ قانون ہے کہ سچ اتنا ہی بولو جتنا کہا جائے۔

 وسعت اللہ خان نے کہاکہ کشمیر مسئلہ نہیں ایک صنعت ہے اس سے کشمیر کمیٹی ،آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے حکمرانوں کا روزگار لگا ہوا ہے، کشمیر کا ہمارا ایسا بیانیہ ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔

طارق نقاش نے کہاکہ ہم پاکستانی میڈیا سے کیا شکایت کریں آزاد کشمیر کے سیاستدان اور حکمران مسئلہ کشمیر سے دور چلے گئے، یہاں کی سیاسی جماعتیں اپنی مرکزی لیڈرشپ کے استقبال کے لیے ہزاروں لوگ جمع کرلیتی ہے لیکن مسئلہ کشمیر پر 20 آدمی بھی جمع نہیں ہوتے۔

عارف بہار نے کہاکہ کشمیری نوجوانوں نے پاکستان اور پاکستانی میڈیا سے شکایت کرنا ہی چھوڑ دی ہے، ان کو معلوم ہے کہ اپنے بازو کے زور پر انڈیا کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔

 وحید اقبال بٹ نے کہاکہ سوشل میڈیا نے پاکستانی میڈیا کے کردار کوبے نقاب کردیا اور اب پاکستانی میڈیا پر کوئی اعتبار نہیں کرتا، ہم اپنی خبر خود ہی لکھتے اور خود ہی پڑھتے ہیں، کے ایچ خورشید نے متبادل پیش کرنے کی کوشش کی لیکن اس کو مانا نہیں گیا۔

دو روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے پہلے روز کا اختتام مشاعرہ پر ہوا جس کی صدارت معروف شاعر عباس تابش نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر اور احمد عطاءاللہ نے کی، مشاعرے میں محبوب ظفر، فواد حسن فواد، عمیر نجمی، رحمن فارس، ڈاکٹر آمنہ بہار، ابراہیم گل، محمد یامین، اسرار ایوب، پروفیسر اعجاز نعمانی، سید شہباز گردیزی، ذوالفقار اسد، جاوید الحسن، جاوید سحر، شوزیب کاشر، رازاحتشام، حق نواز مغل کے علاوہ دیگر شعراءنے خوبصورت کلام پیش کیے ، اس موقع پر سامعین کی بڑی تعداد ہال میں موجود تھی جنہوں نے تالیاں بجا کر شعراءکے کلام کی خوب داد دی۔

ساجد خان کراچی کے ابھرتے ہوئے نوجوان صحافی ہیں،جو اردو کرانیکل کے لیے ایوی ایشن،اینٹی نارکوٹکس،کوسٹ گارڈز،میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی،محکمہ موسمیات،شہری اداروں، ایف آئی اے،پاسپورٹ اینڈ امگریشن،سندھ وائلڈ لائف،ماہی گیر تنظیموں،شوبز اور فنون لطیفہ کی سرگرمیاں کور کرتے ہیں۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مقبول ترین